|

وقتِ اشاعت :   December 22 – 2016

کوئٹہ : بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں نے جماعۃالدعوۃ کی دفاع اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت افغانستان میں قائم قونصل خانوں کے ذریعہ بلوچستان کا امن تباہ کر رہا ہے۔مشرقی پاکستان کی طرح بلوچستان کو علیحدہ کرنے کی سب سازشیں دم توڑ چکی ہیں۔آئندہ چند برسوں میں یہاں کے حالات بد ل جائیں گے۔ بلوچستان کے عوام غیرت مند اور زندہ قوم کی علامت ہیں۔ہمیں بیرونی مداخلت کو ختم اوردوسروں پر انحصار کرنا بند کرنا ہوگا۔ سیاست اور مفادات نہیں کلمہ طیبہ کی بنیاد پر اتحاد قائم کرنا ہوگا۔کشمیر اور شام میں خون بہانے والے اپنے اپنے علاقوں میں چلے جائیں ۔بھارت کشمیر میں کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ انڈیا کشمیر سے اپنی فوج نکال لے! تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی سے انڈیا کا ٹکڑوں میں تقسیم ہونا یقینی ہے۔ سی پیک منصوبہ کی کامیابی سے بلوچستان سمیت پورے پاکستان کو بڑی قوت ملے گی۔بلوچستان میں واٹر پروجیکٹس کی تکمیل اوردیگر رفاہی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ بلوچ عوام کی محرومیوں کے ازالہ کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ان خیالا ت کا اظہار امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید،شاہ زین بگٹی،مولانا عبدالقادر لونی،میر ظفر اللہ خان شاہوانی،نجیب ترین، راز محمد لونی، سعید آغا شاہ، راہ محمد اودزئی، قاری یعقوب شیخ، مولانا عبدالکبیر شاکر، حافظ عبدالرؤف،حاجی عبدالہادی کاکڑ، مولانا مفتی عبدالواحد، محمد اشفاق ودیگر نے پشین سٹاپ پر ہونے والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں شہر اور گردونواح سے طلباء، وکلاء، تاجروں اور قوم پرست جماعتوں کے کارکنان سمیت تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر لیڈروں کی طرف سے حافظ محمد سعید کا شاندار استقبال کیا گیا اور انہیں روایتی پگڑی پہنائی گئی۔ جماعۃالدعوۃ کی طرف سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ شرکاء کی طرف سے حافظ محمد سعید سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ اور حافظ محمد سعید قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ کے زوردار نعرے لگائے جاتے رہے۔ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ بلوچستان کے حالات انڈیا کی مداخلت سے خراب ہو ئے۔ آج اجیت دوول یہ کہتا ہے کہ ہم نے مشرقی پاکستان کے بعد بلوچستان کو نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کو توڑنے کیلئے کی جانے والی سب سازشیں دم توڑ رہی ہیں۔ آئندہ چند برسوں میں بلوچستان کے حالات بدل جائیں گے۔انڈیا کو میرے بلوچستان آنے پر بہت پریشانی ہو رہی ہے۔ بھارتی میڈیا چیخ رہا ہے کہ حافظ محمد سعید بلوچستان پہنچ گیا ہے۔ انہیں پریشانی یہ ہے کہ برصغیر میں اسلام مکران کے راستے داخل ہوا۔ آج ہم یہاں پر موجو د ہیں۔جب مسلمان یہاں آئے تو انہوں نے یہاں پر بتوں کی پوجا اور ظلم ختم کر کے انصاف قائم کیا اور یہاں پراللہ کا نظام قائم کیا۔انگریزوں اور ہندؤں نے مسلمانوں کے خلاف سازشوں کی آگ بھڑکائی۔بھارت امریکہ کے سہارے پر سازشیں کر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری ساری جماعتیں ایک ہیں ہم سب ایک کلمہ طیبہ کی وجہ سے اکٹھے ہیں۔میں لا الہ الا اللہ کی دعوت آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں ۔ہم نے کلمے کی بنیادپر اتحاد قائم کرنا ہے۔یہ اتحاد ہی سب سے زیادہ اور مضبوط ہے اس کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔سیاست اور مفادات کی بنیاد پر اتحاد نہیں ۔ہم نے یہ اتحاد پورے پاکستان میں قائم کرنا اور انڈیا کی سازشوں کو ناکام کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے مسائل بہت زیادہ ہیں۔نبی اکرم ﷺ کی آمد سے قبل بھی قتل و غارت گری ، لڑائی جھگڑے موجود تھے۔ میں سب سیاسی جماعتوں کے لیڈروں سے کہتا ہوں کہ اگر آپ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں تو یہ امریکہ یا واشنگٹن حل نہیں کرے گا بلکہ امت کے مسائل کا حل اسلام اور شریعت میں ہے۔امریکہ میں کالے اور گورے کی جنگ،نسلی فسادات ،طبقات کی تقسیم اس طرح کے بہت مسائل ہیں۔امریکہ اس سے زیادہ مسائل میں گھرنے والا ہے۔آج اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے لوگوں کو انصاف دینے میں ناکام ہو چکے ہیں۔جیسے رسول اکرم ﷺ نے مدینے کی ریاست میں عدل و انصاف قائم کر کے ایک نمونہ پیش کیا ہمیں بھی اسی نہج پر کام کرنا ہو گا۔ہمارے یہ سارے مسئلے،جھگڑے ختم اورامن و انصاف قائم ہو جائے گا۔ بلوچستان کے لوگوں نے ہمیں جتنی محبت دی میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔حافظ محمد سعید نے کہاکہ افغانستان میں بیٹھے ہوئے درندوں نے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا۔انڈیا کو امریکہ کی شہ حاصل ہے۔ہم امریکہ کو سپر پاور نہیں مانتے۔ہمارے پاس محمدی ورلڈ آرڈر موجود ہے۔ہم امریکی ورلڈآرڈر کا حصہ نہیں بن سکتے۔اسلام آباد والو اللہ سے معافی مانگ لو۔ہم سی پیک کی مکمل حمایت کرتے ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ پاکستان میں اسلام کا نظام قائم کرو۔جہاں جہاں اسلام قائم ہو گا وہاں امن قائم اور سندھ ، بلوچستان سب کے مسائل حل ہو جائیں گے۔جمہوری وطن پارٹی کے سربراہٍ نوابزادہ شاہ زین بگٹی نے کہاکہ بلوچستان کے لوگ پاکستان کے وفادار ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم فوج کیخلاف ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہم افواج پاکستان کے ساتھ ہیں۔ نواب اکبر بگٹی کو جب شہید کیا گیا تو اس کے بعد حالات بدلے۔ یہ پرویز مشرف کی غلطی تھی۔ اس ملک کی حفاظت کیلئے ہم ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ میں حافظ محمد سعید اور ان کی جماعت کو ڈیرہ بگٹی آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ نواب میر ظفر اللہ خان شاہوانی نے کہاکہ کشمیر،شام ،فلسطین ،برما میں مسلمانوں پر مظالم ٖڈھائے جا رہے ہیں ۔لوگوں کو ان مظالم کے بارے میں آگاہ کرنے پر حافظ محمد سعید کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔کشمیر میں ہمارے بچوں کو مارا جاتا ہے۔ہندوستان نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔کفار مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے اکٹھے ہیں۔پاکستان کی سلامتی،استحکام اور امن قائم کرنے کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے ۔بلوچستان کی پوری عوام حافظ محمد سعید کے ساتھ ہے۔ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنا ہو گا۔پاکستان اور بلوچستان ہمارا ہے ہم اس کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں گے۔ جمیعت علمائے اسلام نظریاتی کے مرکزی رہنمامولاناعبدالقادر لونی نے کہاکہ بلوچستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ ہیں‘ یہاں انڈیا قدم جمانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا چاہے وہ جو کچھ بھی کر لے۔ادھر بارڈر پر پشتون قوم موجود ہے۔اگر انڈیانے میلی نگاہ ڈالی تواس کی آنکھیں نکال لیں گے۔نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے چیئرمین قاری یعقوب شیخ نے کہاکہ ہمیں بلوچستان اور یہاں کے لوگوں سے اس لئے محبت ہے کہ یہاں کے لوگوں نے اسلام و پاکستان کیلئے قربانیاں پیش کیں۔ یہ علاقہ محرومیوں کا مرکز بن چکا ہے لیکن بلوچ عوام کے جذبات اور حب الوطنی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔جب ہم اکٹھے ہو ں گے تو ہمارے مسائل حل ہوں گے۔بلوچستان کا صوبہ پاکستان کا محسن صوبہ ہے۔بیرونی قوتیں بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنا چاہتی ہیں۔ شاہ زین بگٹی نے حافظ محمد سعید کو یقین دلایا کہ ہم ہر محاذ پر آپ کے ساتھ ہیں۔فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے چیئرمین حافظ عبدالرؤف نے کہاکہ بلوچستان کا ہر فرد پاکستان سے محبت کرتا ہے۔بلوچ عوام پاکستان کے خلاف نہیں ان کے کچھ شکوے ہیں۔بلوچستان میں آج بھی ایسی جگہیں موجود ہیں جہاں بجلی،پانی،ہسپتال،تعلیم اور زندگی گزارنے کی بنیادی سہیولیات سے محرو م ہیں۔بلوچستان کے مسائل کا واحد حل اسی میں ہے کہ اس کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے لوگوں نے پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کیا اور پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔ہم بلوچستان کے ہر علاقے میں رفاہی پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں۔یہاں کے لوگوں کی محرومیوں کو درو کریں گے اور جہاں تک ہو سکا ان کی خدمت کریں گے۔ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالکبیر شاکرنے کہاکہ کوئٹہ کے ان حالات میں دفاع اسلام کانفرنس بلوچستان کے لوگوں کے زخموں پر مرہم ہے۔اسلام ، ہر پاکستان کے دفاع کی خاطر ہماری جماعت آپ کے ساتھ ہے۔ہمیں تعلیم ، سیاست اورمیدان میں دشمن کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ہمیں قبائلی،علاقائی،مسلکی تعصب سے نکل کر امت اور وطن عزیز کے دفاع کے لیے اکٹھا ہونا ہو گا۔صرف اتحاد ہی ہمارے مسائل کا حل ہے۔انہوں نے کہاکہ میں حافظ محمد سعید کو اپنی اور اپنی جماعت کی طرف سے کوئٹہ آنے پر خوش آمدید کہتا ہوں۔جمعیت علماء اسلام (س)کے رہنما مولانا مفتی عبدالواحدنے کہاکہ اسلام کارشتہ خون سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔جس طرح کفار ایک صف میں ہیں اسی طرح ہمیں بھی اکٹھے ہونا ہو گا۔ہمارا قرآن بھی ہماری یہ ہی رہنمائی کرتا ہے۔