خضدار : وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے ضلع خضدار کے زمینداروں کے لئے آنے ولا زرعی پیکج آ سمان سے گرا کھجور میں اٹکا ضلع خضدار کے دور دراز علاقوں آڑینجی ، سارونہ گاج کو لاچی کھیر تر و دیگر دور دراز علاقوں سے آنے والے زمیندار کئی دنوں سے خضدار شہر میں بے یارو مدد گار پھر رہے ہیں متاثرین نے خضدار کے صحافیوں کو بتایا کہ ان کو اگر مطلوبہ رقم نہیں دیا گیا تو قومی شاہراہ پر غیر معینہ مدت کے لئے دہرنہ دیں گے اگر اس کے با وجود انصاف نہیں ملا تو ضلعی سیکٹریٹ میں خود سوزی کرنے پر غور کریں گے متا ثرین نے بتا یا کہ ڈی سی آفس خضدار سے ان کو نادرا آفس سے فنگر پرنٹ ٹوکن لے آنے کا کہا جاتا ہے جبکہ نادر آفس کا متعلقہ عملہ مبنیہ طور پر ان سے ٹوکن دینے کے لئے اپنا حصہ طلب کرتا ہے یوں درجنوں غریب مسکین افراد روزانہ کبھی ڈی سی آفس تو کبھی نادر آفس کا چکر لگاتے ہیں جو مطلوبہ حصہ دینے کی ضمانت دیتے ہیں ان کو نادرا آفس سے ٹوکن ملجاتا ہے جو یقین دلا نہیں پاتے ہیں وہ دفاتر کا روزانہ چکر کاٹ کر مایوس لوٹ جاتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے ضلع خضدار کے غریب زمینداروں کے لئے ایک خصوصی پیکج کے تحت 25 سے 30 ہزار روپیہ کا اعلان کیا گیا تھا یہ رقم کئی ماہ انتظار کرنے کے بعد ڈپٹی کمشنر خضدار پہنچ گیا لیکن رقم کے وصولی کے لئے پالیسی کے تحت نادرا آفس سے فنگر فرنٹ ٹو کن لانا ضروری قرار دیا گیا ہے گذشتہ روز خضدار کے صحافیوں کو ضلع دفاتر میں موجود درجنوں زمینداروں بتایا کہ ان کو علاقہ کے تحصیلدار اور نائب تحصیل داروں کے ذریعہ خوش خبری ملی تھی کہ آپ لوگوں کے لئے 25 ہزار روپیہ وزیر اعظم کے پیکج جت تحت آئے لیکن یہاں آنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس رقم کی وصولی جوے شیر لانے کے مترادف ہے مولہ سے آنے والے نور محمد نے صحافیوں کو بتا کہ وہ گذشتہ دس دن سے اس رقم کی وصولی کے لئے خضدار آئے ہیں وہ روزانہ دفاتر کا چکر لگاتے ہیں ان کو کسی بھی طرح صحیح رہنمائی نہیں مل پاتی آج کل کرکے میر ے دس دن ضائع کردیا گیا ہے اب وہ اس رقم کی وصولی سے توبہ کرکے واپس جارہے ہیں وہاں پر موجود ایک 70 سالہ شخص ثناء اللہ نے بتا یا کہ کہ وہ کھیر تر سے آئے ہوئے ہیں ان کو آئے ہوئے پانچ دن ہوئے ہیں ان کو روازنہ دوسرے دن آنے کا کہا جا تا ہے وہاں پر موجود ایک اور شخص نے بتایا کہ ان کی آمد کے 12 دن ہوگئے ہیں روزانہ کی بنیاد یہاں آتے ہیں اور متعلقہ عملہ کی وجہ سے مایوس لوٹ جاتے ہیں متعلقہ افراد نے وزیر اعلی ٰ بلوچستان وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس عذاب سے نجات دلائیں بصور ت دیگر وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے کراچی چمن قومی شاہراہ پر غیر معنیہ مدت کے لئے دہرنا بھی دیں گے ۔