|

وقتِ اشاعت :   March 4 – 2017

سبی: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء و سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے آئین کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مردم شماری کو یقینی بنایا جائے ،سیاست انبیاء کی سنت جبکہ ہمارئے لیے عبادت ہے،سیاست کو منفاقت ،عداوت اور تجارت کے ساتھ منسلک کرنا حرام ہے ،موجودہ سیاستدانوں کو سیاست کے لغوی معنی سے بھی نا آشنا ہیں،حکمران سی پیک کا افتتاح روڈ سے کرتے ہیں،قومی داخلی اور سلامتی پالیسی موجودہ حکومت نے اکثریت سے منظور کی ہے،ملک کے دشمن سرحدوں پر نہیں بلکہ ملک کے اندر موجود ہیں،20نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ کرنا تاریخی غلطی ہے،فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے دستاویزات پر مولانا فضل الرحمن کے دستخط موجود ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے کہا کہ سبی میں سردار نوراحمد بنگلزئی کی رہائش گاہ پرصحافیوں سے بات چیت میں کیااس موقع پر بنگلزئی قبائل کے سربراہ سردار نوراحمد بنگلزئی،سابق صوبائی وزیر حاجی نواز خان،سابق صوبائی وزیر عین اللہ شمس ،سابق صوبائی وزیر مولوی عطااللہ لانگو،پروفیسر حافظ عبدالحئی ،ملک آزاد بنگلزئی ،ملک اکرم بنگلزئی،جمیل کھوسہ،ملک سومر خان بنگلزئی و دیگر بھی موجود تھے انہوں نے کہاکہ مردم شماری آئینی تقاضہ ہے جسے پورا کرنسا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ مردم شماری ہی کے ذریعے ہم اپنے آئینی حقوق وفاق سے لے سکتے ہیں اور مردم شماری کے بغیر ہم اپنا بجٹ بھی نہیں بنا سکتے ہیں انہوں نے کہا سیاست انبیاء کرام کی سنت ہے جسے ہم عبادت سمجھتے ہیں لیکن بد قسمتی کے ساتھ ہمارئے ملک کے سیاست دان سیاست کے لغوی معنوں سے بھی ناآشنا ہیں اور ہمارئے یہاں سیاست کو منفاقت عداوت اور تجارت کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے سیسات کو اگر زبان رنگ نسل قومیت اور نفرت کی بنیاد پر فروغ دیا جاتا ہے تو ہم ایسی سیاست کے مخالف ہیں انہوں نے سی پیک سے صوبے میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرئے گا لیکن ہمارئے حکمران جہاں سڑک کا افتتاح کرتے ہیں اسے سی پیک کا نام دیتے ہیں صرف سرخوں کی تعمیر سے ترقی نہیں آئے گی بلکہ اس کے لیے دیگر اقدامات بھی اٹھانے چاہیے انہوں نے کہا کہ اگر حکمران 20نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتے تو ردالفساد کی ضرورت نہیں پڑتی انہوں نے کہا کہ ہمارا دشمن سرحدوں پر نہیں بلکہ ملک کے اندر موجود ہے جو ہماری صفوں میں رہ کر ہماری جڑیں کاٹ رہا ہے انہوں نے کہا کہ آپریشن ردالفساد ہماری قومی سلامتی کی پالیسی کا حصہ ہے جسے حکومت نے اکثریتی رائے کے ساتھ منظور کیا ہے انہوں نے کہا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے حوالے سے ھکومتی فیصلے سے قبل حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں نے دستاویزات پر دستخط کیئے تھے جس میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے دستخط موجود ہیں انہون نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے دستاویزات میں تین آپشن تھے جس میں پہلا فاٹا کو الگ صوبہ قرار دینا دوسرا فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنا جبکہ تیسرا آپشن فاٹا کی موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنا شامل تھا لیکن حکومت نے شامل جماعتوں کی اکثریتی رائے کے بعد فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کیا گیا ہے ۔