کوئٹہ : سول اکاؤنٹس ایسوسی ایشن اکاؤنٹنٹ جنرل بلوچستان کے رہنماء حیدر لہڑی سمیت دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ اے جی بلوچستان اسٹاف کی یہ ترجیح ہے کہ بلوچستان کے تمام ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ ہر ضلع کے سرکاری ملازمین کو پنشن ‘ جی پی فنڈ ‘ پے سلپ ‘ پری آڈٹ ‘ پے فکسیشن کی سہولیات ان کی دہلیز پر مہیا کی جاسکیں لیکن خزانہ سٹاف ایسوسی ایشن کی لاعلمی کی وجہ سے بلوچستان کے ملازمین کو ان سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے جو صوبہ کے ملازمین کیساتھ ناانصافی ہے یہ انہوں نے پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کی شق نمبر 168 تا 171 کے تحت ایڈیٹر جنرل آف پاکستان کو صوبائی اور وفاقی محکموں کے اکاؤنٹس اور آڈٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے 2001ء میں سی جی اے آرڈیننس جاری کیا گیا ہے جس کے تحت تمام فنگشن سی جی اے کو منتقل ہو چکے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان حکومت کی جانب سے موجودہ خزانہ آفس کو ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس میں منتقل کرنے پر اکاؤنٹنٹ کو کوئی اعتراز یا مسئلہ درپیش نہیں لیکن متعلقہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس میں آئین کی روح سے نمائندگی نہ دینا اکاؤنٹنٹ جنرل سٹاف کی حق تلفی ہے جبکہ سی جی اے آرڈیننس 2001ء کے سیکشن 5 کے تحت پری آڈٹ کا قانونی فنگشن سی جی اے کے زیراختیار ہے اور پری آڈٹ کا فنگشن نہ تو آڈیٹر جنرل پاکستان نے اور نہ ہی سی جی اے نے صوبائی حکومتوں کو تفویض کیا ہے پاکستان کے دیگر تین صوبوں میں محکمہ فنانس اور اے جی کے 50 پچاس فیصد نمائندے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس میں کام کررہے ہیں اس متفقہ فیصلے کی وجہ سے وہاں پر کوئی مسئلہ درپیش نہیں اس لئے بلوچستان حکومت خود کو دوسرے صوبوں سے مختلف نہ سمجھے اور تمام ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسز میں 50 پچاس فیصد سٹاف کی تعیناتی اور خزانہ سٹاف کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خزانہ سٹاف ایسوسی ایشن کی آئین اور اے جی کے اختیارات سے لاعلمی کی وجہ سے بلوچستان کے اضلاع میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسز کا قیام عمل میں نہیں لایاجارہا اور خزانہ سٹاف ایسوسی ایشن غیرآئینی طورپر چاہتی ہے کہ صوبہ کے تمام اضلاع میں پنشن ‘ جی پی فنڈ ‘ پے سلپ ‘ پری آڈٹ ‘ پے فکسیشن کی اے جی کے اسٹاف کی بجائے خزانہ کے اسٹاف کو منتقل کئے جائیں جو کہ پاکستان کے آئین اور سی جی اے آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے اس لئے ہمیں تمام ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفسس کا قیام عمل میں لاکر ملازمین کو سہولیات فراہم کرنی ہیں ۔