
اس موقع پر جامعہ بلوچستان کی بلوچی فولک میوزک کا باقائدہ طور پر افتتاح بھی کیا گیا جامعہ بلوچستان میں ہی طلباء تنظمیوں کی جانب سے بلوچ کلچر ڈے پر تقریبات منعقدہ کی گئیں تھیں ۔صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز احمد بگٹی کاکوئٹہ کے مقامی مال سینٹر میں بلوچ کلچر ڈے کے حوالے سے منعقدہ تقریبمیں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں اپنی ثقافت کلچر اور رسم ورواج کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش کررہے ہیں زندہ قومیں ہی اپنی ثقافت کلچر اور رسم ورواج کا پرچار کرتی ہیں جو قومیں اپنی ثقافت اور رسم ورواج کو بھول جاتی ہے وہ ترقی نہیں کرسکتی.


مچھ میں بھی بلوچ کلچر ڈے انتہائی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا نوجوانوں بچوں بچیوں نے بلوچی لباس زیب تن کیے تھے اور ڈھول کی تاپ پر بلوچی چاپ کیا مچھ میں دفعہ 144کی نفاذ کیوجہ سے بلوچی کلچر ڈے پر ریلی نہیں نکالی جاسکی اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچ کلچر ثقافت تہذیب تمدن روایات ہمیں بھائی چارگی رواداری کی درس دیتی ہے بلوچ تہذیب انتہائی قدیم تہذیبوں میں شمار کیا جاتا ہے دنیا ہمارے تہذیب پر تحقیق کررہے ہیں تقریبات میں بچے بچیوں اور نوجوانوں نے بلوچی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔ نوشکی شہر میں بلوچ کلچر ڈے کی مرکزی تقریبات بابائے نوشکی کرکٹ گراؤنڈ میں بلوچ کلچر کمیٹی اور بی این پی کے زیراہتمام میونسپل کمیٹی کے سبزہ زار میں بھرپور وروایتی اندازمیں منایا گیاشہید صفی اللہ ایف سی سکول وکالج ،گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج،ایلیمنٹری کالج میں کلچر ڈے کے مناسبت سے تقریبات کا انعقاد کیاگیا تھا جہاں بلوچ کلچر کو اجاگر کرنے کے علاوہ بلوچی رہن سہن کے چیزیں بھی نمائش کے لئے رکھی گئی تھیں طلباء وطالبات نے بلوچی لباس زیب تن کئے ہوئے تھے اس موقع پر بلوچی کلچر کا اہم حصہ ڈھول کے تاپ پر بھرپورانداز میں چاپ بھی کیا گیا،جبکہ خواتین اور بچوں نے بھی اس دن کو خوب جوش وخروش کے ساتھ منایا ،بابائے کرکٹ گراؤنڈ میں بلوچ کلچر ڈے کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیاگیاتھا،جہاں کثیر تعداد میں نوجوانوں اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے شرکت کی،تقریبات کا آغاز بلوچ قومی ترانہ سے کیا گیاسکول کے بچوں نے ٹیبلو اور مختلف ثقافتی تقریبات پیش کئے بلوچی دیوان کا انعقاد بھی کیا گیا تھا جس میں مقامی گلوکاروں اور شعرا ء نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔نوکنڈی میں بلوچ کلچر ڈے پرتقریبات کا آغاز علی الصبح ہوئی جو بعد از دوپہرکو اختتام پذیر ہوئے تقریبا ت سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچ قوم ایک بہادر نسل سے تعلق رکھتاہے جسکی تاریخ اور ثقافت صدیوں سالوں پہ محیط ہے جیسے ہرحال میں زندہ رکھنا ہے اس موقع پر منچلے نوجوانوں اور قبائلی معتبرین اور سرداروں نے ڈھول کی تاپ پر بلوچی رقص کیابلوچ گلوکاروں نے خو بصورت میوزیکل پروگرام پیش کرکے ثقافتی دن کی خوبصورتی کو دوبالا کیا بلوچ قوم کی ثقافتی دن کی خوشیوں میں کمانڈنٹ تفتان رائفلز کرنل کاشف اعجاز چوہدری اور کرنل قمر نے بھی شرکت کی۔۔کوہلومیں بلوچ کلچر ڈے کے حوالے سے ایف سی کینٹ میں تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا تقریب میں ضلعی آفیسران قبائلی رہنماؤں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچ ایک زندہ بہادر قوم ہے جس کی تاریخ بہت وسیع ہے بلوچی ثقافت تمام قوموں اور صوبوں پر ہاوی ہے اگر بلوچ قوم کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بلوچ قوم کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں کوہلو قدرتی دولت سے مالا مال ہے تقریب میں مختلف قسم کے ٹیبلوں پیش کئے گئے بلوچی چاپ نے تقریب کو چار چاند لگادیئے قبائلی عمائدین اور شہریوں نے کثیر تعداد میں بلوچی لباس زیب تن کئے ہوئے تھے تقریب میں بلوچی ثقا فت کی مناسبت سے مختلف اسٹال لگائے گئے تھے جس میں بلوچی دستکاری اوربلوچی ثقافت کے عکس کو ظاہر کیا گیا شہریوں نے میوند رائفلز کی اس کاوش کو سراہا ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں بھی بلوچ یوم ثقافت بھر پور طریقے سے منائی گیاایف سی ہیڈ کوارٹر ڈیرہ بگٹی میں منعقدہ تقریب کے مہمان خاص کماندنٹ بمبور رائفلز کرنل ندیم بشیر تھے اس موقع پر سیاسی و قبائلی عمائدین اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی تقریب میں ایف سی پبلک اور دیگر اسکولوں کے بچوں نے بلوچ ثقافت کے وہ رنگ بکھیر ے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے اس موقع پر نہ صرف ثقافتی رنگ چھلکے بلکہ روایتی بلوچی موسیقی نے بھی دیکھنے اور سننے والوں کو اپنے حصار میں رکھا، تقریب میں قبائلی اور سیاسی عمائدین نے تاریخی بلوچ ثقافت پر روشنی ڈالی تقریب کے مہمان خصوصی کماندنٹ بمبور رائفلز کرنل ندیم بشیرنے بلوچ ثقافت اور تاریخ کو پاکستان کے لئے قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک وقوم کے ترقی و خوشحالی کے لئے بلوچ عوام کے کردار کو لاحق تحسین ہے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسہ نے پاکستان اور بلوچستان کو لازم و ملزوم قرار دیتے ان کا کہنا تھا کہ کلچر ڈے پر تقریب دشمن کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ ہم نہ صرف ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں بلکہ ہر قبیلہ ایک دوسرے کی ثقافت اور تاریخ کو بھی اپنی تاریخ اور ثقافت سمجھ کر اس پر فخر کرتا ہے تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی اور قبائلی عمائدین نے پرفارمنس پیش کرنے والے بچوں اور شہریوں میں انعامات تقسیم کئے۔۔ سوئی میں ایف سی کے زیر اہتمام بلوچ ثقافتی میلے کا انعقاد کیا گیاتھا میلے میں سول و عسکری حکام کے علاوہ قبائلی عمائدین اور عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی اس موقع پر میلے میں بلوچ ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے مختلف قسم کے اسٹال اور روایتی کھیلوں اونٹ دوڑ گھڑ دوڑ کے علاوہ رسہ کشی کے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا تھااور جیتنے والے کو انعامات دیئے گئے میلے میں بلوچی چھاپ کو حاضرین نے خوب سراہا سیکٹر کمانڈر ایسٹ بریگیڈیئر امجد ستی میر عطااللہ کلپر میر جان محمد مسوری میاں خان موندرانی بشیر اللہ کلپر کرنل سرناز میجر معراج سمیت معززین نے بلوچی چھاپ میں حصہ لیا معروف گلوکار سبز علی بگٹی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ سروز نواز استاد سچو نے اپنے فن کا مظاہرہ کر کے حاضرین سے داد سمیٹی تقریب سے مہمان خصوصی بریگیڈیئر امجد علی ستی کا خطاب کیا۔ صوبہ بھر کی طرح وندر میں بھی بلوچ کلچر ڈے جوش جذبے سے منایا گیا اس موقع پر دھول کی تاپ پر رقص اور بازار کا گشت کیا گیا نیشل پارٹی اور بی ایس او(پجار) کی جانب سے یوم ثقافت منایا گیا دھول کی تپ پر نوجوانوں نے روایتی بلوچ رقص کیا اور ایک ریلی کی شکل میں بازار کا گشت کرتے ہوئے وندر اسپورٹس گراؤنڈ میں ایک جلسہ منعقدہ کاگیا جس سے مقرین کا کہنا تھا کہ ہر قوم کی پہچان اسکی ثقافت ہوتی ہے اور ہم اس قوم سے ہیں جس کی ثقافت دنیا کی مشہور ترین ثقافت ہے ہمیں یہ ایک عظیم تحفہ مفت میں ملا ہے جس کی حفاظت ہمارا فرض ہے بلوچ قوم ایک بہادر اور خدمت کرنے والی قوم ہے۔ 2 مارچ کلچر ڈے کی اہمیت و افادیتکا حامل دن ہے اسی دن بلوچ قوم یوم ثقافت مناتی ہے بلوچ کلچر کی تاریخ ہزاروں سالوں پر محیط ہے بلوچ قوم ہزاروں سالوں سے اپنی زبان ، ثقافت ، مثبت روایات ، اقدار کی حفاظت کیلئے جدوجہد کرتی آرہی ہے اورآج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زبان و ثقافت کی جہد کو پروان چڑھائیں ہماری ثقافت ہماری پہچان ہے بلوچوں کی تین بڑی زبانیں بلوچی ، براہوئی ، کھیترانی ہیں جن کی ترقی و ترویج کیلئے مثبت کردار ادا کرنا چاہئے جو قومیں اپنی ثقافت ، زبان کو نظر انداز کرتے ہیں تاریخ سے ان وجود مٹ جاتا ہے ہمیں اپنے زبان و ثقافت کے فروغ کیلئے جدوجہد کرنی چاہئے صوبائی حکومت نے02 مارچ کوکلچر کے نام سے منسوب کردیا ہے اور گمان ہے کہ ہر سال اس دن کی مناسبت سے سرکاری خرچہ پر تقریبات کا اہتمام کیا جائیگا بلوچ ایک زندہ بہادر قوم ہے جس کی تاریخ بہت وسیع ہے بلوچی ثقافت تمام قوموں اور صوبوں پر ہاوی ہے بلوچ ثقافت کی بقاء کیلئے اب تک نہ جانے کتنے بلوچوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں کلچر صرف اور صرف لباس اور ثقافتی چیزوں تک نہیں اس میں ہماری روایات بھی شامل ہیں بلوچ قوم روایات کی پُختہ ہے اسکی روایات ہیں اگر قاتل گھر میڑ ھ لیکر آجائے تو اسکو معاف کردیا جاتا ہے اور اگر بدلہ لینے پر آجائیں تو آخری حد تک جاتے ہیں توقع پر ہماری آنے والی نسل اپنی ثقافت اور بقاء کی حفاظت بھر پور انداز میں کریگی۔