جماعت اسلامی خواتین بلوچستان کی نائب ناظمہ شبانہ انجم ،شازیہ عبداللہ ،روبینہ علی ودیگر کا اس دن کی مناسبت سے کہنا تھا کہ عورت کو اسلام نے عزت و تکریم کا مرتبہ دیا ہے اسے بازار کی زینت بنانے والے عورت کے خیر خواہ نہیں ، اس کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اسلام نے بہن بیٹی اور ماں کی حیثیت سے عورت کو جو بلند مرتبہ عطا کیا ہے اس کا تحفظ کریں گے خواتین کے حقوق صرف کاغذوں میں موجود ہیں عملی دنیا میں یہ حقوق نظر نہیں آتے غریب ماں باپ اپنے بچوں سمیت اجتماعی خودکشیاں کررہے ہیں ،ملک پر ایک ظالمانہ استحصالی اور طبقاتی نظام مسلط ہے جماعت اسلامی حکومت میں آکر خواتین کیلئے تعلیم اور صحت کے علیحدہ ادارے قائم کرے گی ،بچوں کی طرح بچیوں کی تعلیم بھی لازمی ہوگی اور ہم ان شاء اللہ شرح خواندگی کو سوفیصد تک پہنچائیں گے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی خاران کی سرگرم رکن بی بی شازیہ شیر نوشیروانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے خواتین سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بی این پی کے جدوجہد میں مزید اپنی کردار مثبت انداز میں جاری وساری رکھیں بلوچستان کی تمام تر حقوق سردار اختر جان مینگل کی قیادت سے ممکن ہے۔ نیشنل پارٹی چاغی کے زیر اہتمام 8مارچ عالمی خواتین ڈے منایاگیا جس کے مہمان خاص نیشنل پارٹی کے ضلعی خواتین سیکرٹری رضیہ ناز بلوچ تھیں اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ 8مارچ خواتین کاعالمی دن ہیں، خواتین کے حقوق تحفظ اور اس کی اہمیت کا احساس دلایت ہے ،دین اسلام نے خواتین کو جو عزت مرتبہ دیا ہے وہ کسی دوسرے مذہب میں اس کا تصور نہیں کرسکتا، دین اسلام کا احسان عظیم ہے کہ اس نے عورت کو انسانیت کیلئے بھلائی اور اولین تربیت گاہ کادرجہ دیا ہے، عورت درحقیقت وہ عظیم ہستی ہے جو معاشرے کی پرورش وتربیت کرتی ہے، نیشنل پارٹی نے ہمیشہ خواتین کی حقوق کی بات کی ہے اور ہمارے بحیثیت ایک بلوچ خواتین اور بحیثیت ممبر نیشنل پارٹی کے کہ ہم خواتین کی حقوق اور جدوجہدکو گھر گھر پہنچائیں ۔
بی این پی خواتین ونگ کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن پر تقریب کاانعقاد کیاگیا تھا خواتین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ بی این پی وہ واحد پارٹی ہیں جو کہ خواتین کے حق حقوق بلوچستان میں خواتین کے مسائل حل کر کے اپنا قومی فریضہ ادا کرے گی پاک وائس کے زیر اہتمام گوادر میں خواتین کے عالمی دن کے مناسبت سے منعقدہ تقریب سے مقررین کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ معاشرے میں خواتین کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ، کوئی بھی معاشرہ ، ملک اور گھر خواتین کی کردار کے بغیر نامکمل ہیں ، اسلام نے خواتین کو پورے حقوق دیئے ہیں ، خواتین ان حقوق کو استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں اپنا کردار ادار کریں اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ کوئٹہ میں منعقد ہ تقریب سے ممتاز دانشور ڈاکٹر شاہ محمد مری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے راجی اور رواجی پہلوؤں سے دیکھا جائے تو ہمارے خطہ کی عورت کو اس کے باوقار کردار کا اس کی معاشرتی بے بسی کو آج تک سمجھا ہی نہیں گیا۔ ہمارے ہاں عورت ہی نہیں بلکہ مرد بھی اپنے روایتی سانچے میں بے بس اور کمزور رہا ہے۔ ہماری تاریخ کو عورت مرد کی تقسیم سے بالاتر ہوکر دیکھنا ہوگا۔ ہماری تاریخی تصویر کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ عورت کی حیثیت اور اہلیت کو اس طرح کی رسمی باتوں میں پوری طرح واضح نہیں کیا جاسکتا۔ ہم آج سارے ادب میں عورت کے اظہار کے پہلوؤں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدرحاجی علی مدد جتک ،جنرل سیکرٹری سید اقبال شاہ اور سیکرٹری اطلاعات سردارسربلند جوگیزئی کا اس دن پر جاری بیان میں کہنا ہے کہ خواتین کو معاشی،سماجی اور سیاسی طور پر قو می دھارے میں شامل کئے بغیر ملکی ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ،خواتین کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرنا اور انہیں کسی امتیاز کے بغیر یکساں مواقع فراہم کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے خواتین کے لئے برابر کے حقوق سب سے بنیادی انسانی حقوق ہیں پیپلز پارٹی خواتین سے تعصب برتنے کی کسی کو ہرگز اجازت نہیں دے گی ہماری لیڈر شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے خواتین کے حقوق کی جدوجہد کی قیادت کی اور پارٹی پاکستان کی خواتین کو اس بات کا یقین لاتی ہے کہ استحصال اور تعصب کے خاتمے کے لئے ان کی ہر جدوجہد کی حمایت کرتی ہے۔ خواتین ہمارے معاشرے کا نصف سے زائد ہیں لہذا سماجی اور معاشی ترقی کے عمل میں ان کی بھرپور شرکت ناگزیر ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کی اراکین شکیلہ نوید دہوار ، جمیلہ بلوچ کا اس دن کی مناسبت سے کہنا تھا کہ اکیسویں صدی میں بھی خواتین مسائل سے دوچار اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی خواتین کو گھر میں بیٹھا دیا جاتا ہے اسی تعلیم کی بدولت خواتین معاشرے میں شعور اجاگر کر سکتی ہیں خواتین کو بھی ملک کی ترقی کیلئے اپنا حصہ ڈالنا چاہئے ملک کی آبادی خواتین پر مشتمل ہے ہمیں خواتین کے جملہ مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ معاشرے کی نصف آبادی سے بھی زائد خواتین کی آبادی ہے بلوچستان کے معاشرہ جو تعلیمی حوالے سے پسماندہ ، قبائلی ، نیم فرسودہ جاگیردارانہ رشتوں کی وجہ سے ماؤں ، بہنوں کو سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں دن بہ دن خواتین کے حقوق کو بری طرح سے پامال کیا جارہا ہے۔ عام عورت کو انصاف ، ریلیف اور تحفظ ملنے کی بجائے ان پر مصائب کا سلسلہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے، گزشتہ دس سالوں میں خواتین کے خلاف جرائم میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے ہزاروں خواتین اغوا، اجتماعی زیادتی ، غیرت کے نام پر قتل ، آگ سے زندہ جلانا، تیزاب پھینکنے اور چولہا پھٹنے سے ہلاکت جیسے کسی نہ کسی ایک سنگین جرم کا نشانہ بنتی جارہی ہیں ، خواتین پر وحشیانہ تشدد کرکے ناک بال کاٹ دینا ، کپڑے پھاڑ دینا ، سڑکوں پر گھسیٹنا ، زنجیرون میں جکڑ کر تشدد کا نشانہ بنانا اور ویران علاقے اور سڑک کنارے پھینک دینا شامل ہیں۔ اسی طرح خاندانی جھگڑوں اور جہیز کم لانے پر خواتین کو آگ اور تیزاب سے جلایا جاتا ہے ، خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے، قتل کی ان بھیانک وارداتوں کو سندھ میں کاروکاری ، بلوچستان میں سیاہ کاری ، پنجاب میں کالا کالی اور خیبر پختونخوا میں تورتورا کا نام دیا جاتا ہے ۔اسی طرح مردوں کی غلطیوں کو سزا ، جرگہ اور پنچائیت ، ونی اور سوارہ جیسی قبیح رسوم کے زریعے عورتوں کو تختہ مشق بناتی ہے جبکہ ان کی خاندان کی ونی کردی گئی لڑکی تمام عمر ظلم کی چکی میں پستی ہے ۔بعض اوقات یہ لڑکیاں اپنی پیدائش سے قبل ہی اس رسم کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں ، یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت اور سپریم کورٹ کے فل بینچ نے غیرت کے نام پر قتل ، ونی اور سوارہ جیسی رسوم کو اسلام اور تہذیب کے خلاف قرار دے کر انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے حکومتی سطح پر قانون سازی بھی کی گئی ہے ، قومی اسمبلی اور سینیٹ اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں مگر افسوس آج بھی ان قبیح رسومات پر عمل ہورہا ہے پاکستان میں دیہی خواتین خوفناک حد تک ، غربت ،احساس محرومی ، ناخواندگی، اور خرابی صحت کا شکار ہیں ، ملک کی 45%عورتوں کو صحت کی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں اور علاج کی مناسب سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے سالانہ تین ہزار خواتین زچگی کے دوران موت کا شکار ہوجاتی ہیں ۔ عام دیہاتی عورت زندگی کے ہاتھوں لاچار اور مجبور ہوکر بیماری ، جہالت ، استحصال اور ذلت کی گہری تاریکیوں میں ڈوبتی چلی جارہی ہے موجودہ اور گزشتہ حکومتوں نے خواتین کی ترقی و بہبود کے لیے وزارت بھی قائم کی ، قومی و صوبائی سطح پر ادارے فعال ہیں جو ہیلپ لائن پر ایک کال پر خواتین کی مدد کے لیے موجود ہیں ، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی صورت میں خواتین کی صحت و تندرستی پر وسائل خرچ کئے جارہے ہیں خواتین کا بنک اور ویمن پولیس سٹیشن قائم ہیں ، حقوق نسواں بل کی بدولت ہزاروں خواتین جو حدود آرڈیننس اور دیگر مقدمات کے تحت تھانوں اور جیلوں میں بند تھیں ان کو رہا کیا گیا ، نیز عدالتی قانونی مفت فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں ، نکاح اور طلاق کے حوالے سے بھی یونین کونسل کی سطح پر آگاہی فراہم کی جارہی ہے حکومتی قرضوں کی فراہمی میں بھی خواتین کو مساوی حقوق حاصل ہوچکے ہیں تاکہ وہ اپنی آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کے قابل ہوسکیں مگر ان اقدامات کے باوجود بت حوا کا استحصال جاری ہیں کیونکہ تعلیم نسواں پر توجہ نہیں دی جارہی ، ہرگاؤں شہر اور قصبے میں سکول تو قائم ہیں مگر لڑکیوں کی حاضری حکومتی سطح پر یقینی بنانے کے لیے کوئی مناسب اقدامات نہیں کیے گئے ، قانون سازی کی گئی ،ادارے بنائے گئے مگر خواتین کی ان تک رسائی مشکل ہے اسلئے حکومت کو چاہیے کہ ضلع اورتحصیل کے سطح پر متاثرہ خواتین کے لیے ہر علاقے میں سینٹرز قائم کیے جائیں جو متاثرہ خواتین کو فوری انصاف امداد اور شیلٹر فراہم کریں ، موجودہ حکومت خواتین کے تحفظ ، فراہمی انصاف تعلیم اور ان کے دیگر مسائل کا ادراک تو رکھتی ہے مگر خواتین کے مساوی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں ہمارے مذہب اسلام نے خواتین کو بہت سے حقوق دیئے ہیں لیکن عملی سطح پر مذہب سے ناواقفیت کی بناء پر مردوں نے عورتوں کو وہ حقوق اور درجہ دینے سے انکار کررکھا ہے ، اسلام عورت کو معاشرے میں جو مقام عطا کرتا ہے عورت اس سے زیادہ کی متمنی نہیں ، انہی حقوق کی ادائیگی کا حکم جمہوریت بھی دیتی ہے اس لیے جب تک خواتین کا استحصال ، عدم مساوات ، نا انصافی ، تشدد کو ختم نہیں کیا جاتا پاکستان کی ترقی ممکن نہیں ہے۔
سماجی معاشی اور برابری کا رتبہ آخر کب۔۔۔۔۔۔۔؟
![]()
وقتِ اشاعت : March 17 – 2017
جماعت اسلامی خواتین بلوچستان کی نائب ناظمہ شبانہ انجم ،شازیہ عبداللہ ،روبینہ علی ودیگر کا اس دن کی مناسبت سے کہنا تھا کہ عورت کو اسلام نے عزت و تکریم کا مرتبہ دیا ہے اسے بازار کی زینت بنانے والے عورت کے خیر خواہ نہیں ، اس کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اسلام نے بہن بیٹی اور ماں کی حیثیت سے عورت کو جو بلند مرتبہ عطا کیا ہے اس کا تحفظ کریں گے خواتین کے حقوق صرف کاغذوں میں موجود ہیں عملی دنیا میں یہ حقوق نظر نہیں آتے غریب ماں باپ اپنے بچوں سمیت اجتماعی خودکشیاں کررہے ہیں ،ملک پر ایک ظالمانہ استحصالی اور طبقاتی نظام مسلط ہے جماعت اسلامی حکومت میں آکر خواتین کیلئے تعلیم اور صحت کے علیحدہ ادارے قائم کرے گی ،بچوں کی طرح بچیوں کی تعلیم بھی لازمی ہوگی اور ہم ان شاء اللہ شرح خواندگی کو سوفیصد تک پہنچائیں گے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی خاران کی سرگرم رکن بی بی شازیہ شیر نوشیروانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے خواتین سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بی این پی کے جدوجہد میں مزید اپنی کردار مثبت انداز میں جاری وساری رکھیں بلوچستان کی تمام تر حقوق سردار اختر جان مینگل کی قیادت سے ممکن ہے۔ نیشنل پارٹی چاغی کے زیر اہتمام 8مارچ عالمی خواتین ڈے منایاگیا جس کے مہمان خاص نیشنل پارٹی کے ضلعی خواتین سیکرٹری رضیہ ناز بلوچ تھیں اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ 8مارچ خواتین کاعالمی دن ہیں، خواتین کے حقوق تحفظ اور اس کی اہمیت کا احساس دلایت ہے ،دین اسلام نے خواتین کو جو عزت مرتبہ دیا ہے وہ کسی دوسرے مذہب میں اس کا تصور نہیں کرسکتا، دین اسلام کا احسان عظیم ہے کہ اس نے عورت کو انسانیت کیلئے بھلائی اور اولین تربیت گاہ کادرجہ دیا ہے، عورت درحقیقت وہ عظیم ہستی ہے جو معاشرے کی پرورش وتربیت کرتی ہے، نیشنل پارٹی نے ہمیشہ خواتین کی حقوق کی بات کی ہے اور ہمارے بحیثیت ایک بلوچ خواتین اور بحیثیت ممبر نیشنل پارٹی کے کہ ہم خواتین کی حقوق اور جدوجہدکو گھر گھر پہنچائیں ۔
بی این پی خواتین ونگ کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن پر تقریب کاانعقاد کیاگیا تھا خواتین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ بی این پی وہ واحد پارٹی ہیں جو کہ خواتین کے حق حقوق بلوچستان میں خواتین کے مسائل حل کر کے اپنا قومی فریضہ ادا کرے گی پاک وائس کے زیر اہتمام گوادر میں خواتین کے عالمی دن کے مناسبت سے منعقدہ تقریب سے مقررین کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ معاشرے میں خواتین کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ، کوئی بھی معاشرہ ، ملک اور گھر خواتین کی کردار کے بغیر نامکمل ہیں ، اسلام نے خواتین کو پورے حقوق دیئے ہیں ، خواتین ان حقوق کو استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں اپنا کردار ادار کریں اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ کوئٹہ میں منعقد ہ تقریب سے ممتاز دانشور ڈاکٹر شاہ محمد مری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے راجی اور رواجی پہلوؤں سے دیکھا جائے تو ہمارے خطہ کی عورت کو اس کے باوقار کردار کا اس کی معاشرتی بے بسی کو آج تک سمجھا ہی نہیں گیا۔ ہمارے ہاں عورت ہی نہیں بلکہ مرد بھی اپنے روایتی سانچے میں بے بس اور کمزور رہا ہے۔ ہماری تاریخ کو عورت مرد کی تقسیم سے بالاتر ہوکر دیکھنا ہوگا۔ ہماری تاریخی تصویر کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ عورت کی حیثیت اور اہلیت کو اس طرح کی رسمی باتوں میں پوری طرح واضح نہیں کیا جاسکتا۔ ہم آج سارے ادب میں عورت کے اظہار کے پہلوؤں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدرحاجی علی مدد جتک ،جنرل سیکرٹری سید اقبال شاہ اور سیکرٹری اطلاعات سردارسربلند جوگیزئی کا اس دن پر جاری بیان میں کہنا ہے کہ خواتین کو معاشی،سماجی اور سیاسی طور پر قو می دھارے میں شامل کئے بغیر ملکی ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ،خواتین کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرنا اور انہیں کسی امتیاز کے بغیر یکساں مواقع فراہم کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے خواتین کے لئے برابر کے حقوق سب سے بنیادی انسانی حقوق ہیں پیپلز پارٹی خواتین سے تعصب برتنے کی کسی کو ہرگز اجازت نہیں دے گی ہماری لیڈر شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے خواتین کے حقوق کی جدوجہد کی قیادت کی اور پارٹی پاکستان کی خواتین کو اس بات کا یقین لاتی ہے کہ استحصال اور تعصب کے خاتمے کے لئے ان کی ہر جدوجہد کی حمایت کرتی ہے۔ خواتین ہمارے معاشرے کا نصف سے زائد ہیں لہذا سماجی اور معاشی ترقی کے عمل میں ان کی بھرپور شرکت ناگزیر ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کی اراکین شکیلہ نوید دہوار ، جمیلہ بلوچ کا اس دن کی مناسبت سے کہنا تھا کہ اکیسویں صدی میں بھی خواتین مسائل سے دوچار اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی خواتین کو گھر میں بیٹھا دیا جاتا ہے اسی تعلیم کی بدولت خواتین معاشرے میں شعور اجاگر کر سکتی ہیں خواتین کو بھی ملک کی ترقی کیلئے اپنا حصہ ڈالنا چاہئے ملک کی آبادی خواتین پر مشتمل ہے ہمیں خواتین کے جملہ مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ معاشرے کی نصف آبادی سے بھی زائد خواتین کی آبادی ہے بلوچستان کے معاشرہ جو تعلیمی حوالے سے پسماندہ ، قبائلی ، نیم فرسودہ جاگیردارانہ رشتوں کی وجہ سے ماؤں ، بہنوں کو سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں دن بہ دن خواتین کے حقوق کو بری طرح سے پامال کیا جارہا ہے۔ عام عورت کو انصاف ، ریلیف اور تحفظ ملنے کی بجائے ان پر مصائب کا سلسلہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے، گزشتہ دس سالوں میں خواتین کے خلاف جرائم میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے ہزاروں خواتین اغوا، اجتماعی زیادتی ، غیرت کے نام پر قتل ، آگ سے زندہ جلانا، تیزاب پھینکنے اور چولہا پھٹنے سے ہلاکت جیسے کسی نہ کسی ایک سنگین جرم کا نشانہ بنتی جارہی ہیں ، خواتین پر وحشیانہ تشدد کرکے ناک بال کاٹ دینا ، کپڑے پھاڑ دینا ، سڑکوں پر گھسیٹنا ، زنجیرون میں جکڑ کر تشدد کا نشانہ بنانا اور ویران علاقے اور سڑک کنارے پھینک دینا شامل ہیں۔ اسی طرح خاندانی جھگڑوں اور جہیز کم لانے پر خواتین کو آگ اور تیزاب سے جلایا جاتا ہے ، خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے، قتل کی ان بھیانک وارداتوں کو سندھ میں کاروکاری ، بلوچستان میں سیاہ کاری ، پنجاب میں کالا کالی اور خیبر پختونخوا میں تورتورا کا نام دیا جاتا ہے ۔اسی طرح مردوں کی غلطیوں کو سزا ، جرگہ اور پنچائیت ، ونی اور سوارہ جیسی قبیح رسوم کے زریعے عورتوں کو تختہ مشق بناتی ہے جبکہ ان کی خاندان کی ونی کردی گئی لڑکی تمام عمر ظلم کی چکی میں پستی ہے ۔بعض اوقات یہ لڑکیاں اپنی پیدائش سے قبل ہی اس رسم کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں ، یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت اور سپریم کورٹ کے فل بینچ نے غیرت کے نام پر قتل ، ونی اور سوارہ جیسی رسوم کو اسلام اور تہذیب کے خلاف قرار دے کر انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے حکومتی سطح پر قانون سازی بھی کی گئی ہے ، قومی اسمبلی اور سینیٹ اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں مگر افسوس آج بھی ان قبیح رسومات پر عمل ہورہا ہے پاکستان میں دیہی خواتین خوفناک حد تک ، غربت ،احساس محرومی ، ناخواندگی، اور خرابی صحت کا شکار ہیں ، ملک کی 45%عورتوں کو صحت کی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں اور علاج کی مناسب سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے سالانہ تین ہزار خواتین زچگی کے دوران موت کا شکار ہوجاتی ہیں ۔ عام دیہاتی عورت زندگی کے ہاتھوں لاچار اور مجبور ہوکر بیماری ، جہالت ، استحصال اور ذلت کی گہری تاریکیوں میں ڈوبتی چلی جارہی ہے موجودہ اور گزشتہ حکومتوں نے خواتین کی ترقی و بہبود کے لیے وزارت بھی قائم کی ، قومی و صوبائی سطح پر ادارے فعال ہیں جو ہیلپ لائن پر ایک کال پر خواتین کی مدد کے لیے موجود ہیں ، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی صورت میں خواتین کی صحت و تندرستی پر وسائل خرچ کئے جارہے ہیں خواتین کا بنک اور ویمن پولیس سٹیشن قائم ہیں ، حقوق نسواں بل کی بدولت ہزاروں خواتین جو حدود آرڈیننس اور دیگر مقدمات کے تحت تھانوں اور جیلوں میں بند تھیں ان کو رہا کیا گیا ، نیز عدالتی قانونی مفت فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں ، نکاح اور طلاق کے حوالے سے بھی یونین کونسل کی سطح پر آگاہی فراہم کی جارہی ہے حکومتی قرضوں کی فراہمی میں بھی خواتین کو مساوی حقوق حاصل ہوچکے ہیں تاکہ وہ اپنی آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کے قابل ہوسکیں مگر ان اقدامات کے باوجود بت حوا کا استحصال جاری ہیں کیونکہ تعلیم نسواں پر توجہ نہیں دی جارہی ، ہرگاؤں شہر اور قصبے میں سکول تو قائم ہیں مگر لڑکیوں کی حاضری حکومتی سطح پر یقینی بنانے کے لیے کوئی مناسب اقدامات نہیں کیے گئے ، قانون سازی کی گئی ،ادارے بنائے گئے مگر خواتین کی ان تک رسائی مشکل ہے اسلئے حکومت کو چاہیے کہ ضلع اورتحصیل کے سطح پر متاثرہ خواتین کے لیے ہر علاقے میں سینٹرز قائم کیے جائیں جو متاثرہ خواتین کو فوری انصاف امداد اور شیلٹر فراہم کریں ، موجودہ حکومت خواتین کے تحفظ ، فراہمی انصاف تعلیم اور ان کے دیگر مسائل کا ادراک تو رکھتی ہے مگر خواتین کے مساوی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں ہمارے مذہب اسلام نے خواتین کو بہت سے حقوق دیئے ہیں لیکن عملی سطح پر مذہب سے ناواقفیت کی بناء پر مردوں نے عورتوں کو وہ حقوق اور درجہ دینے سے انکار کررکھا ہے ، اسلام عورت کو معاشرے میں جو مقام عطا کرتا ہے عورت اس سے زیادہ کی متمنی نہیں ، انہی حقوق کی ادائیگی کا حکم جمہوریت بھی دیتی ہے اس لیے جب تک خواتین کا استحصال ، عدم مساوات ، نا انصافی ، تشدد کو ختم نہیں کیا جاتا پاکستان کی ترقی ممکن نہیں ہے۔