|

وقتِ اشاعت :   May 20 – 2017

کو ئٹہ :  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق تمام معاملات وفاقی حکومت خود طے کررہی ہے۔


تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا جاتا ۔ تفصیلات مانگیں تو کہا جاتا ہے کہ دو ملکوں کے درمیان معاہد ہ ہے ۔ وزارت ترقیات و منصوبہ بندی سے سرکاری دستاویزات مانگی جائیں ۔

ایوان بالا میں بھی پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں معاہدات پاکستان اور چینی حکومت کی سرمایہ کاری بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اشتراک چین کے بنکوں اور سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری اور پاک چین اقتصادی راہداری کے اصل روٹ کا سوال اٹھایا جس کے جواب میں سرکاری دستاویزات چیئرمین سینٹ چیمبر میں رکھوائی گئیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ مواصلات قائمہ کمیٹی چھوٹے صوبوں کومساوی آئینی حقوق نہ ملنے پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ وزیر اعظم نے وزارت مواصلات کا قلمدان اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔

جس کی وجہ سے پارلیمنٹ جوابدہی سے محروم ہے اور کہا کہ آج کے کمیٹی اجلاس میں بھی سیکرٹری مواصلات /چیئرمین این ایچ اے کہہ رہے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں تفصیلات کے لیے وزارت منصوبہ بندی سے رابطہ کیا جائے ۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق تمام معاملات طے کرنے کے بعد وزیر اعظم وزرا ء اعلیٰ کو چین کے دورے پر ساتھ لیکر گئے ۔ جے سی سی کے پچھلے 5اجلاسوں سے کمیٹی ، پارلیمنٹ اور وزرا اعلیٰ کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ سے کچی سڑکوں کے ذریعے تجارتی قافلا گزارا گیا۔ لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے ثبوت سرکاری طور پر کسی کے پاس نہیں اور کہا کہ عوام کو پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کو بھول جانے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔

حالانکہ آل پارٹیز کانفرنس میں وزیر اعظم نے مغربی روٹ کو پہلے مکمل کرنے کا واعدہ کیا تھااور کہا کہ پسماند ہ صوبوں کے لیے ایسے نام نہاد منصوبے متعارف کرائے جارہے ہیں جو قابل عمل نہیں۔

چیئرمین این ایچ اے نے بتایا کہ پاک چین راہداری ورکنگ گروپ کا اجلاس جون یا جولائی میں منعقد ہوگا جس میں انفراسٹرکچرکے منصوبے مکمل کرنے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

پشاور ،کراچی،کوئٹہ کے ریل ماس ٹرانزکٹ منصوبے ترجیح بنیادوں پر مکمل کیے جائیں گے۔ بلوچستان میں سڑکوں کے منصوبے منظور ہوچکے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ 2018 تک مکمل ہوجائے گا۔ ملتان سکھر موٹروے چین کی فنڈنگ سے بن رہا ہے۔

این ایچ اے کے پاس ملک بھر میں کوئی بھی منصوبہ رکا ہوا نہیں ۔ ڈیرہ اسماعیل خان ژوب نیا منصوبہ شامل کیا گیا ہے۔ ڈیر ہ اسماعیل خان سے یارک کے لیے 100فیصد زمین حاصل کرلی گئی ہے۔

بسیمہ خضدار اور ژوب ڈی آئی خان دو منصوبے بلوچستان کے لیے منظور شدہ ہیں۔ ماس ٹرانزٹ کے بارے میں چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کوئٹہ کا منصوبہ کسی طور بھی قابل عمل نہیں ۔

پہلاپی سی ون 15ارب اور نیا 100ارب کا بنایا گیا۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ لاہور اورنج ٹرین کا منصوبہ 37ارب سے 200ارب تک پہنچ گیا ہے۔

چیئرمین کمیٹی داؤد خان اچکزئی نے کہا کہ مغربی روٹ پر بلوچستان کی بجائے کامن روٹ کے علاقے میں ترقیاتی کام ہورہا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی سینٹ قائمہ کمیٹی نے گوادر تک دورہ کیا ۔

سنگل سڑک کو موٹروے کا نام دیا جارہا ہے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے مرکز گوادر کے لوگ پانی کو ترس رہے ہیں۔ مایوسی پھیل رہی ہے ۔ پاک چین اقتصادی رہداری کے دورس نتائج گوادر بھی نہ پہنچ سکے تو لوگ بہت زیادہ مایوس ہوں گے ۔

این ایچ اے کی کارکردگی پر مطمئن ہیں لیکن این ایچ اے کے منصوبوں کو پاک چین اقتصادی راہداری سے نہ جوڑا جائے ۔

چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں چیئرمین این ایچ اے نے بتایا کہ چین تھا کوٹ سے حویلیاں روٹ اور ملتان سکھر کے لیے فنڈنگ کررہا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری میں صرف ملتا ن سکھرموٹر وے دونوں ممالک کے اشتراک سے بن رہی ہے۔