کوئٹہ: صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے مڈوائف کا اعزازیہ3500سے بڑھاکر 6ہزار روپے کرنے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہمڈوائف ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات کو کم کرنے میں اہم کردارادا کر رہی ہے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی طرح مڈوائف کو بھی مستٹقل کرنے کیلئے پالیسی بنائی جائے گی۔
تربیت یافتہ خواتین بلوچستان کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں 25سال بعد عالمی اداروں کا بلوچستان پر اعتماد بحال ہوا ہے صوبائی حکومت کی معاونت عالمی ادارے کر رہے ہیں عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔
یہ بات انہوں نے بدھ کو بوائے سکاؤٹس ہیڈ کوارٹر میں ایم این سی ایچ ،مرسی کور ،یونیسف کے زیراہتمام مڈوائف کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی تقریب سے ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ عبدالروف ،ایم این سی ایچ کے پروانشل کوارڈی نیٹر ڈاکٹر افضال ، ڈپٹی کوارڈی نیٹر ڈاکٹر چاکر ریاض بلوچ ، مرسی کور کے ڈاکٹر سعد اللہ ،ملیریا کنٹرول پروگرام کے کواڈی نیٹر ڈاکٹر کمالا ن گچکی ،ڈاکٹر نقیب اللہ ،پروفیسر ڈاکٹر نائلہ احسان ، پروفیسر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
صوبائی وزیر صحت میررحمت صالح بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے دور د راز اور پسماندہ علاقوں میں مڈوائف ماں اور بچے کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردارادا کر رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایم این سی ایچ کی جانب سے بلوچستان بھر میں ایمبولینس فراہم کی گئی ہیں مڈوائف کو جن سازو سامان اور ادویات کی ضرور ت ہوگی وہ محکمہ صحت فراہم کریگا ۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد صحت کو اولین ترجیح دی ہے ۔
سرکاری ہسپتالوں میں جدید مشینری اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے موجودہ حکومت نے 7000سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کیا اسی طرح مڈوائف کو بھی مستقل کرنے کیلئے پالیسی بنائی جائے گی ۔
انہوں نے کہا کہ حمل اور زچگی میں ماؤں اور نومولود کو موت سے بچانے میں تربیت یافتہ مڈوائف کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔