|

وقتِ اشاعت :   June 16 – 2017

کوئٹہ:  بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے 86ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام ( پی ایس ڈی پی ) میں 1549نئے اسکیموں کیلئے 40ارب62کروڑ روپے جبکہ 1211جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے45ارب38کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

ترقیاتی منصوبوں میں سب سے زیادہ حصہ19.69حصہ مواصلات و تعمیرات کیلئے جبکہ صنعت و حرفت، معدنیات ، ماہی گیری اور لائیو اسٹاک جیسے پیدواری شعبوں کیلئے مجموعی طور پر صرف 1.5فیصد حصہ رکھا گیا ہے۔

تعلیم کیلئے10.65فیصد،پانی کے منصوبوں کیلئے8فیصد، صحت او ر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کیلئے7,7فیصد،زراعت کیلئے 5جبکہ مقامی حکومتوں کیلئے4فیصد ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق محکمہ زراعت کی230جاری اور نئے منصوبوں پر 4ارب90کروڑروپے خرچ کئے جائیں گے ۔ ان میں186نئے جبکہ 44پرانے منصوبے شامل ہیں۔ لائیو اسٹاک کی 24جاری اور16نئی اسکیموں کیلئے مجموعی طور پر57کروڑ76لاکھ روپے ،جنگلات کی11نئی،9جاری منصوبوں کیلئے 39کروڑ45لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔

محکمہ ماہی گیری کی6نئی اسکیموں سمیت مجموعی طور پر26اسکیموں پر49کروڑ97لاکھ روپے پر خرچ کئے جائیں گے ۔محکمہ بہبود آبادی کا ترقیاتی بجٹ میں صرف ایک نیا منصوبہ شامل کی اگیا ہے جس پر13کروڑ53لاکھ روپے لاگت آئے گی۔

محکمہ صنعت و حرفت کی 6جاری،5نئی اسکیموں کیلئے 19کروڑ52لاکھ روپے ،محکمہ معدنیات کی 4جاری اسکیموں کیلئے ایک کروڑ52لاکھ روپے رکھے جائیں گے۔

محکمہ معدنیات کیلئے ترقیاتی بجٹ میں کوئی نیا منصوبہ تجویز نہیں کیاگیا ۔ محکمہ محنت و افرادی قوت کے8جاری اور3نئے منصوبوں پر13کروڑ47لاکھ روپے جبکہ محکمہ کھیل کیلئے 38جاری اور 23نئے منصوبوں پر ایک ارب20کروڑ43لاکھ روپے خرچ کئے جائیں گے۔

محکمہ ثقافت کوترقیاتی بجٹ میں0.52فیصد حصہ دیتے ہوئے 23نئی اور مجموعی طور پر32اسکیموں کیلئے44کروڑ 49لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سیاحت کے تین جاری اور ایک نئے منصوبے پر9کروڑروپے جبکہ محکمہ اطلاعات کے ایک منصوبے کیلئے صرف ایک لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

محکمہ فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ کی142جاری منصوبوں پر3ارب70کروڑ روپے جبکہ 112نئے منصوبوں پر2ارب 49لاکھ روپے جبکہ مجموعی طور پرجاری اور نئی254منصوبوں پر 6ارب20کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے ۔

پی ایس ڈی پی کا 7.21فیصد حصہ اس شعبے کیلئے مختص ہے ۔ محکمہ تعمیرات و مواصلات کے 562منصوبوں پر ترقیاتی بجٹ کا19.69فیصد حصہ یعنی 16ارب93کروڑ38لاکھ روپے خرچ کیا جائیگا ۔ ان میں9ارب61لاکھ روپے 286جاری منصوبوں جبکہ7ارب82کروڑ روپے 276نئے منصوبوں کیلئے ہوگا ۔

پانی کے77جاری منصوبوں پر4ارب89کروڑ،145نئے منصوبوں پر 3ارب25کروڑ27لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ مجموعی طور پر 222منصوبوں کیلئے 7ارب34لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جو پی ایس ڈی پی کا8.53حصہ بنتا ہے۔

اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی کے11جاری اور4نئے منصوبوں پر مجموعی طور پر1ارب72کروڑ28لاکھ روپے لاگت آئے گیجو ترقیاتی بجٹ 2فیصد حصہ بنتا ہے۔ صحت کاحصہ7.10فیصد یعنی 6ارب10کروڑ روپے رکھا گیا ہے ۔صحت کے147میں سے68نئے منصوبوں پر 4ارب87کروڑ روپے خرچ آئے گا۔

پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے66جاری اور204نئے منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 6ارب72کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سماجی بہبود کے27جاری اور15نئے منصوبوں پر55کروڑ76لاکھ روپے جبکہ ماحولیات کے1نئے اور ایک جاری منصوبے پر55لاکھ روپے لاگت آئے گی۔

مقامی حکومتوں اور محکمہ بلدیات کے23جاری منصوبوں کیلئے32کروڑ74لاکھ جبکہ193نئے منصوبوں کیلئے3ارب80کروڑ روپے مختص کئے جائیں گے جوترقیاتی بجٹ کا4.80فیصد حصہ بنتا ہے۔ ترقی نسواں کے ایک جاری اور تین نئے منصوبوں کیلئے 13کروڑ59لاکھ روپے جبکہ محکمہ منصوبہ بندی و شہری ترقی کے21جاری اور11نئے منصوبوں کیلئے ایک ارب ایک کروڑ42لاکھ روپے تجویز کئے گئے ہیں ۔

محکمہ توانائی کے179بشمول 87نئے منصوبوں پر2ارب5کروڑخرچ ہوں گے۔علاوہ ازیں23متفرق جاری منصوبوں کیلئے8ارب70کروڑجبکہ20نئے متفرق منصوبوں پر ایک ارب52کروڑ68لاکھ روپے لاگت آئے گی۔

پی ایس ڈی پی دستاویزات کے مطابق 86ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں 6ارب روپے کے منصوبے غیر ملکی تعاون سے مکمل کئے جائیں گے جن میں پانی کے222منصوبوں پر2ارب94کروڑ، تعلیم کے331منصوبوں پر ایک ارب52کروڑ روپے اورصحت کے 147منصوبوں پرایک ارب22کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔