کوئٹہ : ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے زیراہتمام ضمنی انتخابات برائے قومی اسمبلی این اے 260 کے لیے ہزارہ ٹاون میں جرگہ کا اہتمام کیا جس میں ہزارہ قوم کے معززین و معتبرین کو دعوت دی گئی اور انھیں بلوچ ،پشتون ،ہزارہ اتحاد کے حوالے سے مکمل طور پراعتماد میں لیاگیا ۔
اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے میر عبدالروف مینگل امیدوار برائے قومی اسمبلی میر بہادر خان مینگل ، عبدالباقی عوامی نیشنل پارٹی کے نوابزادہ عمر فاروق کاسی ، جمال دین،عصمت بازئی ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے احمد علی کوہزاد ،محمد رضا وکیل، عزیز اللہ ہزارہ ، محمد رضا ہزارہ،اختر ہزارہ ، قادرعلی ،رضابیگ، اور دیگررہنما موجود تھے جرگہ میں ہزارہ قوم کے معززین و معتبرین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
جرگہ BNP،ANP اور HDP کے مشترکہ نامزدامیدوار میر بہادر خان مینگل کی حمایت میں طلب کی گیا اس موقع پر احمد علی کوہزاد ،میر عبدالروف مینگل،میر بہادر خان مینگل،نوابزادہ عمرفاروق کاسی ،عزیز اللہ ہزارہ،اور ہزارہ قوم کے معتبرین و معززین نے خطاب کرتے ہوئے 3جماعتی اتحا د کو تین قوموں کے درمیان ایک دیر پا اور دور رس نتائج کے حامل قرار دیا۔
انھوں کے کہا کی صدیوں سے برادری ،محبت اور اخوت کے بندھن میں باندھے اقوام کو کوئی قومی یا مذہبی انتہا پسند ایک دوسرے سے الگ نہیں کر سکتا ہم کوئٹہ اور بلوچستان کو تین دہائیوں قبل کی رواداری اور بھائی چارے کی فضادینا چاہتے ہیں جہاں قومی وقبائلی اقداروروایات کا احترام موجودتھا مذہبی وفرقہوارنہ ہم آھنگی تھی ہر مذہب اور عقیدے کے ماننے والے اپنے عقائدو مذہب کے فرائص آزادی اور خون کی فضا سے آزاد انجام دیتا تھا کوئی کسی کے خلاف بغض وعناد کی بنیاد پر فتوی صادر نہیں کرسکتاایسے ہی بلوچستان میں آزادی اظہار و بیان کی مکمل آزادی تھی ملک کے تما شہری اور صوبے کے تمام اقوام کے ہر فرد کع نقل و حرکت اور صوبے کے تمام علاقوں میں کاروبار وروزگار کی آزادی حاصل تھی۔3 جماعتی اتحاد ایک بارپھرپر رزم ہے کہ ہم صوبے کے عوام کے درمیان تاریخی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے پْر عزم ہے ۔
ہم خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ میدان میں آئے ہیں اورچاہتے ہے کہ تمام اقوام بالخصوص بلوچ پشتون ہزارہ اتحاد کو مستحکم بنانے لے لیے عملی طور پر میدان میں آکرکردار ادا کریں۔ ہمیں حیرت ہوتی ہے کی بعض لوگ اپنی تقاریر،جلسوں اور عوامی اجتماعات میں نفرت کا پرچار کرتے ہے اور سمجھتے ہے کہ جھوٹے وعدوں کے زریعے ایک بار پھر عوام کو دھوکادے گاہمارے چند سادہ سولات ہے جن کے جواب عوام کو دینے چاہیں۔بلوچستان کے عوام صرف لائن میں کھڑا ہو کرکسی کو کامیاب کرنے کیلیے پیدا نہیں ہوئے بلکہ ان کا حق بنتا ہے کی انھیں کامیابی کے بعدنتائج بھی دینے چاہیں۔
بار بار ایک جماعت کی حمایت کی ہر بار ان کے امیدوار کو کامیاب کرا کر اسمبلی تک رسائی کا راستہ ہموار کیا۔مگر کیا ہوا ہر بار کی کامیابی کے بعدنمائندہ لا پتہ ہو جاتا ہے اور ہمارے عوام انھیں ڈھوٹے پھرتے ہیں۔
رہنماوں نے کہا کہ عوام کی طاقت سے ہی تبدیلی ممکن ہے ہم سمجھتے ہے کہ آپ کے تعاون اور ہمکاری کے بغیرکوئی تبدیلی نہیں آسکتی اس وقت میربہادر خان مینگل کی شکل میں ہمیں رواداری اور بھائی چارے کی بحالی کاکوموقع میسر آیا ہے تو ہمیں بلا توقف اپنی رائے میر بہادر کی حق میں استعمال کرناچاہیں قبل از ین گزشتہ رات پارٹی کے زیر اہتمام گلی گلی جلسہ کا انعقاد ہوا جس سے پارٹی کے سکیرٹری جنرل احمد علی کوہزاد نے خطاب کیا۔
بلوچ پشتون ہزارہ اتحاد کے دوررس نتائج برآمد ہونگے،رؤف مینگل
![]()
وقتِ اشاعت : July 12 – 2017