کوئٹہ : انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کوئٹہ ون کے جج جناب داؤد ناصر نے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء رکن صوبائی اسمبلی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین عبدالمجید خان اچکزئی کی ٹریفک سارجنٹ کو گاڑی سے کچلنے کے مقدمہ میں 3روزہ جودیشل ریمانڈ میں توسیع کے احکامات دے دئیے ہیں۔
مجید خان اچکزئی کی جانب سے اپنے خلاف قائم قتل ،اقدام قتل اور اغواء کے مقدمات میں ضمانت بعدازگرفتاری کیلئے دائر 2درخواستوں پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کوئٹہ ون اورڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ کی عدالت میں فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلے محفوظ کرلئے گئے ہیں
جنہیں 15جولائی کو سنائے جانے کاامکان ہے جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ XIنے مجید خان اچکزئی کی جانب سے دائر درخواست ضمانت بعدازگرفتاری کے حوالے سے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے درخواست کو آج بحث کیلئے فکس کیاہے ۔
گزشتہ روز مجید خان اچکزئی کو سارجنٹ کو گاڑی سے کچلنے کے مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کوئٹہ ون کے جج جناب داؤد ناصرکے روبرو پیش کیا گیا اور عدالت سے ان کی جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی گئی جس پر عدالت کے جج نے مجید خان اچکزئی کی ریمانڈ میں 3روزہ توسیع کے احکامات دیتے ہوئے سماعت کو 15جولائی تک کیلئے ملتوی کردیا۔
مجید خان اچکزئی کی جانب سے مذکورہ مقدمہ میں عدالت ہذاء میں درخواست ضمانت بعداز گرفتاری گزشتہ روز گزاری گئی تھی جس پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیاتھا جس سے 15جوالائی کو سنائے جانے کاامکان ہے ۔
مجید خان اچکزئی کے وکلاء کی جانب سے ان کے خلاف سول لائن تھانے میں قائم قتل کے مقدمہ میں بھی ان کی درخواست ضمانت بعدازگرفتاری ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ جناب راشد محمود کی عدالت میں دائر کی گئی جس پر بدھ کے روز فریقین کے وکلاء کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیاگیاہے جس سے 15جولائی کو سنائے جانے کاامکان ہے ۔
مجید خان اچکزئی کے خلاف قائم اغواء کے مقدمہ میں بھی ان کے وکلاء کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ XIکی عدالت میں درخواست ضمانت بعدازگرفتاری دائر کی گئی جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ XI نے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے درخواست کی سماعت کو برائے بحث آج کیلئے فکس کردیاہے، درخواست ضمانت بعداز گرفتاری کی سماعت آج جمعرات کو جوڈیشل مجسٹریٹ XIکی عدالت میں آج پھر ہوگی ۔
یاد رہے کہ عبدالمجید خان اچکزئی کی گاڑی کی ٹکر سے جی پی او چوک پر فرائض انجام دینے والا ٹریفک اہلکارعطاء اللہ زخمی ہونے کے بعد جاں بحق ہوگیاتھا جس کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیاگیا تھابلکہ بعدازاں پولیس کی جانب سے 2009میں سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے میں اغواء اور 1992میں سول لائن تھانہ کی حدود میں ایک شخص کو قتل کرنے کے مقدمات میں بھی پشتونخوامیپ کے مرکزی رہنماء اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیاگیاتھا بعدازاں مجید خان اچکزئی کو تینوں کیسز میں جوڈیشل کرکے جیل بھیجنے کے احکامات دے دئیے گئے تھے۔