|

وقتِ اشاعت :   July 15 – 2017

چھتر: پاکستان پیپلزپارٹی رہنما میر جعفر کریم بھنگر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سابقہ دور مشرف کی حکومت میں بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی ضلع نصیر آباد ضلع جھل مگسی کی آٹھ لاکھ ایکڑ سے زائد بنجر زمین کو آباد کرنے کے لیئے وفاقی حکومت نے کچھی کینال نہر کی منصوبہ بنایا ۔

اسی دور حکومت میں کچھی کینال نہر کی کھدائی کا کام بڑی تیزی شروع کیا گیا ۔تونسہ بیراج پنجاپ سے نکلنے کا کچھی کینال نہر کی کھدائی کا کام پنجاپ ڈیرہ بگٹی اور نصیر آباد کے سرحدی علاقہ تک پہنچ چکا تھا ۔لیکن بعد میں سیکورٹی کی خدشہ ظاہر کچھ عرصہ کھدائی کاکام بند ہوا۔

پیپلزپارٹی دور میں کچھی کینال نہر کی بند کام دوبارہ شروع کیا گیا ،لیکن موجودہ دور میں کچھی کینال نہر کے لیئے وفاقی حکومت میں خطیر رقم مختص کیا جا رہا ہے ۔سالانہ کا فنڈز استعمال نہ ہونے کی وجہ سے بہت سستی رفتاری سے کچھی کینال نہر کام کیا جا رہا ہے ۔

جس سے خدشہ ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت میں بھی کچھی کینال منصوبہ پایا تکمیل نہیں ہوگا ۔کچھی کینال نہر کی تکمیل سے سید برادری، بھنگر برادری ،کھوسہ برادری ،کانگیہ برادری،سامت برادری ،بگٹی برادری ،کہری برادری ،پیچوہا برادری ،میاڑی برادری ،ڈومکی برادری ،شربرادری ،عمرانی برادری،ساوند برادری ،رند برادری ،برڑا برادری ،ڈومکی برادری ،جکھرانی برادری ،بروہی برادری،جاموٹ برادری ،بلوچ برادری، دیگرکی پٹ فیڈر بیرون میں آٹھ لاکھ ایکڑ سے زائد بنجر غیر زمین آباد ہو گا ۔

زرعی انقلاب سے ملک کو فائدہ ہوگا ،علاقہ میں غربت کم ہو گا ،لوگ خوشحال ہوں گے ۔علاقہ میں امن وامان کی حالت بھی بہتر ہوگا۔ 

موجودہ دور میں بلوچستان میں نہری نظام کھیر تھر کینال اور پٹ فیڈر کینال نہر میں بلوچستان کی حصے کا پانی نہ لانے کی گنجائش کی وجہ سے پانچ ہزار کیوسکہ پانی سندھ حکومت استعمال رہا ہے۔

وفاقی حکومت کوچاہیے کچھی کینال منصوبہ کی تعمیراتی کام میں تیزی لائے موجودہ حکومت میں مکمل کرکے پانی کی ترسیل کو بحال کیا جائے ۔ تاکہ علاقہ میں زرعی انقلاب بحال ہو۔چھتر کے ہزاروں خاندان بھی خوشحالی کی جانب گامزن ہو سکیں ۔