|

وقتِ اشاعت :   July 20 – 2017

کوئٹہ:  سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے چیئرمین عثمان خان کاکڑ نے کہا ہے کہ کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے اضلاع میں تحصیل اور گاؤں کی سطح پر پسماندگی بہت زیادہ ہے اور خواندگی کی شرح بھی50 فیصد سے کم ہے ۔ تعلیم سے متعلقہ ادارے درست سروے کروا کر اصل حقائق سے آگاہی کے بعد تعلیمی فنڈز استعمال کریں ۔

قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کا تعلیمی سہولیات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہنر مندی پروگرام بہت اچھا ہے اسے زیادہ سے زیادہ پسماندہ علاقہ جات تک پھیلایا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ مسجد ، سکولوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے ۔ تعلیم بالغاں پروگرام کا دائرہ وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ خدمات سرانجا م دینے والے اساتذہ کی ماہانہ تنخواہ کم از کم 12 ہزار کی جائے ۔

مخصوص علاقوں میں کمیونٹی سکولوں کے قیام کی بجائے میرٹ کو فروغ دیا جائے۔ وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و خصوصی تربیت انجینئر بلیغ الرحمان نے بتایا کہ کمیونٹی سکولوں اور قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کے زیر اہتمام تعلیمی اداروں کے فنڈز میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے ۔

چاروں صوبوں کی مشاورت سے کمیونٹی سکول ، سہولیات میں اضافہ ، طلباء کو مفت کتابیں اوررضاکار اساتذہ فراہمی کیلئے نیشنل ایکشن پلان برائے تعلیم شروع کیا گیا ۔

بے نظیر وسیلہ تعلیم کے تحت طلباء مالی مدد سے سکولوں میں حاضری بہتر ہوئی ہے ۔ کمیونٹی اساتذہ کا ماہانہ اعزازیہ 8 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ چیئرپرسن قومی کمیشن برائے انسانی ترقی رزینہ عالم نے بتایا کہ بچوں کی صحت کے بارے میں میڈیکل ٹیسٹ کیلئے یونیسکو کی میڈیکل ٹیم سے بات ہوئی ہے جس پر جلد عمل ہوگا۔ ملک بھر میں کمیشن کے کمیونٹی سکولوں میں دس لاکھ کے قریب طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں ۔

خواندگی اورپیشہ وارانہ تربیت کے مراکز کو یکجاء کیا جارہا ہے فارغ التحصیل طلباء کو مائیکرو کریڈٹ کے ذریعے مدد کی جائے گی ۔ پاکستان وویمن ڈویلپمنٹ فنڈ کے ذریعے 3 ہزا رسینٹرز فوری قائم کیے جائیں گے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ چاروں صوبوں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیاگیا ہے ۔ 

سینٹرگیان چند نے کہا کہ تھر پارکر بڑی آبادی کا کم ترقی یافتہ ضلع ہے ۔ سکولوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کے تین اضلاع شیرانی ، موسیٰ خیل ، آوران پسماندہ ترین جہاں کمیونٹی سکولوں کی تعداد کم ہے ۔ تمام کم ترقی یافتہ علاقہ میں تعداد کی تقسیم نئی کی جائے ۔

سینیٹر سردار اعظم خان موسیٰ خیل نے کہا کہ بچوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جانا چاہیے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 3 سے5 سو ماہانہ وظیفہ سے پانچ سالوں میں خواندگی کی شرح میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے ۔