اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت پورٹ اینڈ شپنگ نے مطالبہ کیا ہے کہ گوادر پورٹ کے لوگوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے چھوٹے ہاؤسنگ منصوبہ جات کو سی پیک میں شامل کیا جائے۔
جس کے بعد کمیٹی کے ممبران کے شدید اصرار پر آئندہ اجلاس میں مقامی لوگوں کی رائیلٹی کا معاملہ حل کرنے کیلئے کمیٹی نے گوادر پورٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بلوچستان حکومت کو طلب کرلیا ہے۔
گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پورٹ اینڈ شپنگ کا اہم اجلاس پارلیمنٹ میں برسٹر سیف کی سربراہی میں ہوا،جس میں کمیٹی کے ممبران نے شدید اصرار کیا کہ مقامی لوگوں کے مسائل بہت زیادہ ہیں ان کے حل کیلئے سدباب کیا جائے۔
کمیٹی ممبران کو وزارت پورٹ اینڈ شپنگ کے حکام نے بتایا کہ گوادر بندرگاہ کو سی پیک منصوبے کے تحت تیارکیا جارہا ہے،وفاقی حکومت کے پاس گوادر پورٹ کے حوالے سے جامع پلان ہے۔
کمیٹی کے اراکین نے بتایا کہ وفاقی بجٹ میں گوادر ڈویلپمنٹ کیلئے فنڈز انتہائی کم ہیں۔ممبر اسمبلی کلثوم پروین نے کہا کہ گوادر کے مقامی لوگوں کو بے گھر کیا جارہا ہے۔
کمیٹی کے ممبران نے کہا کہ ابھی تک گوادر کے لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔گوادر کے لوگوں کو صاف شفاف پانی تک میسر نہیں جبکہ بجلی اور سوئی گیس کی فراہمی بھی نہیں کی گئی۔
کمیٹی کے ممبران نے کہا کہ گوادر پورٹ پر پہلا حق مقامی لوگوں کا ہے ان لوگوں کو ملازمتیں بھی فراہم کی جائیں،لوگوں کو آباد کرنے کا منصوبہ جامع ہونا چاہئے۔
کمیٹی کے حکام نے ممبران اسمبلی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گوادر کے مچھیروں اور مقامی لوگوں کو ہاؤسنگ سکیم کا معاملہ درپیش ہے،مقامی لوگوں کیلئے ہاؤسنگ سوسائٹی کے تمام پروجیکٹ پر بلوچستان حکومت کو آن بورڈ لیا جائے۔
چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے بتایا کہ وادر پورٹ کے لوگوں کو متبادل جگہ بھی فراہم کی جارہی ہے تاہم اس میں ابھی مسائل درکار ہیں۔
گوادر کا معاملہ مقامی لوگوں کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے،نئے شہر آباد کرنے سے پہلے مقامی لوگوں کے مسائل حل کرنا ہوں گے،شہر کی ترقی صوبائی معاملہ ہے۔