|

وقتِ اشاعت :   August 31 – 2017

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ گوادر میں 31ہزار ایکڑ اراضی کی الاٹمنٹ میرے دور میں نہیں ہوئی چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی مجید خان اچکزئی کا الزام بدنیتی ،مضحکہ خیز ،لغو اور جھوٹ کا پلندہ ہے ۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ میری ملک میں غیر موجودگی کے دوران چیئرمین پی اے سی نے ایک پریس کانفرنس میں مجھ پر الزام لگایا کہ میرے دور حکومت میں گوادر میں 31ہزار ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی ہے میں مذکورہ پریس کانفرنس کی شدیدالفاظ میں مذمت اور الاٹمنٹ کی سختی سے تردید کرتا ہوں میرے بعد محکمہ ریونیو نے گوادر میں تقریباً 3ہزار ایکڑ اراضی الاٹ کی ہے جس کا مجھ سے یا میرے دور حکومت سے کوئی تعلق نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کے دور حکومتوں میں لینڈ مافیا اور با اثر حکومتی افراد نے ضلع گوادر میں غیرقانونی اور ناجائز طریقے سے زمینوں کی بندر بانٹ کی ۔

انہوں نے کہا کہ ساحل اور وسائل کا دفاع نیشنل پارٹی کی جدوجہدکا محور ہے اور پارٹی نے گزشتہ انتخابات میں اپنے انتخابی منشور میں گوادر اور بلوچستان کے عوام کے ساتھ گوادر کے تحفظ اور غیرقانونی ،ناجائز الاٹمنٹ کی منسوخی کا وعدہ کیا تھا اسی بناء پر ہم نے پسنی سب ڈویژن میں ہونے والی تمام غیرقانونی الاٹمنٹ کو منسوخ کرکے دوبارہ سیٹلمنٹ کرائی اور مقامی افراد کے حقوق کا تحفظ کیا ۔

اس کے علاوہ گوادر ک موضع چھاتانی بل اور زباد ڈن میں ہونے والی ناجائز الاٹمنٹ کو منسوخ کیا اور ساڑھے تین لاکھ غیرقانونی اراضی کی الاٹمنٹ منسوخ کی گئی ماضی کی حکومتوں اور لینڈ مافیا نے گوادر کو مال غنیمت سمجھ کراراضی پرقبضہ کیا تھا ستم ظریفی یہ تھی کہ گوادر ضکلع میں سرکاری سکولوں اورسرکاری عمارتوں کیلئے بھی اراضی دستیاب نہیں تھی۔ 

ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا کہ جب ہم نے گوادر کا تحفظ کرتے ہوئے ناجائز الاٹمنٹ منسوخ کی تو لینڈ مافیا کے سرپرستوں کی چیخیں نکل گئیں بلوچستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ گوادر کو فروخت کرنے والے اور گوادر کو بچانے والے کون ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کے سلسلے پر بھی اپوزیشن جماعتیں روز اسی طرح سے واویلا کرتی رہتی تھیں کہ ریکوڈک کو بیچا جارہا ہے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ اپوزیشن کے الزامات جھوٹ پر مبنی اور بددیانتی پر مبنی تھے ریکوڈ ک کو ہم نے محفوظ بنادیا اسی طرح گوادر کے ساڑھے تین لاکھ ایکڑ ناجائز اور غیرقانونی الاٹمنٹ کو منسوخ کرکے ساحل اور وسائل کا بھر پور دفاع کیا ۔

انہوں نے کہا کہ چند عناصرالزامات لگاکر عوام کو گمراہ اور میرے اور میری پارٹی کے کردار کو متاثر اور بدنام کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں ہمارا کردار بلوچستان اور ملک کے عوام کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے ہم پرالزام لگانے والے کی پارسائی کو بھی دنیا جانتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ساحل اور وسائل کے دفاع پر نہ پہلے کوئی سمجھوتہ کیا گیا ہے اور نہ آئندہ ایسا ہوگا ۔ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے واضح کیا کہ اگر چیئرمین پی اے سی مجیدخان اچکزئی نے اپنے الزامات کی تردید نہ کی تو وہ قانونی چ ارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔