کو ئٹہ: سیکریٹری خزانہ اکبر حسین درانی نے کہا ہے کہ سول ہسپتال کوئٹہ وٹراما سینٹر میں طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے متعلقہ حکام اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیں تاکہ لوگوں کو طبی سہولیات کی فراہمی مؤثر انداز میں یقینی بنائی جاسکے۔
یہ بات انہوں نے اعلیٰ بااختیار کمیٹی برائے اصلاحات سول ہسپتال وٹراما سینٹر کے اجلاس کی صدارت ہوئے کہی۔ اجلاس میں سیکریٹری صحت عصمت اللہ کاکڑ، سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر اکبر حریفال، ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ وجیہ اللہ کنڑی، ایڈیشنل سیکریٹری صحت عبدالرؤف بلوچ، ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر فرید سمالانی، ٹراما سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فہیم، ڈپٹی سیکریٹری آئی ٹی بشیراحمد، سی اینڈ ڈبلیو کے عبدالجبار کاسی کے علاوہ متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے سول ہسپتال وٹراما سینٹر کی مجموعی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ہسپتال میں جاری ترقیاتی کام، طبی سہولیات کی فراہمی، طبی آلات کی مجموعی کارکردگی، سیکیورٹی نظام اور دیگر مسائل پر کمیٹی کو آگاہ کیا۔ کمیٹی کو محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ ٹراما سینٹر میں طبی آلات کی فراہمی کے لئے لوکل سطح کی اشیاء عنقریب فراہم کردی جائیں گی جبکہ طبی مشینری جو کہ بیرونی ملک سے منگوائی جارہی ہیں سے متعلق تکنیکی کام آخری مراحل میں ہے اور اس حوالے سے ورک آرڈر جاری کردیئے گئے ہیں۔
اجلاس سے سیکریٹری خزانہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سول ہسپتال کوئٹہ وٹراما سینٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سیکریٹری خزانہ نے کمیٹی کی مشاورت کے بعد ہدایات جاری کیں کہ سول سوسائٹی وٹراما سینٹر میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر اصلاحات لانا ضروری ہے اس کے لئے پہلے مرحلے میں انتظامی و فنانشل اختیارات تفویض کردیئے جائیں جبکہ دوسرے مرحلے میں قلیل درمیانی اور طویل مدتی اقدامات کو مرحلہ وار پالیسی درافٹ کے تحت عملی جامع پہنائیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اختیارات تفویض نہیں کریں گے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار تبدیل نہیں ہوگی۔ موجودہ ذمہ داریوں کا تعین نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے ڈاکٹروں کی تنخواہوں اور مراعات میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے ڈاکٹرز کو چاہیئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے محکمہ میں بہتری لائیں جبکہ پہلے مرحلے میں ٹراما سینٹر اور سول ہسپتالوں کی بہتری کے لئے ہر مثبت اقدام کی بھرپور انداز میں پذیرائی کی جائے گی۔
ایمرجنسی سروسز کے لئے ریسکیو ایمبولینس سروس جو کہ 1122 کے طرز پر خدمات سرانجام دے گا۔ اس کے لئے بھی اقدام اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ٹراماسینٹر کو ایمرجنسی ادویات ودیگر اشیاء تقریباً 100مریضوں کے لئے ہمہ وقت اسٹاک میں مہیا کی جانی چاہئیں اور اس حوالے سے ٹراما سینٹر کے سربراہ کو یہ اختیار تفویض کرنا چاہئے کہ وہ واسپیشل بجٹ کے تحت یہ اسٹاک برابر مقدار میں رکھ سکے جبکہ محکمہ صحت ادویات کی خریداری کے لئے بین الاقوامی معیار کے مطابق ادویات کی خریداری کے لئے پری کوالیفکیشن کرے تاکہ برانڈڈ کمپنی سے طبی آلات اور ادویات خریدی جاسکیں جس پر سیکریٹری صحت نے سفارشات کو عملی جامع پہنانے کے لئے اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔
ٹراما سینٹر کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، سیکرٹری خزانہ
![]()
وقتِ اشاعت : August 31 – 2017