|

وقتِ اشاعت :   September 1 – 2017

کوئٹہ : ڈائریکٹر جنرل ماحولیاتی تحفظ ایجنسی بلوچستان کیپٹن (ر) طارق زہری نے کہاہے کہ 11ماہ کے دوران ماحولیاتی تحفظ کیلئے چار سو مختلف کارروائیاں کی گئیں بلوچستان میں ماحولیاتی صورتحال جانچنے کیلئے چار مقامات پر جدید آلات نصب کئے جائینگے عید کے بعد کوئٹہ میں دو نئی بائیو ڈی گریڈ ایبل شاپر فیکٹریوں کا افتتاح کیا جائے گابلوچستان کی ساحلی پٹی پر نجی کمپنی بیس لاکھ مینگرولگائے گی۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں غیر سرکاری تنظیم اسلامک ریلیف کے زیر اہتمام ماحولیاتی تبدیلی اور خشک سالی کے عنوان پر منعقدہ دور وزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر سیکرٹری ماحولیات بلوچستان غلام محمد صابر ،محمد علی باتر،کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمن ،بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر خلیل الرحمن ،سینئر صحافی سلیم شاہد ،شہزادہ ذوالفقار،اسلام ریلیف کے ایریا پروگرام منیجر نور خان مینگل ودیگربھی موجودہ تھے۔

ڈائریکٹر جنرل ماحولیاتی تحفظ ایجنسی بلوچستان کیپٹن (ر) طارق زہری نے کہاکہ بلوچستان میں سطح سمندر ہر سال ایک 1.1 ملی میٹر بڑھ رہی ہے اگر اسی تناسب سے سطح سمندر بڑھتی رہی تو اگلے پچاس سال میں سمندر کی سطح میں 6سینٹی میٹر تک اٖضافہ ہوگا حکومت بلوچستان کوسٹل علاقوں میں منیجمنٹ پر کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایک غیرملکی کمپنی نے حکومت بلوچستان کے ساتھ معاہدہ کیا ہے کہ وہ اگلے دو سے تین سال میں بیس لاکھ مینگرو لگائی گی بلوچستان میں آٹھ ہزار ہیکٹرپر مینگروموجودہیں جن کی مقدار بڑھانے کی ضرورت ہے ا۔

انہوں نے کہاکہ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے حب میں نجی کمپنی کے ساتھ ملکر دس ہزار ٹن کچرہ اٹھایا ہے جس میں حکومت بلوچستان کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا سی پیک منصوبے کے ماحولیاتی اثرات پر کام جاری ہے اس سلسلے میں گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کو گرین یارڈ میں تبدیل کرنے گوادر میں واٹر ویسٹ منیجمنٹ پلانٹ لگانے اور بلوچستان کے چھ مقامات پر جنگل آباد کرنے پر کام جلد شروع کردیا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ تربت اور پنجگور میں تیس سے چالیس ہزار ایکڑ پر نیا جنگل آگایا جاسکتا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ گزشتہ گیارہ ماہ کے دوران انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے ماحولیات کو نقصان پہنچانے پر چار سو کیس کئے ہیں سی پیک منصوبے میں بھی ٹھیکیداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایک درخت کاٹنے کے عوض تین نئے درخت لگائیں گے سیکرٹری ماحولیات غلام محمد صابر نے کہاکہ کوئٹہ پریس کلب کی جانب سے سیمینار کا انعقاد اور ماحولیات کے موضع پرتوجہ دینا مثبت اقدام ہیں میڈیا کو چاہیے کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کیلئے عوام میں آگاہی پیدا کریں جبکہ مایوسی پھیلانے سے بھی گریز کیا جائے ۔

محمد علی باتر نے سیمینار کی شرکاء کو آگاہ کیا کہ بلوچستان پہلا صوبہ ہے جس میں 2012ء میں انوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ بنایاگیا اس وقت انوائرمنٹ پروٹیکشن پلین موجودہ ہیں جو مختلف سیکٹرز پر مشتمل ہیں یہ پلان 2014ء سے 2030تک بنایا گیا جس میں مختلف پہلوں سے ماحولیات کا تحفظ کیا جائے گا سینئر صحافی سلیم شاہد،شہزادہ ذوالفقار نے کہاکہ میڈیا پر ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے آگاہی ناگزیر ہوچکی ہے ۔

بلوچستان میں خشک سالی کا مسئلہ سنگین ہے صوبے میں گرمی خطرنا ک حد تک بڑھ رہی ہے حکومت سڑک بنانے سے پہلے اسکے اثرات پر غور نہیں کرتی حکومت کو چاہیے کہ وہ سی پیک منصوبے کے ماحولیاتی اور اس کے تحفظ کیلئے جامع پالیسی مرتب کریں ۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے میں ماحولیات شامل نہیں ہے جس کی وجہ سے اس اہم موضوع پر توجہ نہیں دی جارہی ماحولیات کے تحفظ کیلئے میڈیا ،حکومت اور عوام کو ملکر کام کرنا ہوگا ۔