|

وقتِ اشاعت :   September 7 – 2017

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما جے آئی ٹی کے رکن اور ڈی جی نیب بلوچستان عرفان نعیم منگی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عرفان نعیم منگی کیخلاف کل محکمانہ انکوائری چل رہی تھی آج وہ ہیرو بن گیا ہے ،اب تو عدالتی فیصلے کے باعث ان پر ہاتھ بھی نہیں ڈال سکتے ۔

عدالت نے قومی احتساب بیورو کی ناقص کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کرپشن کا سہولت کار بن چکا ہے ،قومی احتساب بیورو نے 30 دن میں ٹرائل مکمل کرنا ہوتا ہے جو 30 ماہ میں بھی نہیں ہوتا، قوم کے پیسے سے تنخواہ لے کر قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

یہ ریمارکس جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلوچستان کے سابق وزیر خوراک اسفند یار خان کاکٹر کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران دیئے ، بدھ کے روز کیس کی سماعت جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے کی ۔

عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد گندم کرپشن کیس میں گرفتار بلوچستان حکومت کے سابق وزیر خوراک اسفند یار خان کاکڑ کی پچاس لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی جبکہ دوران سماعت اسفند یا ر کاکٹر کے وکیل افتخار گیلانی نے موقف اختیار کیا کہ اس کیس کے اصل ملزم محمد نعیم ہے اس کو ضمانت دیدی گئی ہے ۔

اس پر جسٹس دوست محمد خان نے استفسار کیا کہ اس ملزم کو کیسے ضمانت ملی ، جس پر نیب کے وکیل عدالت کو کوئی معقول جواب نہ دے سکے تو جسٹس فائز عیسیٰ نیے ریمارکس میں کہا کہ کیوں نہ ڈی جی نیب بلوچستان کو بھی شریک ملزم بنایا جائے، نیب اہلکاروں کیخلاف مقدمات بنیں گے تو ہی بہتری آئے گی۔

نیب کرپشن کا سہولت کار بن چکا ہے، بلوچستان میں کئی اہم مقدمات تاخیر کا شکار ہیں۔ بلوچستان میں رنگے ہاتھوں پکڑا جانے والا ملزم بھی چھوٹ جاتا ہے، نیب بلوچستان میں کیا کر رہی ہے ؟ نیب والے ادھر کیا ڈیلنگز کر رہے ہیں ،نیب نے کرپشن مقدمات کو مذاق بنا رکھا ہے، کام نہ کرنے کی وجہ سے نیب نے کتنے لوگوں کو ہٹایا ہے ، تحقیقات کرنے والوں سے بھی تحقیقات ہونی چاہیے ۔

قومی احتساب بیورو نے 30 دن میں ٹرائل مکمل کرنا ہوتا ہے جو 30 ماہ میں بھی نہیں ہوتا، قوم کے پیسے سے تنخواہ لے کر قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، قوم کے 771 ملین چوری ہوگئے اور نیب سو رہا ہے، قومی احتساب بیورو نے آج تک تیس دن میں کوئی ٹرائل مکمل نہیں کیا، جبکہ جسٹس دوست محمد نے نیب پراسکیوٹر سے استفسار کیا کہ اس ملزم پر الزام کیا ہے جس پر نیب پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزم پر اختیارات کے ناجائزہ استعمال کا الزام ہے ۔

اس پر جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ ذمہ داری کی بات کی جائے تو پھر نیب کا ڈی جی بلوچستان بھی ذمہ دار ہے ،عرفان نعیم منگی کو بلوچستان میں تعینات ہوئے کتنا عرصہ ہوگیا ہے ، اس پر پراسکیوٹر نے بتایا کہ عرفان نعیم منگی چھ ماہ سے وہاں تعینات ہیں ، اس پر جسٹس دوست محمد خان نے عرفان نعیم منگی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عرفان نعیم منگی کیخلاف کل محکمانہ کارروائی چل رہی تھی وہ آج ہیرو بن گئے ہیں ۔

عدالت فیصلے کے باعث اب تو ان پر ہاتھ بھی نہیں ڈال سکتے ۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے بلوچستان کے سابق ڈائریکٹر فوڈ عبدالولی کاکڑ کی ضمانت قبل ازگرفتاری مسترد کر دی جس پر پولیس نے ملزم کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا جبکہ اس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس دوست محمد خان کا کہنا تھا کہ ملزم دوسال سے زائد ضمانت قبل ازگرفتاری پررہا ،ضمانت قبل ازگرفتاری کے مقدمات کاجلدازجلد فیصلہ کرناچاہیے،ملزمان کویوں ضمانتیں دینے سے تحقیقات متاثرہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کرنابھی ایک مہارت ہے ،یہاں توکرپشن نہ کرنے والے کوترقی بھی نہیں ملتی ،کہاجاتاہے کرپشن نہ کرنے والا لکیرکافقیرہے ہائی کورٹ نے ڈیڑھ سال تک کس طرح ملزم کوعبوری ضمانت دئیے رکھی امیر ملزمان کوجیلوں میں سہولیات میسر ہوتی ہیں غریبوں کو کچھ نہیں ملتا جبکہ نیب کے سپیشل پراسکیوٹر چوہدری فرید کا کہنا تھا کہ عبدالولی کاکڑ نے دیگرملزمان کے ساتھ مل کرگندم کی غیر قانونی منتقلی کی ۔

ہزاروں گندم کی بوریوں کوایک ضلع سے دوسرے میں منتقل کیاگیاضمانت قبل ازگرفتاری پرہونے کی وجہ سے ملزم آج تک نیب میں پیش نہیں ہوا ۔ واضح رہے کہ ملزم عبدالولی کاکڑ پرگندم کی 20ہزاربوری کی خردبردکاالزام ہے۔