|

وقتِ اشاعت :   September 7 – 2017

کوئٹہ :  بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ریلیز کے مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ باوسائل سرزمین کے مالک ہونے کے باوجود کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔

اس قبل حکمرانوں نے چاہئے وہ سول حکمران یا آمر انہوں نے بلوچوں کے حقوق نہیں دیئے بلکہ اپنی پالیسیوں بلوچستان کے ساتھ ناروا اور ناانصافیوں مبنی رکھا جس کی وجہ سے آج بلوچ معاشرہ تمام شعبہ زندگی میں پیچھے ہے بلواسطہ یا بلاواسطہ یا دیدادانستہ طورپر ہمارے پسماندہ رکھنے کی ٹھان رکھی ۔

بیان میں کہا گیا کہ موجودہ حکومت نے تو ماضی کی تمام ناانصافیوں اور ناروا سلوک اور قومی نابرابری کی انتہاء کر دی موجودہ 4 سالوں میں نام نہاد قوم پرستوں نے بلوچستان میں وسائل دونوں ہاتھوں سے لوٹے اقرباء پروری کرپشن ان کا محور و مقصد رہا جس کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی میں بلوچوں کو مزید پسماندہ ‘ بدحال اور غربت و افلاس کی جانب دھکیلنے سے بھی دریغ نہیں کیا ۔

بیان میں کہا گیا کہ 21 صدی میں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں آج عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور دوسری جانب بلوچ علاقوں میں معاشی ‘ معاشرتی اور تجارتی اور تعلیمی سرگرمیوں سمیت دیگر سماجی مسائل میں آئے روزاضافہ ہوتا جارہا ہے ۔

موجودہ جعلی حکمرانوں نے سرکاری اور تعلیمی اداروں میں بے جا مداخلت کی وجہ سے روزگار اور ترقی سیاسی جیالوں تک محدود کر رکھی ہے اس سے قبل جتنے بھی روزگار دیئے گئے بلخصوص واسطہ یا دیگر محکموں میں ان میں بلوچوں کو نظرانداز کیا گیا ہے موجودہ حکمران مکمل طورپر عوام کی خدمت میں ناکام ہو چکے ہیں ۔

بلوچستان کے عوام باشعور ہیں اب ان کے جھوٹ اور من گھڑت باتوں اور طفل تسلیوں سے بات بننے والی نہیں بی این پی عوامی جمہوری عوامی سیاسی قوت ہے جو بلوچ اور بلوچستان کے عوام کی حقیقی خدمت کر یقین رکھتی ہے اور صحیح معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمانی کررہی ہے اور سردار اختر جان مینگل کونجات دہندہ قیادت سمجھتی ہے ۔

اسی لئے آج بلوچستان بھر میں پارٹی کی پذیرائی بڑھتی جارہی ہے بیان کے آخر میں کہا کہ فوری طورپر روزگار یا ترقی ہو تمام علاقوں کے لئے یکسر اور روزگار میرٹ کی بنیادوں پر دیا جائے ۔