پشین : پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چےئرمین رکن قومی اسمبلی محترم مشر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ ایک گھر کو چلانے کیلئے بھی انصاف ضروری ہے جبکہ یہاں لوگ ملکوں کو بے انصافی سے چلانا چاہتے ہیں جو ممکن نہیں کیونکہ بغیر انصاف کے ایک گھر کے افراد کا بھی ایک دوسرے کے ساتھ گزارا مشکل ہوجاتا ہے ۔
ادب اگر اپنے قوم کے مشکلات کاترجمان نہ ہو تو اسے ادب نہیں کہا جاسکتا اور ادب اپنے قوم کے اتحاد اور اس کے مشکلات کے حل کیلئے مثبت تجاویز نہیں رکھتا ہو تو اس ادب پر لوگ شک کرتے ہیں ۔
ہمیں بلا رنگ نسل زبان ومذہب کے ہر انسان کا احترام کرنا ہوگا اور اپنے اپنے اولادوں کی تربیت اور اپنے ملت کی رہنمائی اس طرح کرنی ہوگی کہ اس سے خدا کے پیدا کردہ تمام انسانیت کے احترام کا ادراک حاصل ہو اور اس پر عمل بھی کرتے رہے۔ اور ایسے اعلیٰ اقدار ہی تمام دنیا میں ہمارے تمام ملت کے نیک نامی کے باعث ہونگے۔
وہ پشین ریسٹ ہاؤس میں پشتو اکیڈمی کوئٹہ کے زیر اہتمام تین روزہ بین الاقوامی سیمینار کے شرکاء کے اعزاز میں دےئے گئے پروقار عشائیہ سے خطاب کررہے تھے۔ جس سے پشتو اکیڈمی کوئٹہ کے صدر سید خیر محمد عارف ، ممتاز دانشور حبیب اللہ رفیع ، افغانستان کے علوم اکیڈمی کے شعبہ تاریخ کے چےئرمین ڈاکٹر شریف زدران ، الیگزنڈر کولیلو ف ، پشتو اکیڈمی پشاور کے ڈاکٹر یار محمد مغموم ، رکن افغان پارلیمنٹ ساھرہ شریف ، رشید احمد ، حسینہ گل تنہا ، درویش درانی اور عبدالرؤف رفیقی نے بھی خطاب کیا ۔
محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ملت کی موجودہ مشکل صورتحال کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملت نے ہمیشہ اپنی سرزمین کا دفاع کرتے ہوئے اپنی خودداری برقرار رکھی ہے جب دنیا میں صنعتی ممالک کی ترقی کے بعد زور آزما قوتوں اور قوموں نے دوسرے غریب اقوام و عوام کو تہذیب یافتہ بنانے کے بہانے کے نام پر ان کے وطنوں پر قبضے کرکے ان کے وسائل کو لوٹنا شروع کیا ۔
اور انہیں تہذیب یافتہ بنانے کے نام پر مسلط ہوگئے تو تمام عالم اسلام سمیت دنیا کے اقوام کی اکثریت ان سامراجی قوتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئے لیکن واحد پشتون افغان ملت ہی تھی جس نے اپنے وطن کو ماں کا درجہ دیتے ہوئے سروں کی قربانی کے ذریعے ہی اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے پگڑی کو اونچا رکھا۔
اور اب ہمارے وطن پر جو بدترین حالت مسلط کی گئی ہے اس کی وجہ پشتون افغان ملت کی اپنی وطن سے محبت اور اپنی خودمختیاری برقرار رکھنے کی روش ہے ۔ لہٰذا ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا ہوگا کہ خدا کے ماسوائے کسی بھی ظالم کے سامنے سر جھکانا نہیں چاہے حق کے راستے میں جو بھی قربانی دینا پڑے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے وطن پر جو جنگ مسلط کی گئی ہے وہ انسانیت کے وجود میںآنے سے لیکر آج تک اتنی لمبی لڑائی نہیں لڑی گئی ہے چالیس سال تک اگر کوئی قوم گانے بھی گاتے رہتے تو دیوانے بن جاتے ۔
جبکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں کہتا ہے کہ آدم ؑ اور بی بی حوا انا کی اولادایک زبان نہیں بولتے اور یہ میری ربوبیت کی نشانی ہے جب اللہ تعالیٰ زبان کو اپنی ربوبیت کی نشانی قرار دیتا ہے تو یہاں لوگ ہمیں اپنی زبان پشتو کی ترقی وترویج کیلئے نہیں چھوڑتے جبکہ تمام عالم انسانیت اس پر متفق ہے کہ بنیادی تعلیم مادری زبانوں میں ہی ہونی چاہیے ۔
مادری زبان میں تعلیم سے بچے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پشتو زبان کی ترقی وترویج ہم سب پر لازم ہے اور اس کی ترقی اور حفاظت ہمارے غیور عوام نے سارے وطن کے دور دراز علاقوں ، گاؤں گاؤں ، پہاڑوں کے دروں میں رہنے والوں نے اپنے قومی زبان کی کی حفاظت کی جبکہ پشتوصرف زبان ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے ہر شعبہ زندگی میں ایک دود ودستور کا نام ہے اور اس کے پختہ قوانین ہے اور پشتون افغان معاشرہ ان پشتو قوانین کے تحت زندگی گزارتے ہیں اور یہ بات ہر کسی کے سمجھ میں نہیں آتا۔
لہٰذا پشتو زبان کی ترقی کیلئے لازمی ہے کہ اس سے سرکاری تعلیمی، علمی، دفتری اور کاروباری زبان کا درجہ دیا جائے ہر اکیڈمی کے ادیبوں کی کوششیں قابل تحسین ہیں لیکن ہمیں اپنی مادری زبان کو ہر شعبہ زندگی میں مکمل قومی زبان کا درجہ دلانا ہوگا اور یہ ہمارا قومی حق ہے ۔
اور ہمارے ادیبوں اور دانشوروں کو اپنی قوم کی اس مشکل صورتحال کے حوالے سے قومی جرات کے ساتھ ساری دنیا کے سامنے اپنی بات واضح انداز میں رکھنا ہوگا ۔
موجودہ سیمینار میں نائن الیون کی بات کی گئی ہے لہٰذا نائن الیون کے واقعہ کی ذمہ دار پشتون افغان ملت نہیں اور اس وقت بھی ہم نے تمام دنیا پر یہ بات واضح کی تھی اور ہماری پارٹی نے اس وقت کے حالات میں کوفی عنان کے نام خط لکھا تھا اور اس پر حقیقی صورتحال واضح کی تھی جبکہ روسی فوجوں کی آمد اور ان کیخلاف دنیا کے اکثریت ممالک کے اتحاد اور روسی فوجوں کے نکلنے کے بعد افغانستان میں جنگ کا جواز کیا تھا ۔
لہٰذا امن کا راستہ یہ ہے کہ سب سے پہلے افغانستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان کے استقلال اور ارضی تمامیت کی ضمانت دیں تب ہی دوسرے مسائل پر بات ہوگی۔
کیونکہ افغانستان کو شک اور یقین ہے کہ ان کے ملک میں مداخلت ہورہی ہے ۔ لہٰذا اس خطے کے امن کیلئے پہلا حرف اس بات سے شروع ہوتی ہے کہ افغانستان کو ان کے استقلال کی گارنٹی دینی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس علاقے اور اس ملک کے رہائشی ہیں اور کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ہمارے خطے کو جنگ کا مرکز بنائیں ہم پاکستان ، افغانستان کے حکومتوں اور پارٹیوں سے بھی یہ کہتے ہیں کہ حالات کا ادراک کرتے ہوئے عقل سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مددلل انداز میں اپنی بات ہر کسی کے سامنے رکھی جائیں۔
اور اس خطے کو جنگ کے شعلوں سے بچایا جائے اور خاص کر پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسائل کے حل میں چین سب سے بہترین کردار ادا کرسکتا ہے جو دونوں ممالک کا ہمسایہ اورپاکستان دوست بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سب نے ملکر دنیا پر یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ پشتون افغان کبھی بھی دہشتگرد اور فرقہ پرست نہیں رہے اور نہ ہیں ۔
ہر داڑھی اور پگڑی والے کو دہشتگردتصور کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ۔ دنیا کے ہر تاریخ دان نے پشتون قوم کے جمہوری سوسائٹی کو تسلیم کیا ہے اور کہا ہے کہ پشتون وطن میں کسی بھی رنگ نسل،مذہب کے فرد یا مہمان کیلئے کھانا اور بسترہ مفت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک پاکستان کا استحکام اس بات میں ہے کہ حقیقی جمہوری فیڈریشن کے قیام ، آئین وقانون ، پارلیمنٹ کی بالادستی اور ملک کی خارجہ وداخلہ پالیسیاں عوام کے منتخب پارلیمنٹ کے تابع ہو اور ملک کا ہر ادارہ آئین کے دائرہ میں رہ کر اپنے فرائض ادا کرے اور پشتو ن ، بلوچ ، سندھی ، سرائیکی اور پنجابی قوموں کے ان کے حقوق واختیارات دیتے ہوئے ان کے وطنوں کے ہر قسم کے وسائل پر ان کا اختیار ہو اور ان کی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائیں۔
اور ملک کے کروڑوں عوام کو ہر شعبہ زندگی میں بنیادی سہولیات دیتے ہوئے اس سے عملی انصاف فراہم کی جائیں تب ہی ہمار ا ملک مسلسل حقیقی ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ غیورپشتون افغان ملت کی اتحاد اور اتفاق کا وقت ہے اور تمام پشتونخوا وطن کے عوام کی عزت وبے عزتی ایک دوسرے کے ساتھ اور اس سرزمین سے جڑی ہوئی ہے ۔
جب ہماری سرزمین عزت مند ہوگی تو ہم سب بھی عزت سے ہونگے ہم اور آپ سب نے مل کر اپنے قوم کی اتحاد واتفاق کی کوششوں کو آگے لیجانا ہوگا اور ہر مقام پر ظلم کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے مظلوم کا ساتھ دینا ہوگااور دوسروں کے سرزمین اور حقوق پر قبضے کے تصور سے اپنے آپ کو نکالنا ہوگا ۔کیونکہ یہ ظلم ہے اور اپنا حق واختیار کسی طرح بھی چھوڑنا نہیں کیونکہ یہ بزدلی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے جب یہاں سب سے پہلے انگریز کے پہلے قیدی خان شہید اس کے بھائی اور ایوب خان اچکزئی گرفتار ہوئے تھے اور اسی شہر پشین میں خان شہید کو سزا دی تھی آج اسی مقام پر خان شہید کی فکر، جدوجہد ، پیروکار سب موجود ہیں اور اسی فکر کے تحت پشتونخوا وطن پشتو زبان اس کی ترقی وترویج کی بات ہورہی ہے۔
اور جب ایوبی مارشل لاء میں میونسپل کمیٹی کے دفتر میں خان شہید کو 14سال سزا دی گئی اسی میونسپلٹی کے ہال میں اس پشتون بلوچ صوبے کے صوبائی اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت خان شہید ہی نے کی اور اراکین سے حلف لیا گیا ۔
لہٰذا حق اور باطل کی لڑائی میں آخر کار حق کو ہی فتح حاصل ہوتی ہے لیکن اس کیلئے طویل آزما صبر اور قربانیوں سے لبریز جدوجہد کی ضرورت ہے ۔
اس صوبے میں صحافت اور پریس کی بنیاد بھی سب سے پہلے خان شہید نے ہی رکھی جس نے اپنے محدود ساتھیوں کے ساتھ استقلال اخبار کا اجراء کیا جبکہ انتہائی کم عمری ہی میں دینی علوم پر اپنے آباؤ اجداد سے دسترس حاصل کرنے کی صلاحیت کے باعث جیل میں قید کے دوران ترجمان القرآن ، گلستان سعدی اور امام غزالی کی کتاب سمیت مختلف کتابوں کے پشتو ترجمے کےئے ۔
لہٰذا اس کے علاوہ پشتون افغان ملت کے تمام اکابرین کی جدوجہد قربانیاں سب مشعل راہ ہیں لیکن اس وقت ہم اورآپ سب نے مل کر تمام قومی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا اور اس کیلئے ادیبوں ، دانشوروں سمیت ہر کسی نے اپنا فعال کردار ادا کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو دوبالا کرنا ہوگا ۔
انہوں نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کے آنے اور سیمینار منعقد کرنے پر خوشی کا اظہار کیا اور مہمانوں میں تحائف تقسیم کےئے گئے ۔ جبکہ خواتین کو پشتنی شال ان کے سروں پر ڈالے گئے ۔
عشائیہ میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر سنیٹر عثمان خان کاکڑ ، صوبائی مشیر عبید اللہ جان بابت ، صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال ، صوبائی وزیر بلدیات سردار مصطفی خان ترین ، سنیٹر سردار اعظم موسیٰ خیل ، ایم این اے عبدالقہار خان ودان ، صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی ڈاکٹر حامد خان اچکزئی ،ڈسٹرکٹ چےئرمین محمد عیسیٰ روشان ، اراکین اسمبلی نصراللہ خان زیرے ، سید لیاقت آغا ، سپوژمئی اچکزئی، عارفہ صدیق، ڈپٹی کمشنر پشین بالاچ عزیز بلوچ ،پارٹی ضلعی معاون عبدالحق ابدا، عبید اللہ پانیزئی ،حاجی اکبر خان ، ڈاکٹر حبیب سمیت ممتاز ادیبوں ، دانشوروں ، شاعروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔