|

وقتِ اشاعت :   October 4 – 2017

کو ئٹہ: احتسا ب عدالت کو ئٹہIIکے جج جنا ب پذیر احمدبلو چ کے رو بروکروڑوں روپے کی گندم خرد برد کے حوالے سے دائر 2ریفرنسز کی سما عت ہو ئی جس میں سے ایک ریفرنس میں دو گوا ہان استغاثہ کے بیا نا ت قلمبند کر لئے گئے جبکہ دوسرے ریفرنس میں وکیل کی غیر مو جود گی کے با عث گواہ استغاثہ کا بیان قلمبند نہ ہو سکا ۔

گزشتہ روزکروڑوں روپے گندم خرد برد ریفرنس نمبر 4/2016 کی سما عت کے دوران ملزم بر ضمانت سا بق صو با ئی وزیر خوراک اسفند یا ر خا ن کا کڑ ،ملز مان بر حراست سا بق سیکرٹری خوراک علی بخش بلو چ اور سا بق ڈپٹی ڈائریکٹر ظا ہر جا ن جما لدینی عدالت کے رو برو پیش ہو ئے سما عت کے موقع پر نیب کی جا نب سے دو گواہان استغاثہ سپرٹینڈنٹ محکمہ خوراک بلو چستان محمد حنیف اور اسسٹنٹ آفیسر پی اینڈ ڈی اور سابق ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈجا نا ن خان کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا ۔

جنہوں نے اپنے بیان حلفی قلمبند کروا دئیے تا ہم اسفندیا ر کا کڑ کے کو نسل ممتا زمحفوظ ایڈووکیٹ کی غیر مو جو د گی کے با عث گواہان پر وکلا ء صفا ئی کی جا نب سے جرح مکمل نہ ہو سکی ۔

بعد ازاں عدالت نے ریفرنس کی سما عت کو 13اکتو بر تک کے لئے ملتو ی کردیا ،اس کے علا وہ کروڑوں روپے گندم خرد برد ریفرنس نمبر 6/2016کی بھی سما عت ہو ئی جس کے دوران ریفرنس میں نا مز د ملز مان برضما نت سا بق صو با ئی وزیر خوراک اسفند یا ر خا ن کا کڑ ،سید امین الدین ،سید منیر الدین ،سابق ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈشیر زمان اور سابقہ انچارج محمد نعیم اورملز مان بر حراست سا بق سیکرٹری خوراک علی بخش بلو چ اور سا بق ڈپٹی ڈائریکٹر ظا ہر جا ن جما لدینی بھی عدالت کے رو برو پیش ہو ئے ۔

نیب کی جا نب سے گواہ استغاثہ ڈپٹی ڈائریکٹر ٖفوڈ اصغر عبا س پیش ہو ئے تا ہم اسفند یا ر خا کا کڑ کے وکیل ممتاز محفوظ کی غیر مو جو د گی کے با عث گواہ استغا ثہ کا بیان قلمبند نہ ہو سکا اور مذکو رہ ریفرنس کی سما عت 17اکتو بر تک کے لئے ملتو ی کر دی گئی ہیں ۔

دریں اثناء حتسا ب عدالت کو ئٹہ ون کے جج جنا ب عبدالمجید ناصر نے محکمہ تعلیم بلو چستان میں جعلی بھرتیوں اور ملی بھگت کے ذریعے بو گس اساتذہ کو تنخوا ئیں دینے کے ریفرنس میں نا مزدسابقہ ڈائر یکٹر اسکولز، ایڈیشنل ڈا ئر یکٹر اسکولز، ڈسٹرکٹ آفیسرز، سینئر آڈیٹرز اے جی آفس اوراسٹنٹ اکاونٹس آفیسرزکے نا قا بل ضمانت وارنٹ گرفتار ی جا ری کر نے کے احکاما ت دے دئیے ہیں۔ 

گزشتہ روز احتسا ب عدالت کو ئٹہ کے جج جنا ب عبدالمجید ناصر نے ریفرنس پر احکاما ت دیتے ہو ئے محکمہ تعلیم کے سابقہ ڈائر یکٹر اسکولز محمد یوسف کہدہ ، ایڈیشنل ڈا ئر یکٹر اسکولز نظام الدین مینگل ، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن محمد فاروق، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن غفران احمد، سینئر آڈیٹرز اے جی آفس بلوچستان مشتاق احمد ، سید وجاہت شاہ، اسٹنٹ اکاونٹس آفیسرز سکندر عالم اور احسان اللہ کے نا قا بل ضما نت وارنٹ گرفتار ی جا ری کر دئیے۔ 

یا د رہے گزشتہ روز محکمہ تعلیم اور اکاؤ نٹنٹ جنرل بلو چستان آ فس کے آ فیسران کے خلا ف جعلی بھرتیوں اور ملی بھگت سے انہیں تنخوا ہوں کے اجراء کے الزام میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا بلکہ نیب کی جا نب سے مو قف اختیار کیا گیا تھا کہ نیب بلوچستان نے محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی جعلی بھرتیوں سے متعلق شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا تو انکشاف ہوا کہ محکمہ تعلیم اور اے جی آفس بلوچستان کے ریفرنس میں نامزد آ فیسران کی ملی بھگت سے بنیادی تعیناتی اور ٹرانسفر پوسٹنگ ظاہر کر کے محکمہ تعلیم میں سینکڑوں افراد کو بھرتی کیا گیا ہے ۔

محکمہ تعلیم کے سا بق ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آ فیسرنے جعلی پے فارمز کی تصدیق کر کے اے جی آفس بھیجوائے جسے اے جی آفس بلوچستان کے متعلقہ افسران نے مزید تصدیق اور قانونی تقاضے پورا کئے بغیر مذکورہ افراد کی تنخوائیں جاری کیں۔نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے سیکرٹری تعلیم کو اس بابت آگاہ کیا تو انکی جانب سے بھی ان اساتذہ کی بھرتی سے متعلق لا علمی کا اظہار کیا گیا تھا۔