کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ مردم شماری کا عمل مکمل ہونے کے بعد افغان مہاجرین کی تعداد سامنے لائی جائے محکمہ شماریات کی ذمہ داری ہے کہ وہ کوئٹہ سمیت شمالی بلوچستان میں آباد افغان مہاجرین سے متعلق معلومات عوام کو بتائیں ۔
بلوچستان ہائی کورٹ کا واضح حکم ہے کہ مردم شماری و خانہ شماری کے مراحل سے افغان مہاجرین کو دور رکھا جائے اور بلوچ آئی ڈی پیز کو شامل کیا جائے اب جب مردم شماری کے مراحل مکمل ہو چکے بلوچوں بلکہ بلوچستانیوں کا اجتماعی مطالبہ ہے کہ مہاجرین کی تعداد سے آگاہ کیا جائے ۔
افغان مہاجرین جو بلوچستان میں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں جو ہماری معیشت پر بوجھ ہیں دہائیوں سے مہمان نوازی کر رہے ہیں افغان مہاجرین کو باعزت طریقے سے اپنے وطن واپس بھیجا جائے ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نادرا اور پاسپورٹ آفس سے جو جعلی شناختی کارڈز ، پاسپورٹ بنائے گئے ان کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے منسوخ اور انتخابی فہرستوں سے ناموں کو نکالا جائے ہم اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے کہ افغان مہاجرین جو غیر ملکی ہیں انہیں ملکی شہریت دی جائے ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ خانہ شماری و مردم شماری کے حوالے سے پارٹی کا واضح موقف رہا ہے افغان مہاجرین تعداد سے آگاہ کیا جائے تاکہ عوام میں پائے جانے والے خدشات کسی حد تک کم ہو سکیں ۔
مردم شماری کے بعد افغان مہاجرین کی تعداد سامنے لائی جائے، بی این پی
![]()
وقتِ اشاعت : October 5 – 2017