کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس زیر صدارت شاہ محمد جتوئی منعقد ہوا جس میں تمام عہدیداروں نے شرکت کی اجلاس میں متفقہ طورپر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کی بار سیاست اور معاملات میں بے جا مداخلت کی پرزور الفاظ میں مذمت کی گئی ۔
اور کہا گیا کہ موصوف ایڈووکیٹ جنرل نہ تو وکلاء کے نمائندے ہیں اور نہ ہی وہ یہ حق رکھتے ہیں ایڈووکیٹ جنرل اپنے آپ کووکلاء نمائندہ ظاہر کرکے تمام بار کی باڈیز کے مسائل ان کے علم و منشاء کے بغیر حکومتی سطح پر غلط طریقے سے پیش کرکے وکلاء کے تمام اصولوں موقف اور ان کی مینڈنٹ کی توہین کررہے ہیں ۔
تمام بار کی منتخب کابینہ کو وکلاء کا مینڈنٹ حاصل ہے جو کہ ان کے حقوق اور دفاع کے ضامن ہیں اور اس پر کسی بھی صورت میں سودا بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی موصوف ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کی سودے بازی کی اجازت دیں گے جو کہ موصوف دن رات اپنے ذاتی مفادات اور کاروبار کی تگ و دو میں مصروف عمل ہیں ۔
واضح رہے کہ موصوف نے ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کا عہدہ شہداء 8 اگست وکلاء کے خون کا سودا کرکے حاصل کیا اور یہ عہدہ حاصل کرنے کے بعد موصوف نے 8 اگست کے واقعہ کی قائم کردہ کمیشن اور زیر سماعت سوموٹونوٹس معزز عدالت سپریم کورٹ میں تمام وکلاء کے موقف کی بھرپور مداخلت کی ۔
حالیہ قائم کردہ کمیٹی برائے ورثاء شہداء اور ان کے بچوں کے تعلیمی معاملات اخراجات اور وکلاء کی اسکالر شپ میں بار باڈیز اور ہائی کورٹ بار صدر جو کہ کمیٹی کے ممبر نہیں کی لاعلمی میں حکومت کو غلط گائیڈ کرکے یکطرفہ طورپر اس کی غلط طریقے سے عمل درآمد کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور حکومت بلوچستان کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ موصوف ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان بار میں ایک متنازعہ شخصیت ہیں ۔
جو ہر وقت اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لئے تمام وکلاء کے حقوق کو سپوتاژ کرکے مستفید ہوتے رہے اور ہم اپنی کابینہ کے توسط سے بلوچستان حکومت کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس موصوف کے اس عمل سے اپنے آپ کو دور رکھیں جو کہ اس کا یہ عمل بار اور حکومت کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی سازش ہے اور ساتھ ساتھ بار اور وکلاء کو آپس میں دست و گریباں کرنے کی کوشش ہے۔
بلوچستان ہائی کورٹ بار کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل کی بار کے معاملات میں مداخلت کی مذمت
![]()
وقتِ اشاعت : October 5 – 2017