کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا ء اللہ خان زہری نے کہاہے کہ خطے کو اس وقت دہشت گردی کے جن چیلنجز کا سامناہے ان سے نمٹنے کیلئے پاکستان اورایران کو مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرناہوگا،دونوں ممالک دہشت گردی کاشکار ہیں خاص طورسے پاکستان طویل عرصہ سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔
بین الاقوامی قوتیں خطے بالخصوص پاکستان میں عدم استحکام پیداکرناچاہتی ہیں پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن ریاست کے طورپر بے پناہ قربانیاں دے رہاہے ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے ایرانی قونصل جنرل محمدرفیع سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،جنہوں نے جمعرات کے روزوزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ان سے ملاقات کی ۔
وزیراعلیٰ نے سی پیک میں ایران کی شمولیت کی خواہش اورگوادربندرگاہ کی ترقی میں معاونت کی فراہمی کی پیشکش کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ خطے کے مسلم ممالک سی پیک کے ذریعے چین کے ساتھ معاشی اورتجارتی تعلقات کوفروغ دیکر ایک بڑی معاشی قوت بن سکتے ہیں جس کا فائدہ ان ممالک کے عوام کو پہنچے گا اوردہشت گردی کے خاتمے میں مددملے گی کیونکہ امن ہوگا تو ترقی آئے گی ۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ چاہ بہار اورگوادر کوریلوے لائن سے منسلک کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط میں اضافہ ہوگا اورباہمی تجارت کے حجم کو پانچ ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانے کا ہدف حاصل ہوسکے گا،
وزیراعلیٰ نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اورتجارتی روابط کے فروغ کیلئے ایران کے صدر حسن روحانی کے وژن کوسراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کی قیادت باہمی تجارتی ومعاشی تعلقات کووسعت دینے کیلئے سنجیدہ اقدامات پر متفق اورپُرعزم ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان چاول،پھلوں اورکاٹن سمیت دیگر مصنوعات ایران کو برآمد کررہاہے دونوں ممالک قانونی تجارت کے ذریعے ایک دوسرے کی ضروریات پوراکرسکتے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک مضبوط اورایٹمی طاقت کی حامل مسلم ریاست ہے جو قدرتی وسائل سے مالامال ہے ،بلوچستان طویل ساحل ،قیمتی معدنیات ،سمندری پیداواراورزراعت کے شعبوں میں ترقی کے روشن امکانات رکھتاہے اورملک کی معاشی اوراقتصادی ترقی میں اپنابھرپورکرداراداکرنے کیلئے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اورپاکستان کے مابین دیرینہ تعلقات ہیں اورہرمشکل گھڑی میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا بھرپورساتھ دینے کی روایات کو برقراررکھاہواہے،ہم امن کے دشمنوں کو دونوں ممالک کے بردارانہ تعلقات میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ انہوں نے جب سے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالاہے ان کی کوشش رہی ہے کہ بلوچستان اورسیستان بلوچستان کے درمیان تعلقات کو فروغ دیاجائے اورسرحدی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ دیگر امور کو خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیاجائے ۔
اس حوالے سے انہوں نے کہاکہ پاک ایران مشترکہ سرحدی کمیشن بہترین فورم ہے جس میں باہمی امور کوطے کیاجاتاہے۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے ایران کے قونصل جنرل نے کہاکہ پاکستان اورایران کے درمیان تجارتی اورمعاشی روابط کے فروغ کے ذریعے باہمی تعلقات کومزیدوسعت دی جاسکتی ہے ۔
ایران کے صدرحسن روحانی کی خواہش ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی اورمعاشی روابط کے ذریعے خطے میں امن واستحکام لایاجائے ۔انہوں نے کہاکہ ایران پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم کو پانچ ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانا چاہتا ہے۔
اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 1.15ارب ڈالر ہے جو دونوں ممالک کی استعداد سے بہت کم ہے جس کی ایک وجہ غیرقانونی تجارت اورسمگلنگ بھی ہے ،ایران کی خواہش ہے کہ بلوچستان کے ذریعے قانونی تجارت میں اضافہ کیاجائے جس سے بلوچستان کے تاجروں اورعوام کوفائدہ پہنچ سکے ۔
انہوں نے کہاکہ دونوں برادرصوبوں میں تجارتی روابط کے ذریعے امن اورترقی آئے گی انہوں نے کہاکہ ایران پاکستان کو بجلی ،گیس اورپیٹرولیم منصوعات کی فراہمی میں دلچسپی رکھتاہے اورچین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں شمولیت اورگوادربندرگاہ کی ترقی میں معاونت کی فراہمی کاخواہشمند ہے۔
انہوں نے کوئٹہ تفتان شاہراہ اورریلوے لائن کی تعمیر نو کیلئے بھی ایران کی جانب سے بھرپورتعاون کی یقین دہانی کرائی۔ایرانی قونصل جنرل نے صوبے میں امن وامان کے قیام کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہا اورزائرین کوفول پروف سیکیورٹی کی فراہمی پروزیراعلیٰ بلوچستان کاشکریہ اداکیا۔
ملاقات میں سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں اورانکے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے ،سمگلنگ کی روک تھام اورقانونی تجارت کے فروغ کیلئے جامع حکمت عملی وضع کرنے سے اتفاق کیاگیااورفیصلہ کیاگیا کہ پاک ایران جوائنٹ بارڈرکمیشن کے آئندہ اجلاس میں ان تمام امور کو شامل کیاجائے گا۔
ملاقات میں اس عزم کا اظہاربھی کیاگیا کہ امن دشمن عناصر کی جانب سے دونوں برادری اسلامی ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیداکرنے کی مذموم سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا۔
ایرانی قونصل جنرل نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو ایران کے دورے کی دعوت بھی دی جسے وزیراعلیٰ نے قبول کرلیا،دورے کی تاریخوں کاتعین جلدکیاجائے گا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے تحائف کا تبادلہ بھی کیاگیا۔