|

وقتِ اشاعت :   October 6 – 2017

کوئٹہ: عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ حکمران طبقات کی آپس میں چپقلش ذاتی گر وہی مفادات کیلئے ہے اس آر میں وہ ان ایشوز سے صرف نظر کئے ہوئے جو عوام الناس کو درپیش ہے چھوٹی قو میتوں باالخصوص ، پشتون بلوچ اقوام میں احساس محرومی بڑھتی جا رہی ہے ۔

وفاقی حکومت اہم قومی ایشوز فاٹا پشتونخوا انضمام، سی پیک مغربی روٹ پر عملدرآمد نہ کر کے اپنے وعدوں کی نفی کر رہے ہیں جبکہ صوبائی حکومت سیکورٹی خدشات کے بہانے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ذریعے پشتونوں کی آئے روز توہین وتضحیک اور نادرا حکام کے ذریعے انہیں شناختی کارڈ کے حصول سے یکسر محروم کئے رکھا ہے جس کے خلاف7 اکتوبر کو پارٹی کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی اور پریس کلب کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرایا جائیگا پارٹی ذمہ داران قوم کو ساتھ ملاتے ہوئے بھر پور شرکت کو یقینی بنائیں ۔

ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، صوبائی سینئر نائب صدر نوابزادہ عمر فاروق کاسی، ضلعی صدر ملک ابراہیم کاسی، جمال الدین رشتیا، عصمت اللہ بازئی، حاجی جبار کاکڑ اور سید یا سین آغا نے ضلع کوئٹہ کے بنیادی یونٹ صدور جنرل سیکرٹریز کے اجلاس منعقدہ ارباب ہاؤس سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر7 اکتوبر احتجاجی ریلی ومظاہرے سے متعلق تفصیل سے غور وخوص کیا گیا اور مختلف تجاویز اور اراء پر بحث کی گئی ۔

مقررین نے کوئٹہ سمیت پورے صوبے میں امن وامان کی گھمبیر صورتحال، عدم شفافیت، اقرباء پروری، میرٹ کی پامالی پر گہری تشویش کا اظہار کر تے ہوئے کہا گیاکہ حکمران عوام مشکلات ومصائب کو یکسر بھلا چکے اور ان وعدوں اور دعوؤں کو کرپشن کمیشن، قبضہ گیری کے نظر کر بیٹھے جو گزشتہ چالیس سالوں سے پشتونوں کے جذبات کو ابھارنے کیلئے لگائے جا رہے تھے اور قومی تحریک سے راہیں جد ا کی گئیں جبکہ دوسری جانب مذہب کی آڑ میں سادہ لوح پشتونوں کو اندھیرے میں رکھا گیا ۔

لہٰذا اس تمام تر صورتحال کو مد نظر رکھنا ہو گا اور گزشتہ کئی عشروں سے باریاں لینے والوں کی کردار کا سامنے رکھ پشتون اولس میں فکر با چا خان کے وسعت دیتا ہے جس کیلئے آپ ذمہ داران نے کلیدی کردار ادا کر نا ہے ۔

مقررین نے کہا کہ7 اکتوبر کے احتجاجی ریلی اور مظاہرے میں بھر پور شرکت کر کے اپنے ذمہ داریوں کو بروقت ادا کریں اور اولس کے غضب شدہ حقوق کیب ازیابی کیلئے بھر پور آوازاٹھائیں۔