کوئٹہ: کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے کہا ہے کہ بیرون ملک بیٹھے عناصر پاکستان اور بلوچستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے بلوچستان کے اصل نمائندہ یہاں بیٹھ کرعوام کی خدمت کرنے والے ہیں میں بلوچستان جا رہا ہوں مگر بلوچستان میرے دل سے نہیں جا رہا ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کی جانب سے ان کے اعزاز میں دیئے گئے الوداعی ظہرنے کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیااس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری، صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی ، سول وفوجی آفیسران بھی موجود تھے ۔
کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان سے جانے کا افسوس ہے مگر بلوچستان میں جو کارکردگی دکھائی اس سے مطمئن ہوں آج بلوچستان اس راہ پر گامزن ہے جہاں اس کی منزل ترقی وخوشحالی ہے بلوچستان کا مستقبل روشن ہے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام اور سیاسی قیادت نے جس طرح تعاون کیا اس پر ان کامشکور ہوں اور مجھے امید ہے جس اتحاد ویکجہتی کے ساتھ صوبے کے عوام نے بلوچستان کو ترقی کی را ہ پر گامزن کیا ہے اہل بلوچستان اسی طرح اتفاق واتحاد کے ساتھ بلوچستان کو ترقی کی منزل تک بھی پہنچائیں گے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ بیرون ملک بیٹھے عناصر پاکستان اور باالخصوص بلوچستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے بلوچستان کے اصل نمائندہ وہ لوگ ہے جو یہاں بیٹھ کر عوام کی خدمت کر رہے ہیں وہ لوگ ہر گز بلوچستان کے نمائندہ نہیں جو دیار غیر میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔
انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان سے جانے کا دکھ ضرور ہے مگر میں مطمئن ہوں کہ بلوچستان کے عوام کے لئے بہت سی کاوشیں کیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے میری ریٹائرمنٹ کے بعد میری خدمات بلوچستان کے لئے حاضر رہے گی ۔
صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا ہے کہ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے اپنے دور تعیناتی میں اقدامات کئے اس کے مثبت نتائج آج صوبے بھر میں نظر آرہے ہیں ۔
ان کی بلوچستان میں امن ، ترقی وخوشحالی میں ذاتی دلچسپی لینے پر بلوچستان کے عوام ان کے مشکور ہے اور ہمیں امید ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عامرریاض کی بلوچستان سے محبت مزید بڑھے گی اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ نے کمانڈر سدرن کمانڈلیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کو یادگاری شیلڈ اور تحفہ پیش کیا ۔
بیرون ملک بیٹھے عناصر پاکستان اور بلوچستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے،جنرل عامر ریاض
![]()
وقتِ اشاعت : October 6 – 2017