|

وقتِ اشاعت :   October 7 – 2017

واشنگٹن : وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کو سرحدوں کی مشترکہ نگرانی کے ساتھ ساتھ اس بات کی باقاعدہ پیشکش کی گئی ہے کہ اگر دہشتگرد گروپوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو ان کے کمانڈر ہماری فوج کے ایکشن اور ہمارے ہیلی کاپٹروں میں ہمارے ساتھ بیٹھ کر مشترکہ کارروائی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

افغان طالبان پر پاکستان کا اثر و رسوخ کم جبکہ روس سمیت خطے کے دیگر ممالک کا زیادہ ہے۔ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی ایک اور کوشش 16 اکتوبر سے مسقط میں شروع ہو رہی ہے جہاں چارفریقی ملاقات ہوگی۔

واشنگٹن میں پاکستان کے سفارتخانے میں امریکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے جسے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کے برعکس، گزشتہ تین چار برسوں سے پاکستان عسکریت پسند گروپوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کر رہا ہے اور اس ضمن میں پاکستان پر دہشتگردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام درست نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان سرحد کی مشترکہ نگرانی کے نظام کی پیشکش کر چکے ہیں پاکستانی فوج کے سربراہ دورہ کابل کے دوران افغان حکام کو پیشکش کرچکے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں۔ہم ان کو اپنے ساتھ ہیلی کاپٹر پر بٹھائیں گے۔ وہ ہمیں بتائیں جہاں جانا ہے ہم جائیں گے۔

اگر وہ ہم سے چاہتے ہیں کہ ہم ان کا کھوج لگائیں ہم لگائیں گے۔ لیکن محض کھوکھلے الزامات قابل قبول نہیں ہیں اگر افغان ایسے ایکشن کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو پھر مشترکہ ہو جانے دیں ہم تو پہلے ہی ان کو یہ پیشکش کر رہے ہیں کہ آئیے اور ہمارے ساتھ ہمارے ہیلی کاپٹروں پر بیٹھیں اور کسی بھی جگہ جاتے ہیں بھلے وہ چمن میں ہے، کوئٹہ میں ہے، پشاور میں یا کسی اور جگہ۔

انہوں نے کہا کہ مری مذاکرات کے دوران ملا عمر کی موت کی خبر سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو سخت دھچکہ پہنچا اگر ایسا نہ ہوتا تو آج صورتحال بہت مختلف ہو سکتی تھی۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت پاکستان سے زیادہ ماسکو اور خطے کے دیگر ممالک کا اثر و رسوخ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں برف پگھلی ہے اور امریکہ کی بطور سہولت کار ہمیں ضرورت ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ جب وہ اپنے گھر کو درست کرنے کی بات کرتے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ پاکستان میں نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی اور فوجی قیادت متفق ہے اور ہاس ان آرڈر لانے کے لیے اس منصوبے پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پوری یکسوئی سے دہشت گردوں کو ہدف بنا رہے ہیں، امریکا دہشت گردوں کے مقامات کی نشاندہی کرے ،ہم بمباری کریں گے۔ پاکستان کونہ صرف امریکابلکہ طالبان سے بھی اعتمادکی کمی کاسامناہے۔ 

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ولی ہیں، شاید ماضی میں ہم سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں لیکن صرف پاکستان کو مورد الزام نہ ٹہرایا جائے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ملا اختر منصور پر حملہ امن بات چیت کو سبوتاژ کرنے کے لیے تھا، ڈرون حملے میں لیڈر کی موت کے بعد سے طالبان پر پاکستان کا اثر کم ہوا اور طالبان پر اتنا اثر نہیں رہا جتنا ہوا کرتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ صدیوں سے پورے دل اور یکسوئی سے دہشت گردوں کو ہدف بنا رہے ہیں، صرف پاکستان کو مورد الزام نہ ٹہرایا جائے، امریکا دہشت گردوں کے مقامات کی نشاندہی کرے ہم بمباری کریں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں، پاکستان اور امریکا خطے میں امن، استحکام، خوشحالی کے مشترکہ مقصد کے لئے کام کر رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے بارے میں بہت فکرمند ہے، دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں زیاہ تر افغانستان کے غیر منظم علاقوں میں ہیں جو ملک کا 40 فیصد سے زائد ہے۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں دہشت گردی کے کئی حملوں کے تانے بانے افغانستان میں ملتے ہیں جب کہ ہماری مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں بہت اچھا کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان جیسا عزم اور کامیابیاں کسی دوسرے ملک کی نہیں۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ میں رکاٹ ڈال رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار سالوں کے دوران ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اہم ہتھیار تھے لیکن امریکہ نے اردن کو منع کیا کہ پاکستان کو پرانے ایف 16 طیارے فراہم نہ کیے جائیں۔

خواجہ محمد آصف نے کہا اس طرح دراصل امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے لیے رکاوٹ ڈالی۔انہوں نے کہاکہ افغان پناہ گزینوں کی موجودگی سے سرحد پار ایسے دہشت گردوں کو پناہ گزین کیمپوں تک رسائی مل سکتی ہے جنہیں حقانی یا دیگر گروپوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 

وزیر خارجہ نے کہا کہ اب یہ وقت ہے کہ افغان پناہ گزین واپس جائیں اور یہ امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو واپس ان کے شہروں میں بسائے کیونکہ امریکہ کی جنگ کی وجہ سے وہ پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔

اس سے قبل خواجہ آصف نے وائٹ ہاس میں امریکی مشیر قومی سلامتی جنرل مک ماسٹر سے ملاقات کی۔ملاقات پر باہمی تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بات کی گئی جب کہ خواجہ آصف نے مک ماسٹر کو جنوبی ایشیا کے لیے نئی امریکی پالیسی پر پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا۔