|

وقتِ اشاعت :   October 8 – 2017

تربت : نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ میر حاصل خان بزنجو ‘بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے چاہ سردشتی بازارسے بی این پی عوامی کے کارکنان سیٹھ جاوید میانداد ‘صابر میانداد ‘ اعجاز حاجی حسن ‘الطاف کریم ‘ عبدالخالق ‘اقبال آدم کی جانب سے بی این پی عوامی سے مستعفی ہوکر نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیارکر لی۔

اس موقع پر سیٹھ جاوید میانداد کے گھرکے احاطے میں منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جاوید میانداد اور صابرمیانداد کااپنے عزیز واقارب اور دوست احباب 160افراد سمیت نیشنل پارٹی میں شمولیت ہمارے لئے باعث مسرت اور حوصلہ افزاء امرہے ۔

‘ میر حاصل خان بزنجو نے کہاکہ بی این پی عوامی دس سال تک مسلسل اقتدار میں رہتے ہوئے طاقتور پوزیشن پرفائز رہی ہے ان دس سالوں میں وہ اپنے دس ایسے کام اور اقدامات دکھائیں جو انہوں نے عوام اور علاقے کی فلاح وبہبود اور خوشحالی کیلئے اٹھائے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ کیچ کے عوام نے احسان شاہ کے دس سالہ دوراقتدار والے کھنڈرات شہرکو بھی دیکھاہے اور ڈاکٹرمالک کے ڈھائی سالہ وزارت اعلیٰ کے دورمیں جدت پزیر تربت شہر کودیکھاہے ، عوام بی این پی عوامی اورنیشنل پارٹی کے دوراقتدارکے کاموں کاموازنہ کریں اوریہ نتیجہ اخذ کریں کہ آیا نیشنل پارٹی نے ان کے ووٹ کی حرمت کی لاج رکھی یا بی این پی عوامی نے؟

میر حاصل خان بزنجو نے کہاکہ ایسانہیں ہے کہ نیشنل پارٹی کے ایم پی ایز کو فنڈز ملاہے تبھی انہوں نے ترقیاتی کام کئے ہیں اوربی این پی عوامی کے دوراقتدارمیں ان کو فنڈزنہیں ملاہے اس لئے وہ کام نہیں کرسکے ۔

انہوں نے کہاکہ بی این پی عوامی کے دوراقتدارمیں ان کو نیشنل پارٹی کی نسبت زیادہ فنڈز میسرتھے مگر چونکہ ان کا ایجنڈا کرپشن ‘کرپشن اور صرف کرپشن ہے اس لئے وہ کھربوں روپے کے فنڈز کوبغیرڈکار کے ہضم کرگئے کیونکہ ان کا شیوہ ہے ۔

انہوں نے کہاکہ میں نے ایک مرتبہ احسان شاہ کوکہاکہ شاہ جی تم عوام کے فنڈز ہڑپ کرتے ہو تمہیں خدا سے ڈرنہیں لگتا توانہوں نے جواب دیا کہ یہ پیسہ میں پھر پانچ پانچ ہزار میں عوام پر تقسیم کرتاہوں اس لئے ڈرتانہیں ۔

انہوں نے کہاکہ جب کسی عوامی نمائندہ اور سیاسی رہنما کا سوچ اورمقصد پیسہ اورکرپشن ہو تو ان سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے انہوں نے کہاکہ آج ڈاکٹرمالک کے دوراقتدار کے تمام فنڈز کا حساب ان کے ترقیاتی کاموں کی صورت میں آپ کے سامنے واضح ہے مگر احسان شاہ نے دس سال میں کھربوں روپے کے فنڈز وصول کئے وہ کہاں خرچ ہوئے ۔

کسی کوکچھ بھی معلوم نہیں ، عوام ان سے یہ حساب لیں ، انہیں ہرمالی سال میں62کروڑ روپے ملے ہیں ، دس سالوں میں یہ رقم 6ارب سے زائد بنتے ہیں ، کیچ کے عوام ان سے پوچھیں کہ یہ کثیررقم انہوں نے کہاں خرچ کی ہے ، یہ عوام کاپیسہ تھا ، عوام کو حق حاصل ہے کہ ان سے حساب کتاب کرے ۔

انہوں نے کہاکہ میں شاہ جی کومشورہ دوں گا کہ نااہلی کے بعد اب وہ مزید ہاتھ پاؤں نہ مارے اس بے بنیادکیس پر اپنی دولت خرچ نہ کرے ، شرافت سے اپنے کاروبارکی طرف دھیان دے ، نیشنل پارٹی ان کے کاروبارکی ترقی کیلئے ان کے ساتھ مددوتعاون کرے گی کیونکہ ہم کاروبارکی ترقی وترویج کومثبت سمجھتے ہیں ۔

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کل جب ہم نے بی این وائی ایم تشکیل دی توہم محدودتھے اورہمیں بتایا گیاکہ یہ لڑکوں کی پارٹی ہے مگرہماری لیڈرشپ اورکارکنوں کی مستقل مزاجی ، ثابت قدمی ، جذبہ قربانی اورکمٹمنٹ کی بدولت آج نیشنل پارٹی بلوچستان کی سب سے بڑی قوم پرست جماعت کے طورپر ابھرکر سامنے آرہی ہے ۔

آج نیشنل پارٹی نصیر آباد سبی لسبیلہ بارکھان جیسے علاقوں میں نہ صرف سرایت کرچکی ہے بلکہ اپنی مضبوط سیاسی وتنظیمی انفرااسٹرکچر رکھتی ہے یہ وہ علاقے ہیں جہاں نیپ بھی نہ جاسکی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس ایک قومی وژن اورنیک مقاصد ہیں ہم سطحی نعرہ بازی اورجذباتی تقریروں پریقین نہیں رکھتے ، ہم سمجھتے ہیں کہ پڑھالکھا اور پرامن بلوچستان ہی ہماری بقاء کی ضامن ہے ۔

انہوں نے کہاکہ جاوید میاندان نے محنت ومزدوری کرکے کاروبارمیں آگے بڑھاہے ہمیں چاہیے کہ ہم کاٹیج انڈسٹری کے رجحان کو آگے بڑھائیں کیونکہ کاروبار ہی ہماری قومی معیشت کومستحکم کرسکتی ہے اور خوشحال معاشرہ کی تشکیل میں بنیادی کردار اداکرسکتی ہے ، سرکاری ملازمتیں ہمارے معاشرے کی بے روزگاری کا خاتمہ نہیں کرسکتے۔

جاوید میانداد اپنے کاٹیج انڈسٹری سے 60،70لوگوں کو روزگارفراہم کیا ہے یہ اہم اقدامات ہیں انہوں نے کہاکہ زراعت ہمارے علاقے کابنیادی معیشت رہاہے ہم نے ایک جدید کجھورفیکٹری بنایا ہے جوآنے والے دنوں میں ہمارے علاقے کیلئے ایک معاشی وزرعی انقلاب سے کم نہ ہوگی ، ایک انڈسٹریل زون کا قیام عمل میں لارہے ہیں جوکہ علاقے میں صنعتوں کے قیام کے رجحان کو آگے بڑھائے گی جومعاشی ضرورتوں کو پوراکرے گا ۔

ڈاکٹر مالک نے کہاکہ بی این پی عوامی سیاسی نہیں بلکہ لٹیروں کا ایک گروہ ہے تربت میں اسٹیڈیم کی زمین قبضہ کیا کجھورفیکٹری کی زمین قبضہ کیا ہم نے1985میں اسٹیڈیم کیلئے یہ زمین لی تھی مگر90ء کی دہائی میں ہماری حکومت کے خاتمہ کے بعد انہوں نے نہ اسٹیڈیم کوبخشا نہ سٹیلائٹ ٹاؤن کوبخشا ۔

انہوں نے کہاکہ تربت میں آبادی کادباؤ بہت بڑھ رہاہے بڑھتے ہوئے آبادی کومنیج کرنے کیلئے ہمیں تربت میں 20ہزار پلاٹس کی ضرورت ہوگی ہم نے6500پلاٹس پر مشتمل میرانی ہاؤسنگ اسکیم بنایا ہے سٹیلائٹ ٹاؤن اور اوورسیز ہاؤسنگ اسکیم بھی ہمارے قائم کردہ ہیں بی این پی عوامی نے عوام کی فلاح وبہبود کیلئے ایک بھی ہاؤسنگ اسکیم لانچ نہ کیا بلکہ ہمارے قائم کردہ ہاؤسنگ اسکیموں کی زمینوں کی بندربانٹ کی گئی ۔

انہوں نے کہاکہ بی این پی عوامی میں موجود شریف النفس ‘ایماندار اورپڑھے لکھے لوگوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس دلدل سے نکلتے ہوئے نیشنل پارٹی کی قومی جدوجہد کاحصہ بنیں ہم انہیں خوش آمدیدکہیں گے اجتماع سے واجہ ابوالحسن اورمحمدجان دشتی نے بھی خطاب کیاجبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض چیئرمین حلیم بلوچ نے اداکئے۔