|

وقتِ اشاعت :   October 8 – 2017

کوئٹہ:  عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے نادرا حکام کے رویے اور سیکورٹی چیک پوسٹوں پر پشتونوں کو بلا جواز تنگ کرنے کے اقدامات پر تشویش اور غم و غصے کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حالت ناقابل برداشت بن چکی ہے پشتونوں کو کسی انتہائی اقدام پر مجبور نہ کیا جائے بہت مجبورکیا گیا تو پشتون چوراہوں پر کھڑے ہو کر شناختی کارڈ نذر آتش کردیں گے۔

اس ملک میں پشتونوں کو بھی دوسری اقوام کے برابر حقوق اور قوانین چاہئیں ایک ہی ملک میں دو طرح کے قوانین قبول نہیں ہیں ،

پشتونوں کاایک ہی لیڈر اسفندیار ولی خان ہے اور اے این پی ہی پشتونوں کی واحد قومی جماعت ہے ،فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد وقت کی اولین ضرورت ہے ہم حیران ہیں کہ نواز شریف کے اتحادی پشتون کیوں پشتونوں کی یکجہتی کی مخالفت کررہے ہیں وقت آنے پر پشتون ان سے ضرورحساب کتاب کریں گے ۔

ان خیالات کااظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی ، صوبائی اسمبلی میں اے این پی پارلیمانی لیڈر انجینئرزمرک خان اچکزئی ،صوبائی جنرل سیکرٹری حاجی نظام الدین کاکڑ، ارباب عمر فاروق کاسی ،ملک ابراہیم کاسی اور سید امیر علی آغا نے بھی خطاب کیا ۔

مظاہرین سے خطاب کرتے اصغرخان اچکزئی نے کوئٹہ سمیت بلیلی سے لے کر ژوب اور چمن تک پولیس اور سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر تلاشی کے نام پر پشتونوں کی تذلیل کی جاتی ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ان چیک پوسٹوں پر داڑھی پگڑی والے پشتون افغان عوام کی بے عزتی کی جاتی ہے انہیں بسوں اور گاڑیوں سے اتار کر انہیں سرعام مرغا بنا کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہ سلسلہ ایک عرصے پشتونوں کے ساتھ جاری ہے ۔

ہمیں کبھی شناختی کارڈ اور کبھی افغانیت کے نام پر تنگ کیا جاتا ہے اور یہاں تک ان چیک پوسٹوں پشتونوں کی خواتین، بوڑھوں اور بچوں کو بھی گاڑیوں اور بسوں سے اتارا جاتا ہے جن کی ویڈیوز بھی موجود ہیں آخر یہ کونسی سیکورٹی ہے جس میں خواتین کے سروں اور چہروں سے دوپٹوں کو اتار ان کی تلاشی لی جاتی ہے کیا ۔

اسلامی یا کسی کی قومی روایات میں بھی خواتین بوڑھوں اور بچوں کی اتنی تذلیل کی جاتی ہے یا دنیا کی تاریخ میں بھی کبھی کسی کی سیکورٹی کے نام پر اتنی تذلیل ہوئی ہے جتنی کہ آج کل یہاں پر پشتونوں کی ہورہی ہے

ہمارے لوگ اب کوئٹہ سے ژوب، پشین، چمن زیارت اور ہرنائی سمیت کسی بھی علاقے کیلئے سفر بھی نہیں کرسکتے اگر سفر کرتے بھی ہے تو جگہ جگہ سیکورٹی کے نام پر قائم چیک پوسٹوں پر ان کی تذلیل کی جاتی ہے ۔

دوسری طرف یہی چیک پوسٹیں کاروباری اور رشوت خوری کی چیک پوسٹیں بن چکی ہیں ان چیک پوسٹوں پر جب اہلکاروں کو رشوت دی جاتی ہے تو پھر بارود لے جانے والوں کو بھی کچھ نہیں کہا جاتا اور اب تو چمن میں سیکورٹی کے نام پر لوگوں کو کلیوں سے بے دخل کیا جارہا ہے حکمرانوں اور فورسز کے ان رویوں کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں دنیا کی کوئی طاقت افغان اور افغانیت سے نہیں نکال سکتی میں افغان تھا افغان ہوں اور افغان رہونگا۔

ہمیں بحیثیت پشتون قوم اس ملک میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے سیکورٹی کے نام پر تذلیل کے ساتھ ساتھ پشتونوں کوشناختی کارڈ کے نام پر بھی ذلیل و خوار کیا جارہا ہے ۔

اس ملک میں دوسری اقوام اور شہریوں کے لئے شناختی کارڈ کے الگ شرائط جبکہ پشتونوں کے لئے الگ شرائط رکھی گئی ہیں ہمارے اراکین پارلیمنٹ کے احتجاج کے بعد شناختی کارڈ کے حصول کے حوالے سے جو نوٹیفکیشن جاری ہوا ۔

اس پر بھی کوئی عملدرآمد نہیں ہورہا اگر واقعی کوئی ہمیں اس ملک کے شہری مانتے ہیں تو پھر ہمارے لئے بھی شناختی کارڈ کے حصول کے شرائط دوسری اقوام سے یکساں شرائط ہونی چاہئیں شناختی کارڈ کے حصول کے لئے ہماری خواتین رات نادرا دفاتر کے سامنے گزارتی ہیں ہم اب ایک مشکل ڈگر پر ہیں

ہمیں سیکورٹی اور شناختی کارڈ کے نام پر مزید تنگ نہ کیا جائے اگر شناختی کارڈ کے حصول کے لئے یہی شرائط برقرار رہیں تو پھر ہم سڑکوں اور چوراہوں پر آپ کے تمام شناختی کارڈ جلا دیں گے ۔

پھر ہمیں آپ کے شناختی کارڈ کی کوئی ضرورت نہیں یہ ملک 71ء کے سانحے سے گزرا ہے اور یہ ملک مزید سانحات کا متحمل نہیں ہوسکتا اگر ہم نے پھر کوئی فیصلہ کیا تو پھر یہاں پر کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ہم پھر اپنے لئے راستے کا انتخاب کرسکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں پشتونوں کو ہر شعبے میں نظر انداز کیا جارہا ہے سی پیک منصوبے کی مثال سب کے سامنے ہے جس میں پشتونوں کو یکسر نظر انداز کردیاگیا سابق وزیراعظم نواز شریف اور احسن اقبا ل نے جھوٹے وعدے کئے ۔

ان کے پشتون ہمنواؤں نے ان جھوٹے وعدوں میں ان کا ساتھ دیا آج سی پیک تو پنجاب میں نظر آرہا ہے اور ہمارے علاقے اسی طرح پسماندگی کا شکار ہیں افسوس کی با ت تو یہ ہے کہ کچھ پشتونوں نے اسمبلی جا کر اسی نواز شریف کو شیر شاہ سوری اور سقراط کے خطابات دیئے اور انہی نام نہاد پشتون قوم پرستوں نے پشتونوں کے یکجا ہونے کی بھی مخالفت کی جس کی سب سے بڑی اور واضح مثال فاٹا اصلاحات کی مخالفت ہے ۔

فاٹا کے انضمام کی مخالفت اگر مذہبی جماعتیں کریں تو بات سمجھ میں آجاتی ہے مگر وہ لوگ جو پشتونوں کی یکجہتی کی بات کرتے ہیں ان کی مخالفت ہمیں سمجھ میں نہیں آتی اور فاٹا انضمام پر انگریزوں کے حوالے دے رہے ہیں یہی انگریز تو ہمارا سب سے بڑا دشمن تھا آپ کیسے ان انگریزوں کے حوالے دے رہے ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم فاٹا سمیت پشتونوں کی ایک وحدت بنا کر دم لیں گے ہماری تحریک ہر قسم کے مفادات سے بالاتر ہو کر پشتونوں کی ایک قومی اور قربانیوں سے بھری ہوئی تحریک ہے ہم سب پر یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ پشتونوں کاایک لیڈر اسفندیار ولی خان ہے ۔

پشتونوں کی ایک ہی پارٹی عوامی نیشنل پارٹی ہے اور پشتونوں کا ایک ہی جھنڈا ہے جس کا رنگ سرخ ہے ۔

اس کے علاوہ نہ پشتونوں کا کوئی لیڈر نہ پارٹی اور نہ ہی پشتونوں کا کوئی قومی جھنڈا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ 7اور11اکتوبر کے شہداء کی یاد میں جلسے کرنے والے یہ بتائیں کہ آخر وہ کس سے شہداء کے خون کا بدلہ چاہتے ہیں جس کو آپ نے ان شہداء کا قاتل قرار دیا تھا وہ تو آپ کا رہنماء بن گیا ہے

آپ ان کے ساتھ حکومت میں شامل ہو ان کو ہا ر اور پگڑیاں پہنا رہے ہو آج شہداء کی یاد میں ہونے والے جلسے میں بھی انہی کو بلا کر مہمان خصوصی بنا دیتے ۔انہوں نے کہا کہ پشتون قومی تحریک کے ملی سالار اسفندیار ولی خان 27اکتوبر کو پشین میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔