کوئٹہ : پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنماؤں نے شہدائے جمہوریت 7اکتوبر 1983ء اور شہدائے وطن 11اکتو بر 1991ء کو خراج تحسین وعقیدت پیش کرتے ہوئے طلباء پر زوردیاہے کہ وہ فکری اور شعوری طور پر بین الاقوامی ،سماجی ،سیاسی ،معاشی ،جغرافیائی حالات کا مطالعہ کریں ہم پر مزید سخت حالات آسکتے ہیں جس کیلئے ہمیں تیار رہنا ہوگا اورآپس میں اتحاد واتفاق کامظاہرہ کرناہوگا۔
ملک میں جمہوریت ،قانون کی حکمرانی ،آئین کی بالادستی ،پارلیمنٹ کی خودمختاری ،قوموں کی برابری ،انصاف ،مادری زبانوں کی ترقی وترویج ،قوموں کی مادر وطن کے وسائل پر واک واختیار ،تعلیم وترقی کیلئے پشتونخوا ایس او اور پشتونخوا میپ کی جدوجہد ،تاریخ ساز اور لازوال ہے ۔
پارٹی چیئرمین اور ان کے خاندان کیخلاف سازشیں کی جارہی ہیں جس کی مثال ٹریفک حادثے کے ایف آئی آر میں دہشت گردی کے دفعات شامل کرنا ہے ،آئے روز سینکڑوں ٹریفک حادثات رونما ہوتے ہین جس میں بے شمار قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں لیکن آج تک کسی گاڑی حادثے میں کسی کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج نہیں کیاگیاہے ۔
افغانستان میں جاری مداخلت کی پالیسی ترک نہ کی گئی تو ہم مزید تباہی وبربادی کاسامنا کرسکتے ہیں مردم شماری میں پشتونوں کے ساتھ ماضی کی طرح ایک بار پھر دھاندلی کی گئی ہے ۔
ان خیالات کااظہار پشتونخوامیپ کے مرکزی رہنماء پشتون اولس قومی جرگے کے کنونیئر صوبائی وزیر واسا اینڈ پی ایچ ای نواب محمدایاز خان جوگیزئی ،مرکزی سیکرٹری مالیات اور میئرکوئٹہ ڈاکٹرکلیم اللہ خان ،مرکزی سیکرٹری سا بق سینیٹر عبدالرؤف لالا ،ڈپٹی سیکرٹری یوسف خان کاکڑ ،رکن صوبائی اسمبلی آغاسید لیاقت علی ، علاؤ الدین خان کلکوال، خاتون رکن صوبائی اسمبلی سپوژمئی اچکزئی ،پروفیسر عبدالغنی خان غنو ،حیات میر زئی ،اقبال بٹے زئی ،نظام عسکر ،نصیر ننگیال ، ملک عمر خان ،محمود احمد اور طیب خان نے پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام ’’شہدائے جمہوریت7اکتوبر 1983ء اور شہداء وطن 11اکتوبر1991 ‘‘کی یاد میں گورنمنٹ سائنس کالج کے ظریف شہید آڈیٹوریم میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تعزیتی ریفرنس میں بڑی تعداد میں طلباء نے شرکت کی ،تعزیتی ریفرنس کی صدارت پشتونخوا ایس او کے مرکزی رابطہ وآفس سیکرٹری دوست محمد خان لونی نے کی ۔مقررین نے کہاکہ ملک میں جمہوریت جمہوری قوتوں کے مختلف اتحادوں ،قانون کی حکمرانی آئین کی بالادستی ،پارلیمنٹ کی خودمختاری ،قوموں کی برابری ،انصاف اور تعلیم وترقی کیلئے پشتونخوا ایس او اور پشتونخوا میپ کی جدوجہد ،تاریخ ساز اور لازوال ہے ۔
سب سے پہلے غلامی سے نجات اور ظلم وبربریت کے خلاف بانی تحریک خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے 32سالہ مسلسل قید وبند کے بعد اپنے خون کا نذرانہ دے کر تحریک کی بنیادیں رکھیں اور ہمیں یہ پیغام دیاکہ اپنے بہتر اور آزاد مستقبل کیلئے خود کو فنا بھی کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرنا چاہئے ۔
پارٹی بانی بابائے پشتون خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے نقش وقدم پر چلتے ہوئے جب ملک میں 1973ء کے آئین کے بعد پہلا ضیائی مارشل لاء لگائی گئی تو سب سے پہلے خان شہید کے فرزند اور پارٹی چیئرمین محترم مشر محمود خان اچکزئی نے ایم آر ڈی تحریک بحالی جمہوریت کے ساتھ مارشل لاء کے خلاف سب سے پہلے کوئٹہ میں پارٹی کی جانب سے جلوس اور جلسے کاانعقاد کیا ۔
اعوام سے اپیل کی کہ آمریت کے خلاف نکل کر پرامن احتجاج ریکارڈ کرائیں اس وقت کے گورنرجنرل اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر رحیم الدین نے 7اکتوبر1983ء کو فورسز کو حکم دیا کہ اس جلوس اور جلسے پر فائرنگ کرکیا ن کے اکابرین کو قتل کیاجائے لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا ۔
اس وقت کے کارکنوں اور پشتونخوا ایس او کے اسلم خان اولسیار شہید ،کاکا محمود شہید ،رمضان شہید ،داؤد شہید نے اپنے سینے گولیوں کے سامنے حاضر کئے اور اپنے رہبر محمود خان اچکزئی کو بچا کر خود جام شہادت نوش فرمائی اسی طرح سینکڑوں کارکن زخمی ہوئے جبکہ درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرکے ان پر جھوٹے ،ناروا اور من گھڑت مقدمات درج کرکے انہیں سخت ترین سزائیں سنائی گئی ۔
ان تمام شہداء کے ایف آئی آرز پارٹی چیئرمین کے خلاف درج کئے گئے اور انہیں اشتہاری قراردیدیا گیا اور مسلسل کئی سالوں تک انہیں روپوشی اور جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا اسی طرح وطن کی حفاظت کی خاطر11اکتوبر 1991 ء کو شرپسندوں کی جانب سے پارٹی دفتر پر حملہ کیا گیا اور عبدالرحیم کلیوال شہید ،صابر شاہ شہید ،باز محمد شہید ،صاحب جان شہید ،حبیب الرحمن شہید کو گولیوں سے نشانہ بنایاگیا ۔
صرف یہی نہیں بلکہ وطن کی دفاع آزادی اور ملی وارضی تمامیت کیلئے پارٹی نے ہر وقت شہدائے جمہوریت اور شہدائے وطن کے ساتھ شہدائے پشتون آباد ،شہدائے توبہ اچکزئی ،شہدائے گلستان دے کر یہ ثابت کردیاکہ وطن کی ایک ایک انچ کی دفاع وحفاظت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے ۔
مقررین نے کہاکہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی ہمیشہ کہتے تھے کہ پشتون قوم اپنے لیڈر اور اپنی بیوی کو صاف اور باکردار دیکھنا چاہتے ہیں ،ہمیں آج سالار شہداء اور تمام شہداء پر فخر ہے اور انہیں عقیدت واحترام کے ساتھ سرخ پھول پیش کرتے ہیں
شہداء 7 اکتوبر کو خراج عقیدت افغانستان میں مداخلت بند نہ کی گئی تو مزید تباہی سے دو چار ہونگے ،پشتونخواء پی ایس او
![]()
وقتِ اشاعت : October 8 – 2017