سبی: بلوچستان نیشنل موومنٹ کے مرکزی صدر وقوم پرست لیڈ ر ڈاکٹر عبدالئحی بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں70سالوں سے تسلسل سے بلوچ قوم پر ظلم وستم کاسلسلہ جاری ہیں سازی عناصر بلوچستان کے مثالی امن کوتباہ وبرباد کرچکے ہیں ۔
بلوچستان اسمبلی ہویا صوبائی ورازء سب برائے نام ہیں اصل حکمران اور حکومت تو اسلام آباد کی ہے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سانحہ فتح پور رونما ہوا عام شخص کی تو جگہ جگہ تلاشی کی جاتی ہے جبکہ واردات کیلئے آنے والوں کو کھلی چھوٹ سمجھ سے بالا تر ہیں ۔
سانحہ درگاہ فتح پور میں پولیس آفیسران کی بہادر کو سلام پیش کرتا ہوں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز قومی خبر رساں ادارے آئی این پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
قوم پرست لیڈر ڈاکٹر عبدالئحی بلوچ نے کہا کہ جو پالیسیاں بلوچستان میں گزشتہ 70سال سے جاری رکھی گئیں ان پالیسیوں پر آج بھی تسلسل کے ساتھ عملدرآمد کیا جارہا ہے بلوچستان کی عوام کو بندوق کی نوک پر زر کرنے کی کوشش میں مگن حکمرانوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں عوام کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے کبھی بم دھماکہ کبھی ٹارگٹ کلنگ کبھی مسخ شدہ لاشوں کی بر آمدگی کے باعث بلوچستان کو وہ کوئی سا گھر محلہ شہر ہوگا جس میں لوگ اپنے پیاروں کے غم میں مبتلا نہ ہوں ۔
بلوچستان ایک پرامن پرسکوں علاقہ تھا جہاں ہر قبیلہ ہر فرقہ ہر مذہب کے لوگ آپس میں بھائی چارے کے ساتھ پرسکون ماحول میں اپنی اپنی زندگیوں میں مگن تھے لیکن حکمرانوں کی نااہلی اور ناقص پالیسیوں کے باعث آج بلوچستان عالمی سازشوں کا گھڑ بنا چکا ہے اور سازشی عناصر اپنے کھیل میں مگن ہوکر بلوچستان کو آگ اور خون کے دریا تبدیل کرچکے ہیں۔
صوبائی حکومت سمیت بلوچستان کا ہر وزیر بے بسی کی کو واضح ثبوت ہے بلوچستان کے حکمران بے بسی کا شکار ہے وفاقی اور اسلام آباد کی غلط پالیسیوں کی بدولت آج بلوچستان میں مذہبی عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں سانحہ درگاہ فتح پور ، سانحہ شاہ نورانی سانحہ 8اگست سمیت دیگر المناک واقعات سے دل خون کے آنسو روتا ہے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا خمیاز عوام کو بھگتنا پڑتا ہے ۔
انہوں نے سانحہ فتح پور میں کی پرروز مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سمجھ سے تالا تر ہے کہ عام شہری کی تو جگہ جگہ تلاشی لی جاتی ہے اور خودکش بمبار کس طرح ایسے دوردراز علاقوں میں پہنچ کر اپنے ناپاک عزائم سے علاقوں کے علاقوں کو خون آلود کردیتے ہیں ۔
حفاظتی اقدامات تو حکمران اپنے لئے کرتے ہیں جبکہ کہ موجودہ حالات کا بخوبی علم ہونے کے باوجود کوئی خاطر خواہ حفاظتی اقدامات نہیں کئے جاتے انہوں نے سانحہ فتح پور میں بہار پولیس آفیسران اہلکاروں سمیت بے گناہ نہتے شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر موقع پر پولیس اہلکاراپنا کردار ادا نہیں کرتے تو شاہد سینکڑوں کی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ تھا بلوچستان نیشنل موومنٹ ایسے آفیسران اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہے ۔
مطالبہ کرتے ہیں کہ وواقعات میں شہادت ہونے والے پولیس آفیسران اہلکاروں سمیت عام شہریوں کیلئے معاضہ کا اعلان کیا جائے بلوچستان نیشنل موومنٹ غم زدہ خاندانوں کے دکھ وغم میں برابر کی شریک ہے۔
بلوچستان نیشنل موومنٹ کے مرکزی صدر وقوم پرست لیڈر ڈاکٹر عبدالئحی بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کو امن کا گہوراہ بنانے اور بلوچ قوم کی ترقی خوشحالی اور سرزمین بلوچستان کے دفاع کیلئے میدان میں نکلے ہیں ہمارا مقصد بلوچ قوم کو مسائل سے چھٹکارا دلانا ہے ۔
بلوچستان کے سلگتے مسائل کو حل کرنے کیلئے بلوچ قوم کا متحد ہونا وقت کی ضرورت بن چکا ہے آگر آج بھی ہم اپنے مفادات کے حصول میں مگن رہے تو آنے والی نسل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔
تسلسل سے بلوچ قوم پر ظلم وستم کاسلسلہ جاری ہیں،ڈاکٹر حئی بلوچ
![]()
وقتِ اشاعت : October 8 – 2017