کوئٹہ: بولان میڈیکل ٹیچر ایکشن کمیٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی نے کہاکہ ٹراما سینٹر کو پی ایم ڈی سی اور سی پی ایس پی نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہاہے کہ یہ غیر قانونی طورپر ٹراما سینٹر چلایا جارہاہے ۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان نے ہمارے چند مطالبات مان لئے تھے اور ان کا نوٹفکیشن بھی جاری کیا تھا اب محکمے نے ہمارے بقیہ مطالبات ماننے سے انکار کردیا ہے جس پر ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 10اکتوبر تک اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے تو ہم بھر پور احتجاجی مظاہرہ کرینگے ۔
اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں کوئٹہ کے تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میں روزانہ صبح 8بجے سے 10بجے تک اوپی ڈیز میں دوگھنٹے کی ٹوکن ہڑتال ہوگی یہ سلسلہ ایک ہفتے تک جاری رہیگا اور اگر اس دوران ہمارے جائز مطالبات نہ مانے گئے تو آئندہ ہفتے سے احتجاج میں مزید شدت لائی جائے گی ۔
انہوں نے یہ بات اتوار کے روز کوئٹہ پریس کلب میں دیگر ڈاکٹرز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔انہو ں نے کہاکہ ٹراما سینٹر میں مسلط کردہ متعین خطبی اور جنونی میڈیکل ڈائریکٹر کو فوری طورپر ہٹاکر ٹراما سینٹر اور سول ہسپتال سے باہر اپنی پرائمری جائے تعیناتی پر بھیجا جائے اور مروجہ اصولوں کے پیش نظر ٹیچنگ فیکٹی کے سینئر ممبر ز کو بطور میڈیکل ڈائریکٹر اور انتظامیہ سربراہ کے تعینات کیا جائے ۔
انہوں نے کہاکہ ٹراما سینٹر کو پی ایم ڈی سی اور سی پی ایس پی نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اس کو فوری طورپر ٹیچنگ ادارے کے طورپر تسلیم کرانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ٹراما سینٹر کیلئے مختص لگ بھگت 130سے زیادہ پوسٹوں فوری طورپر مشتہر کرکے مروجہ قانونی طریقہ کار کے مطابق میرٹ پر بھرتیاں کی جائے ۔
انہوں نے کہاکہ بولا ن میڈیکل ٹیچر ایکشن کمیٹی اور صوبائی وزیر صحت رحمت صالح بلوچ اور محکمہ صحت کی مجاز اتھارٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں ینگ ڈاکٹر ز ایسوسی ایشن کے عہدیدار بھی موجود تھے ۔
مذاکرات کے نتیجے میں فریقین کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوا جس کے دوران ہمارے چند مطالبات مان لیں گئے اور باقی کو منظور کرنے کی یقین دہائی کرائی گئی مگرحکومت نے 7اکتوبر کو انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے درمیان طے شدہ تحریری معاہدے سے انکار کرتے ہوئے 26ستمبر 2017کے نوٹیفکیشن منسوخ کرکے دوبارہ 22جولائی 2017کے غیر قانونی نوٹفکیشن کو دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے ۔اگر یہ نوٹفیکشن منسوخ نہ کیاگیا تو ہم ہڑتال کرنے پر دوبارہ مجبور ہونگے ۔
کوئٹہ ٹراما سینٹر کو پی ایم ڈی اور سی پی ایس پی نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا
![]()
وقتِ اشاعت : October 9 – 2017