کوئٹہ : نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کی سیاسی جدوجہد روشن خیال اور ترقی پسند معاشرے کی تشکیل کے حصول کے لئے تھی عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور آزادی اظہار رائے کا احترام ہو 22 اکتوبر کو بابائے بلوچستان کی صدسالہ یوم پیدائش کے سلسلے میں کوئٹہ میں جلسہ عام عوامی شعور کو پروان چڑھانے میں سنگ میل ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز نیشنل پارٹی وحدت بلوچستان کے جنرل سیکرٹری میر عبدالخالق بلوچ ‘ صوبائی وزراء سردار محمد اسلم بزنجو ‘ نواب محمد خان شاہوانی ‘ میر رحمت صالح بلوچ ‘ ورکنگ کمیٹے کے ممبر میر ضیاء اللہ لانگو ‘ ضلعی صدر حاجی عطاء محمد بنگلزئی ‘ نیاز بلوچ ‘ چیئرمین مارکیٹ کمیٹی حاجی عبدالصمد بلوچ ‘ موسیٰ جان خلجی سمیت دیگر نے مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
اس موقع پر مرکزی کمیٹی کے ممبران میرکریم کھیتران ‘ خیرجان بلوچ ‘ ضلعی جنرل سیکرٹری علی احمد لانگو ‘ عبیدلاشاری ‘ ملک نصیر شاہوانی ‘ جلیل ایڈووکیٹ ‘ سعید سمالانی ‘ عالم بنگلزئی سمیت دیگر موجود تھے ۔
مقررین نے کہا کہ بابائے بلوچستان میرغوث بخش بزنجو نے اپنی بصیرت سے موجودہ حالات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ خارجہ پالیسی کو سیاسی حکمت عملی سے تشکیل دیا جائے ورنہ اس کا خمیازہ آئندہ نسل بھگتے گی لیکن اس وقت کی قیادت نے کم علمی اور وقتی فیصلے کرکے ملک اور آگ اور خون میں دھکیل دیا اور آج ملک دہشت گردی کی مکمل لپیٹ میں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بابائے بلوچستان کے سیاسی ویژن اور جدوجہد کو نیشنل پارٹی نے نظریہ جدوجہد بناتے ہوئے ملک میں فلاحی ریاست کے قیام میں مصروف عمل ہے اور نیشنل پارٹی کی جدوجہد کا محور عوام اور عوامی حقوق کا حصول ہے جس کے لئے نیشنل پارٹی نے اپنے قائدین اور ورکرز کی قربانیاں بھی دی ہیں لیکن اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا ۔
انہوں نے کہا کہ 22 اکتوبر کو بابائے بلوچستان کی یاد میں سریاب کوئٹہ میں جلسہ عام عوامی انقلاب کا ذریعہ ثابت ہوگا جو بابائے بلوچستان کی سیاسی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے سیاسی شعور اور سنجیدگی کا مظاہرہ ہوگا پارٹی کارکنان موبلائزیشن کے عمل کو تیز کرتے ہوئے جلسہ عام کی کامیابی کے لئے اپناکردار ادا کرے۔
خارجہ پالیسی کو حکمت عملی سے تشکیل نہ دیا گیا تو آئندہ نسلیں خمیازہ بھگتیں گی ،نیشنل پارٹی
![]()
وقتِ اشاعت : October 11 – 2017