کوئٹہ : ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے کہا ہے کہ سی آئی اے نے کامیاب کاروائی کرتے ہوئے 15لاکھ تاوان کے لئے اغواء کئے گئے 8سالہ بچے ضیا ء اللہ کو بازیاب کروا کر دو اغواء کاروں گوفتار کر لیا ہے۔
سانحہ 8اگست میں ملوث 7ملزمان ہلاک اور 2گرفتار کر لئے ہیں مولانا علی محمد ابوتراب کے اغواء کے کیس میں پیش رفت نہیں ہوئی اس معاملے پر جے آئی ٹی بنانے کی تجویز دی ہے دہشتگردی کے 95فیصد واقعات میں ملوث عناصر کا پتا لگا کر کاروائی کی گئی۔
یہ بات انہوں نے ہفتہ کو ڈی آئی جی پولیس آفس کوئٹہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر ایس ایس پی انوسٹی گیشن کوئٹہ جواد طارق ،ایس ایس پی آپریشنز نصیب اللہ خان ،سی آئی اے حکام اور بازیاب بچہ اور اسکا والد بھی انکے ہمراہ تھے۔
ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے کہا کہ 8 اکتوبر کو ارباب کرم خان روڈ سے نامعلوم اغواء کاروں نے آٹھ سالہ ضیاء اللہ کو اغواء کرلیا تھا اور بچے کے والدین سے 15لاکھ تاوان طلب کیا جس کے بعد جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب سی آئی اے کوئٹہ نے ایس پی سی آئی اے شوکت علی کی نگرانی سریاب روڈ کے علاقے فیض آباد میں کاروائی کرتے ہوئے مغوی کو بازیاب کروا کر دو اغواء کاروں عزیز احمد اور محمد ہاشم کو گرفتار کر لیا اور انکے قبضے سے دو ٹی ٹی پستول بمعہ گولیاں ،گاڑی جس میں بچے کو اغواء کیا گیا اور وہ موٹر سائیکل بھی برآمد کی جس پر ملزمان تاوان کے لئے خط بھیجتے تھے۔
اس کے علاوہ ملزمان سے خطوط، افغانی اور پاکستانی موبائل سمز بھی برآمد ہوئیں انہوں نے کہا کہ ملزمان نے گزشتہ دو سالوں میں 6سے زائد اغواء کی وارداتوں کا بھی انکشاف کیا ہے کامیاب کاروائی میں حصہ لینے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کو انعام اور تعریفی اسناد سے نوازا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں ڈی آئی جی عبدالرزاق چیمہ نے کہاکہ مولانا علی محمد ابوتراب کے اغواء کا معاملہ بلائند کیس ہے جس میں پیش رفت نہیں ہوئی ہے تاہم ہم نے معاملے پر حکومت سے جے آئی ٹی بنانے کی تجویز دی ہے تاکہ معاملے پر پیش رفت ہو سکے ۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ آٹھ اگست میں ملوث ایک اور ملزم کو سی ٹی ڈی نے گرفتار اور دوسرے کو ہلاک کردیا ہے اب تک واقع میں ملوث سات دہشتگرد ہلاک اور 2گرفتار ہیں جن سے تفتیش کی روشنی میں مزید کاروائیاں بھی جاری ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کا دہشتگردی کے واقعات میں ڈیٹیکشن ریٹ 95فیصد ہے اگرچہ کچھ وقت لگتا ہے مگر ہم نے تمام واقعات میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔
شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں دہشتگردی کی نئی لہر کا سامنا ہے مگر یہ واقعات پورے خطے میں رونما ہورہے ہیں مگر ہماری ذمہ داری کوئٹہ کی حفاظت ہے جس میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے ہم نے شہر میں دہشتگردوں کے کئی سہولت کار پکڑے ہیں جس سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ حتمی منظوری کے لئے حکومت کے پاس ہے جوں ہی اس پر حکومت فیصلہ کرے گی منصوبہ پر کام شروع ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز فقیر محمد روڈ پر پیش آنے واقع میں پولیس نے مشکوک جان کر ایک شخص کورکنے کا کہا تو اس نے اچانک فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار شہید و زخمی ہوئے ہم مشکوک دکھنے والے شخص پر گولی نہیں چلا سکتے پولیس قوانیں کے مطابق مذکورہ اہلکاروں نے بھی کام کیا واقع میں ملوث ملزم تک پہنچ جائیں گے