کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری ڈپٹی چےئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ جب انصاف کرنے والے خود فریق بن جائے تو ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا ہونا یقینی ہے۔
پارلیمنٹ کے مارچ سے پہلے ختم ہونے کی چہ مگوئیاں ہورہی ہے ایک وزیراعظم رخصت ہو چکا ہے دوسرے کا کچھ پتہ نہیں بیرونی عناصر اندرونی حالات خراب کرنے کے ساتھ ملک کی معیشت بہتر بنانے والے سی پیک کو بھی متنازعہ بنایا جارہا ہے ۔
‘ان خیالات کا اظہار انہوں نے ممتاز قبائلی رہنماء پرنس آغا سلمان کریم احمد زئی ‘سردار اسد شاہوانی اور مولانا اختر محمد پرکانی کے ساتھیوں سمیت جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی‘۔
تقریب سے صوبائی امیر مولانا فیض محمد ‘صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندر خان ایڈووکیٹ ‘ پرنس آغا سلمان کریم احمد زئی ‘صوبائی سالار حافظ ابراہیم لہڑی‘صوبائی ترجمان حاجی جانان آغا ‘سینیٹر مفتی عبدالستار ‘حاجی انور اور دیگر نے بھی خطاب کیا‘ ۔
اس موقع پر سابق سپیکر سید مطیع اللہ آغا‘رکن صوبائی اسمبلی مفتی گلاب کاکڑ‘صوبائی خازن حاجی حسن شیرانی ‘سابق صوبائی وزیر حاجی عبدالواحد صدیقی ‘شہزاد کندن ‘ناصر مسیح اور دیگر بھی موجود تھے‘ ۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ پرنس آغا سلمان احمد زئی اور ان کے ساتھیوں کی شمولیت سے جمعیت علماء اسلام مزید مضبوط ہوگا اور ہمیں انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔
لیکن ان کو یہ باور کراتے ہیں کہ جمعیت علماء اسلام میں شمولیت سے ان کو مشکلات ہونگے لیکن مشکلات کے بعد آسانیاں بھی پیدا ہوگی جس طرح ہمارے آقائے دوجہاں حضرت محمدﷺ سے لیکر صحابہ کرامؓ نے اپنے دور اسلام کی سربلندی کیلئے تکلیفوں کا سامنا کیا اسی طرح ہم بھی میں مشکلات سے دوچار ہے اور آج بھی ہم مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ آج ایک طرف ہمیں شمولیت کرنے پر خوشی ہے اور دوسری طرف پارٹی کے بانی مولانا مفتی محمود جو 37سال قبل ہم سے روحانی طور پر جدا ہوئے اور ان کا انتقال ہوا 14اکتوبر کی مناسب سے پورے ملک میں ان کی خدمات کے طور پر منایا گیا اور گزشتہ روز پوسٹل سروسز محکمہ کی جانب سے ان کے اعزاز میں یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا ۔
انہوں نے کہاکہ مولانا مفتی محمود نے اپنے دور میں مرزائیوں اور قادیانیوں کو غیر مسلم قراردیا لیکن نہ جانے گزشتہ کئی دن قبل پارلیمنٹ سے قادیانیوں کو دوبارہ مقام دینے کیلئے سازشیں بل پاس کیا لیکن اللہ تعالیٰ کی فضل سے اور مولانا فضل الرحمن کی بروقت کارروائی سے اس بل کو واپس اپنی صورت میں بحال کردیا ۔
انہوں نے کہاکہ مفتی محمود کی جدوجہد کی وجہ سے1973کی رو سے قادیادنیوں اور مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیا آج جتنے بھی سازش کرینگے اس وقت بھی مولانا مفتی محمود کے وارث موجود ہے ہماری موجودگی میں یہ لوگ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے انہوں نے کہاکہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔
اس پر ہماری جان قربان ہے بلکہ پاکستان کے عوام خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ختم نبوت کے مسئلے پر تمام اختلافات ختم کرتے ہوئے احتجاج کیلئے تیار ہوئے تھے لیکن پارلیمنٹ سے کامیابی حاصل ہونے کے بعد انہوں نے اپنا احتجاج ختم کیا ۔
انہوں نے کہاکہ آج ملک انتہائی مشکل دور سے گزررہا ہے ایک وزیراعظم کو انصاف کے نام پر فارغ کردیا دوسرے وزیراعظم کیخلاف سازشیں شروع ہے جبکہ وزیر خزانہ کیخلاف کیسز جاری ہے سی پیک جو ہمارے ملک کی معیشت کو سہارا دینے والا واحد پروجیکٹ ہے ان کو بھی متنازعہ بنایا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ شنید میں آیا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ کو بھی مارچ سے قبل فارغ کرنے والا ہے ہم نے 70سال جمہوریت کیلئے جدوجہد کی قوم اور ملک کو فائدہ تو نہیں دیا لیکن نقصان ضرور دیا آج ہمارے نوجوان نسل پوچھتے ہیں ۔
اس بیمارنظام نے ہمیں کیا دیا ہے بلکہ ملک میں سیکولر زم ‘لبریزم اور طرح طرح نظام رائج کرنے کے بھی سازشیں ہورہی ہے ہمارے آئین اسلام اور شریعت کی روح سے انسانی حقوق کی بات ہوتی ہے لیکن یہاں انسانی حقوق کو پامال کیا جارہا ہےْ ۔
انہوں نے کہاکہ جب انصاف کرنیوالے خود فریق بن جاتے ہیں تو ملک میں افراتفری ضرور ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام نے ملک کی استحکام اور وطن عزیز کی حفاظت کیلئے ہر وقت قربانی دی 14اکتوبر کو مستونگ میں شہدا کانفرنس منعقد ہونا تھا لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر موخر کردیا انشاء اللہ شہداء کی خون ضرور رنگ لائیگی‘۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی امیر مولانا فیض محمد نے کہاکہ پارٹی نے عوامی مسائل حل کرنے کیلئے ہمیشہ کوشش کی ہے لیکن ہمارا نعرہ واٹر سپلائی‘سڑکیں نہیں بلکہ اسلامی نظام ہے جو لوگ جمعیت علماء اسلام سے اتفاق کرتے ہیں وہ آکر ہمارے اس نعرے میں ساتھ دیں زندگی کے مسائل اللہ تعالیٰ خود حل کرینگے کیونکہ اسلام کے اندر تمام مسائل کا حل موجود ہے ۔
انہوں نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام میں صرف مسلم نہیں بلکہ اس وقت غیر مسلم افراد بھی ہم سے آگے ہیں اور مخالفین کو جمعیت علماء اسلام میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہاکہ آئے روز شمولیت سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت عوام کی امنگوں کا ترجمان جمعیت علماء اسلام ہے اور انشاء اللہ آنیوالی وقت میں پارٹی عوام کو اکیلے نہیں چھوڑیگی بلکہ ان کے تمام مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی مکمل رہنمائی کرینگے ۔
انہوں نے کہاکہ آج قبالی شخصیات نے جمعیت علماء اسلام میں شامل ہو کر یہ ثابت کردیا کہ غریب عوام کے ساتھ قبائل بھی جمعیت علماء اسلام کا حصہ بن سکتے ہیں اور مجھے امید ہیں کہ جن لوگوں نے شمولیت کی وہ پارٹی پروگرام گھر گھر تک پہنچائینگے‘۔
اس موقع پر احمد زئی قبیلے کے قبائلی رہنماء پرنس آغا سلمان کریم نے جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سوچ اور خادم مستونگ حاجی محمد انور شاہوانی کے مشورے سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی اور صوبائی قیادت کی موجودگی میں شمولیت کا اعلان کرتا ہوں ۔
ان کو یقین دلاتا ہوں کہ ایک کارکن کی حیثیت سے جمعیت علماء اسلام کے قافلے کو مضبوط بناؤنگا‘جبکہ اس موقع پر قاضی شاہ محمد ترین‘محمد سلمان شاہوانی‘مسعود احمد شاہوانی‘محمد اقبال بلوچ‘شاہ جہان شاہوانی‘اسفندیار ترین‘محمد حسن سمالانی‘اسحاق قلندرانی‘اقلیتی برادری کے سنجے کمار‘جے پال داس‘ساگرداس ‘اکشے کمار نے ساتھیوں سمیت جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان کیا۔