|

وقتِ اشاعت :   October 15 – 2017

کوئٹہ :  آئین کو نہ چھیڑیں ہمارا آپ کیساتھ ایک رشتہ آئین کا ہے ورنہ مسلمانی کا رشتہ تو ہمارا افغانستان کیساتھ بھی ہے قومی اسمبلی چیف ایگزیکٹو سیکرٹریٹ اور پی ٹی وی پر حملہ ہوا ابھی تک کوئی انکوائری نہیں ہوئی بے ۔

انصافی سے ملک تو کیا گھر بھی نہیں بسائے جاسکتے جب لیگ آف دی نیشن اقوام متحدہ بنی تھی تو اس وقت دنیا میں ملکوں کی تعداد 60 تھی لیکن آج 192 بن گئی ہے ۔

ان خیالات کا اظہار ایک نجی ٹیلی ویژن کو پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین ممبر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے انٹرویو دیتے ہوئے کہی انہوں نے کہاکہ ہمیں اور افغانستان کے تمام ہمسایوں کو افغانستان کو یہ گارنٹی دینی ہوگی کہ وہ ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور وہاں مداخلت سے باز رہنا ہوگا ۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ فاٹا کے عوام نے کرنا ہے جب دنیا جہاں کے دہشت گردوں کو آپ نے لا کر فاٹا میں جمع کیا اور پھر دنیا کو یہ تاثر دیا کہ فاٹا کے لوگ دہشت گرد ہیں اگر واقعی فاٹا کے لوگ دہشت گرد ہیں تو پھر آپ کی فوج اور پیراملٹری فورسز میں ایک لاکھ سے زائد لوگ کیسے ہیں ایسا نہیں چلے گا ۔

دنیا آزادی کے لئے ریفرنڈم تک کروادیتی ہے اور آپ ایک الگ صوبہ کے لئے ریفرنڈم نہیں ہونے دے رہے پشتون ‘ بلوچ ‘ سندھی ‘ سرائیکی کی مادر وطن اور ان کے وسائل پر پہلا حق ان کے بچوں کا ہوگا ہر قوم کو اس کا اپنا الگ صوبہ اور ان کے وسائل پر اختیارات دینے ہونگے ۔

ہم آج بھی لندن میںیا کسی بھی دوسرے ملک میں گیس کو سوئی گیس کے نام سے پکارتے ہیں لیکن جس بلوچ علاقے سے گیس نکلتی ہے آج بھی وہاں کی غریب عورتیں خس وخاشاک اکٹھے کرکے روٹی پکاتی ہیں یہ کیسا انصاف ہے ہر قوم کو ان کے وسائل پر اختیار دو اور اس کی ہمیں ایک آئینی گارنٹی دو ہم جرگے بناکر ناراض لوگوں کو راضی کرکے لے آئیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ فوج آئین کو نہیں چلنے دینا چاہتی اس لئے نوازشریف کو ہٹایا گیا ان کی مداخلت ہر ضلع کے چھوٹے چھوٹے ججوں اور ڈپٹی کمشنروں تک ہے 126 دن تک پاکستان کی منتخب اسمبلی پر مسلسل حملہ ہوا اس کو آبپارہ سے کنٹرول کیا جارہا تھا اس طرح سے ملک نہیں چلے گا ادھر آپریشن ادھر لڑائی وہاں مداخلت ‘ جس گاؤں میں کتے بھوکتے ہوں وہاں بنجارا بھی نہیں جاتا آپ سی پیک کی بات کررہے ہو ایسے کیسے ہوگا ؟

مجید خان اچکزئی پر آج جھوٹے الزامات اور دہشت گردی کی دفعات لگا کر آپ کہتے ہوکہ محمود خان گھٹنے ٹیکے گا ہم نے صرف ایک خدا کو سجدہ کیا ہے ۔ اس موقع پر انہوں نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا یہ شعر بھی دہرایا ’’وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات‘‘یہ خواب دیکھنا چھوڑ دو ۔

مجید خان اچکزئی کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ میرا بھتیجا ہے اس کا کیس میڈیا پر بھی اچھالا گیا ہم کچھ باتیں چھیڑنا نہیں چاہتے ورنہ یہ کیسا انصاف ہے اسی ملک میں ایک شخص کے گھر میں کم عمر بچی کیساتھ ظلم ہوا وہ آدمی دنوں میں چھوٹ گیا ۔ فاٹا کی تین ایجنسیاں ڈیورنڈ لائن سے پہلے بنی تھیں ایف سی آر وہاں کے لئے نہیں تھا ۔

انہوں نے کہاکہ 1935ء ایکٹ کے تحت فاٹا آزاد ہے اس کو زبردستی چھیڑا جارہا ہے فاٹا کافیصلہ وہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق ہوگا ریفرنڈم کروائیں ۔ ایک سوال کے جواب میں محمودخان اچکزئی نے کہا کہ افغانستان کے تمام پڑوسیوں کو بین الاقوامی ضمانت دینا ہوگی کہ افغانستان ایک آزاد اور خودمختار مملکت ہے ۔

ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ آج بھی ملک میں ایک غریب آدمی کی کیا عزت اور حیثیت ہے وہ کیا چاہتے ہیں صرف دو وقت کی روٹی پرامن اپنے گھر میں چاہتے ہیں ایک وفاقی ‘ جمہوری آئینی نظام ہی اس ملک کو بچا سکتا ہے اور آئین ہی ہمیں متحد رکھ سکتا ہے آج بھی اس ملک میں لاکھوں پشتونوں کے شناختی کارڈ بلاک ہیں 1971ء میں ہم نے غلطی کرکے ملک کو توڑا ۔

قوموں کے درمیان انصاف نہیں ہوگا تو نظام نہیں چل سکتا حتیٰ کہ دو بھائیوں کے درمیان انصاف نہیں ہوگا تو وہ گھر نہیں چل سکتا بہت تجربے کر چکے ہیں بس اب تجربوں کے شوق سے گریز کرنا ہوگا 13 اگست 1947ء کو ہم کون تھے ؟

ایک انسانی گزارے کی زندگی گزارنے کی بنیاد انصاف ہے اورہم ایک پورا ملک بے انصافی کے ساتھ چلارہے ہیں ملک ایسے نہیں چلائے جاتے لوگوں کو اپنا کام کرنے دیں ہر ادارے میں مداخلت اور ڈرانا دھمکانا ٹھیک نہیں ۔