کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی غلام حسین بلوچ اور ان کے گھر پر مسلح افراد کا حملہ بلوچستان کے حالات کو ابتر کرنے اور خاران کے غیور پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کوحراساں کرنے والی قوتوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ۔
بی این پی کے مرکزی صدر سردار اختر جان مینگل اور سابق سینٹر واجہ ثناء بلوچ نے اپنے ایک بیان میں خاران واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قبل بھی خاران کے مخبوط الحواس ایم پی اے نے عوام کو مال دولت لوٹنے کے بعد اب شکست کے خوف سے خاران کے غیور اور معززین کو بندوق اور گولی سے خوفزدہ کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ بی این پی جمہوری اور شرافت کی سیاست پر یقین رکھتا ہے اگر چوری کی دولت سے گھمنڈ میں آ کر دہشت گردی کی آڑ میں خاران فتح کرنا چاہتا ہے تو انہیں اس خوش فہمی سے نکل جانا چاہیئے ورنہ خاران سمیت بلوچستان میں ہر جگہ ان کا جینا حرام کر دیا جائے گا ۔
سردار اختر مینگل نے تمام رہنماؤں کو ہدایت کی کہ وہ پارٹی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ضلعی سطح پر سیکورٹی معاملات کا جائزہ لیں کیونکہ بی این پی نے جمہوری عمل اور عوام میں مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر چند عناصر کارکنوں میں خوف وہراس پھیلانے کی کوششیں کر کے ہمیں آنے والے انتخابات اور جدوجہد سے دور رکھنا چاہتے ہیں
خاران میں پارٹی رہنماء کے گھر پر حملہ حالات خراب کرنے کی کوشش ہے، اخترمینگل
![]()
وقتِ اشاعت : October 20 – 2017