اسلام آباد : وفاقی حکومت اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کے مابین 67 کروڑ روپے کی وصولی پر ایک نیا تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔
بلوچستان حکومت نے ادائیگی کرنے کی بجائے عدالت عالیہ سے وفاقی حکومت کے خلاف حکم امتناعی لے لیا ہے جبکہ عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹسز جاری کرکے مقدمہ کی سماعت قانون کے مطابق شروع کردی ہے۔
مقدمہ کی تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے ذیلی ادارے نیشنل کنسٹرکشن کمپنی نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں واٹر سپلائی سکیم فیز ٹو کا منصوبہ مکمل کیا تھا منصوبہ مکمل کرنے کے بعد وفاقی ادارے نے صوبائی حکومت سے 67 کروڑ روپے وصل کرنے کا خط لکھا جس کے جواب میں صوبائی حکومت نے ادائیگی سے مکمل انکار کردیا ۔
وفاقی سیکرٹری ہاؤسنگ اور چیف سیکرٹری بلوچستان کے مابین بھی اس معاملے پر خط و کتابت ہوتی رہی ہے تاہم صوبائی حکومت نے67 کروڑ روپے ادا کرنے کے بجائے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے۔ اور ادائیگیوں سے مکمل انکاری ہیں جبکہ صوبائی حکومت نے اصل لاگت کی ادائیگی بھی نہیں کی ہے حالانکہ اس منصوبہ کیلئے ایک خاص بجٹ مختص تھا اور یہ منصوبہ سابق وزیراعلیٰ رئیسانی کے دور میں مکمل ہوا تھا۔
وزارت ہاؤسنگ نے عدم ادائیگی کے معاملہ کو اب پارلیمنٹ کی اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کردیا ہے اور رقوم کی وصولی کیلئے کمیٹی چیئرمین کی مدد بھی طل کرے گی آن لائن نے اس حوالے سے حکومت بلوچستان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن دونوں سرکاری ملازمین جواب دینے پر راضی نہیں ہوئے۔
وفاق اور بلوچستان حکومت کے مابین67کروڑ کی وصولی پر تنازعہ کھڑا ہوگیا
![]()
وقتِ اشاعت : October 23 – 2017