|

وقتِ اشاعت :   October 26 – 2017

کوئٹہ: بولان میڈیکل ٹیچنگ ایکشن کمیٹی کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے 4بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں میں3گھنٹے کے طویل ٹوکن ہڑتال کی وجہ سے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے چار بڑے ہسپتالوں جن میں سول ہسپتال ،بولان میڈیکل کالج ہسپتال ،فاطمہ جناح چیسٹ ہسپتال ،ہیلپر آئی ہسپتال میں آج 10ویں روز بھی اوپی ڈیز کی 3گھنٹے طویل ٹوکن ہڑتال جاری رہی جسکی وجہ سے بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے مریضوں کو شدیدمشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

ٹوکن ہڑتال صبح 8بجے سے لیکر دوپہر11بجے تک ہوتی ہے جس کے باعث او پی ڈیز کے سامنے مریضوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں مریضوں نے” آن لائن” سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم در دراز علاقوں سے یہاں آتے ہیں یہاںآنے پر پتہ چلتا ہے کہ اوپی ڈیز بند ہے 3گھنٹے کے ہڑتال کے بعد جب او پی ڈیز کھلتی ہے تو اسے کے 2گھنٹے بعد ڈاکٹرز میسر نہیں ہوتے ڈاکٹرز آئے روز ہڑتال کرتے ہیں ۔

ہمیں پتہ نہیں کہ ان کے مطالبات کیا ہیں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹرز کے مسئلے کو حل کرے یا عوام کے لئے اس کے مترادف کوئی اور انتظام کرے واضح رہے کہ بولان میڈیکل ٹیچنگ ایکشن کمیٹی کے عہدیداروں نے15اکتوبر کو سول ہسپتال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے3گھنٹے طویل ٹوکن ہڑتال کا اعلان کیا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات حل کرنے میں محکمہ صحت سنجیدہ نہیں ہے ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب ہم او پی ڈیز کا بائیکاٹ کرتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے غریب عوام کو تکلیف ہوتی ہے لیکن ہم بھی مجبور ہے ۔