|

وقتِ اشاعت :   October 26 – 2017

کوئٹہ : بلوچستان میں قومی شاہراہوں پر ہو نے ٹریفک حادثات میں جانی نقصان کو کم کر نے کیلئے قومی شاہراہوں پر 14نئے ٹراما سینیٹرز بنا نے کا فیصلہ ،کوئٹہ میں مغربی بائی پاس کو تور ناصران پھاٹک سے ہزار گنجی تک چوڑا کیا جائے گا ،ژوب بائی پاس کو سی پیک کے مغربی روٹ کے تحت 6لین موٹروے بنا یا جائے گا ۔

نیشنل ہا ئی وے اتھارٹی کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلا ت کو پیش کر دہ رپورٹ کے مطابق 22.7کلو میٹر پر مشتمل کوئٹہ کے مغر بی بائی پاس کو تور ناصران ریلوے پھاٹک سے ہزار گنجی تک کے حصے کو چوڑا کیا جا ئے گااس سلسلے میں نیسپاک نے فیزیبلیٹی اور ڈیزائن کا کام مکمل کرلیا ہے اور پی سی – 1کی تیاری کے بعد حکومت کو منظوری کے بعد پیش کیا جائے جس کی منظوری کے بعد منصوبے پر کام شروع ہوجائے گا ۔

نیشنل ہائی وے اتھا رٹی کے ایگزیکٹو بورڈ نے بلوچستان میں 14ایمر جنسی رسپانس ،ٹراما سینٹر ز بنا نے کی بھی منظوری دے ہے یہ سینٹر دھنہ سر،مینہ بازار،قلات،سواب،وڈھ،کراڑو،ناگ،ونگو،ہوشاب،ٍسمیت پانچ دیگر علاقوں میں بنا ئے جائیں گے ۔

اس کے علاوہ ژوب بائی پاس کو سی پیک کے مغربی روٹ کے تحت قومی شاہراہ N-50کے یارک سے ژوب سیکشن شامل کیا گیا ہے جس کے تحت 6لین پر مشتمل موٹر وے بنا یا جائے گا اس ضمن میں ابتدائی مشترکہ سروے مکمل کرکے پی سی (ون) بھی منظور ہو چکا ہے اس سلسلے میں نیشنل ہا ئی وے اتھا رٹی سے 386.52ملین روپے کے فنڈز جاری کر نے بھی درخواست کردی گئی ہے ۔

اس کے علاوہ بلوچستان کے پشین ،برشور ،توبہ روڈ اور خانوزئی سپیرہ غرۂ تا لورالائی روڈ وفاق کے سپر د کر نے سے متعلق کیس کو منظوری کے لئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ایگز یکٹو بورڈ کے پاس بھیج دیا گیا ہے جس کی منظوری کے بعد وفاقی کا بینہ سے حتمی منظوری کے بعد مذکورہ سڑکوں کو نیشنل ہا ئی وے میں شامل کرلیا جائے گا  ۔