|

وقتِ اشاعت :   October 27 – 2017

کوئٹہ:  بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان کی جیلوں میں قید بچوں کے ساتھ جنسی تشدد اور منشیات کا عادی بنا نے کے انکشاف پر اسپیکر نے محکمہ داخلہ وجیل خانہ جات سے تفصیل طلب کر لی ۔

اجلاس میں لیڈا ،مہر گڑھ کے قومی ورثے کے تحفظ اور اےئر پورٹ روڈ کوئٹہ پر اوور سپیڈنگ کی روک تھام سے متعلق قرارداریں منظور کر لی گئیں،بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو 40منٹ کی تاخیر سے اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمیدخان درانی کی صدارت میں شروع ہوا ۔

اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کے پرنس احمد علی نے توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر تعلیم سے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ لسبیلہ ڈسٹرکٹ میں تعمیر پولی ٹیکنک کالج کو ابتک مکمل نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں اور حکومت نے اس بارے میں کیا اقدامات اٹھائے ہیں اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم کی عدم موجودگی کے باعث اسپیکر نے توجہ دلاؤ نوٹس اگلے اجلاس کیلئے موخر کردیا۔ 

اجلاس میں نیشنل پارٹی رکن اسمبلی یاسمین لہڑی نے توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر سماجی بہبود سے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ بلوچستان تحفظ اطفال ایکٹ 17نومبر 2016ء سے نافذ العمل ہوچکا ہے لیکن متعلقہ محکمہ نے مذکورہ ایکٹ کے تحت ابتک قانون سازی واضح نہیں کی ہے اگرایسا ہے تو اسکی وجوہات سے آگاہ کیا جائے۔ 

مشیر برائے اطلاعات سردار رضا محمد بڑیچ نے کہا کہ اسپیکر معا ملے پر رولنگ دیں تاکہ اس پر پیش رفت ہو ،پی اے سی کے چےئر مین مجید خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان قانون سازی کے معا ملے میں دوسرے نمبر پر ہے مگر عملدآمدمیں سب سے پیچھے ہے ۔

بلوچستان کی جیلوں میں 10سے 15سال کے 4ہزاربچے قید ہیں جو کہ قوانین کی خلاف ورزی ہے ، پونے نو ہزار میں سے ساڑھے پانچ ہزار قیدیوں پر 7ATA لگائی گئی ہے ،جمعیت علما ء اسلام کے رکن سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ جیلوں میں 99 فیصد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

جیل میں قید بچوں کو منشیات کا عادی کردیا جاتا ہے جیلوں کی حالت زار پر نوٹس لیا جائے ،جس کے بعد اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی نے دیر سے اور ہاتھ سے جواب تحریر کر کے دینے پر محکمہ سما جی بہبود کی سرزش کی اور نا راضی کا اظہار کیا ۔

انہوں نے رولنگ دی کہ ڈاکٹر عبدالما لک بلوچ کی صدارت میں قائم کمیٹی معا ملے کا جائزہ لے جبکہ سپیکر نے جیلوں کی حالت زار سے متعلق محکمہ داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی ۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیر ریو نیو و ٹرانسپورٹ شیخ جعفر مند وخیل نے کہا کہ رولز آف بزنس پر عملدآمد نہیں ہورہا کبھی سوال کندہ نہیں آتے تو کبھی جواب کندہ جس کی وجہ سے معاملات تا خیر کا شکار ہوتے ہیں اراکین کی عدم دلچسپی سے ایوان کا وقار مجروع ہوتا ہے ۔

جمعیت علما ء اسلام کے رکن سردار عبدالرحمن کھیتران نے اسپیکر کی توجہ آفیشلز گیلری کی طرف مبذول کر واتے ہوئے کہا کہ ساڑھے چار سال سے بار ہاں بولنے کے با وجود آج بھی اجلاس میں سیکر ٹریز اور دیگر حکام مو جود نہیں ہیں ۔

اسپیکر حکام کو اجلاس میں آنے کا پا بند بنائیں جس پر اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ میں خود بھی نوٹ کر رہی ہوں کہ اراکین معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے جو کہ افسوس کی بات ہے اور آج ہی سیکر ٹری اسمبلی کے ذریعے چیف سیکر ٹری کو خط لکھ کر حکام کو کاروائی میں آنے کا پا بند بنا ؤں گی ۔

بعد ازاں اسپیکر نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے بہت سے بل منظور ہوچکے ہیں مگر محکمہ قانون کی طرف سے انکے لئے ابھی بائی لاز بننے ہیں جس پر اسمبلی کی جانب سے انہیں خطوط بھی لکھے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت میں جو کمیٹی قائم کی گئی ہے وہ اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کرے ۔انہوں نے سیکرٹری سماجی بہبود کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس توجہ دلاؤ نوٹس لے حوالے سے معلومات فراہم کریں۔

اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کی رکن اسمبلی ثمینہ خان نے تو جہ دلاؤ نوٹس پر وزیر بلدیات سے پوچھا کہ کوئٹہ میں ہنہ اوڑک ،ہنہ جھیل ،عسکری پارک اور لیاقت پارک جو عوامی سیاحت کیلئے بنائے گئے تھے وہ حکومتی عدم توجہ کے باعث غیر موثر ہوگئے ہیں جس کے باعث عوام کو صحت کے مواقع میسر نہیں اگر یہ درست ہے تو صوبائی حکومت عوام کو سیاحتی مواقع مہیا کرنے اور سیاحتی مراکز کو فعال کرنے کیلئے کیا اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ مجھے توجہ دلاؤ نوٹس کا جو جواب ملا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ ہنہ میں ایک پارک کے قیام کا منصوبہ تھا تاہم اسے پشین منتقل کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں اسوقت صرف بے نظیر بھٹو شہید پارک واقع ہی بہتر حالت میں ہے اور جسے ایک فیملی پارک قراردے سکتے ہیں اسکے علاوہ عوام کے پاس تفریح کے کوئی مواقع نہیں ۔

صوبائی وزیر بلدیات سردار مصطفی خان ترین نے بتایا کہ ہنہ میں ایک پارک کے قیام کی منظوری دی گئی تھی تاہم عدالتی فیصلے پر پارک کو پشین منتقل کردیا گیا ہے کوئٹہ میں پارک کے قیام کیلئے زمین کا حصول ایک مشکل کام ہے اور پھرفنڈز بھی تاخیر سے ملتے ہیں جس کی وجہ سے صوبے کے مختلف شہروں میں پارکوں کے منصوبے زیر التوا ہیں پھر کوئٹہ میں پارک کے لئے زمین بھی دستیاب نہیں ۔

رکن اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہا کہ میں نے بجٹ میں اپنے فنڈز سے اسٹیڈیم کیلئے 10کروڑ روپے مختص کئے ہیں اس کیلئے ایسٹرن بائی پاس پر سرکاری زمین الاٹ کی جائے صوبائی وزیر ریونیو شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اسٹیڈیم کیلئے فنڈز رکھنا خوش آئند ہے اس کیلئے دیکھیں گے کہ کہاں زمین دے سکتے ہیں اسپیکر راحیلہ حمیدخان درانی نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عوام کو تفریح کے مواقع فراہم کریں اوراس کیلئے صوبائی حکومت اقدامات کرے۔ 

اجلاس میں مسلم لیگ(ن )کے رکن اسمبلی پرنس احمد علی نے اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تعمیراتی کاموں میں شیڈول ریٹ نافذ ہونے کے باوجود ترقیاتی کام پریمیم ریٹس پر دیئے جارہے ہیں جوکہ نہ صرف قانوناً بین الاقوامی معیار کے برخلاف ہے بلکہ اسکی وجہ سے معاشی ترقی کا معیار بھی سست روی کا شکار ہے ۔

لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ 1998ء کے ترقیاتی کاموں کے ریٹس تبدیل کرکے نئے ریٹس 2017ء فوری طور پر نافذ کرے اپنی قرارداد پر اظہارخیال کرتے ہوئے پرنس احمدعلی نے کہا کہ 1998ء میں جو ریٹ نافذ کئے گئے وہ آج بھی ہیں جو درست نہیں ہمارے مقابلے میں پنجاب میں ہرسال ریٹ تبدیل ہوتے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں بالکل ایک نیا نظام آیا ہے جسے مارکیٹ ریٹ کہتے ہیں ۔

بلوچستان میں بھی اس طرح تبدیلی کی ضرورت ہے صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ یہ قرارداد اگرچہ بہت اچھی ہے مگر اس میں تکنیکی معاملات کو دیکھنا ہوگا کیونکہ قرار داد کی منظوری سے صرف ریٹ تبدیل ہونگے باقی سسٹم تبدیل نہ ہونے سے صرف حکومتی اخراجات میں اضافہ ہوگا ۔

سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ یہ واقعی ایک ٹیکنیکل مسئلہ ہے اسے کمیٹی کے سپردکیا جائے صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے بھی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی تائید کی اور کہا کہ اس پرجلد بازی نہ کی جائے اوراسے کمیٹی کے حوالے کیا جائے سردارعبدالرحمن کھیتران نے بھی قرارداد کو کمیٹی کے حوالے کرنے کی حمایت کی جس پر اسپیکر نے قرارداد کو کمیٹی کے حوالے کرنے کی رولنگ دیتے ہوئے قرارداد رپورٹ آنے تک موخر کردی ۔

کمیٹی میں محرک کے ساتھ صوبائی وزراء شیخ جعفر خان مندوخیل ،ڈاکٹر حامد خا ن اچکزئی اور رکن اسمبلی سردارعبدالرحمن کھیتران شامل ہونگے۔ اجلاس میں نیشنل پارٹی کی رکن اسمبلی یاسمین لہڑی نے اپنی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہرگڑھ کی تہذیب کا شمار 9ہزارسال قبل مسیح کی انسانی تاریخ کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف بلوچستان کی تہذیب ہے بلکہ بین الاقوامی ورثہ بھی ہے جس کو بے دردی سے تباہ و برباد کیا گیااسکی مثال نہیں ملتی ۔

اسکی حفاظت تحقیق اور پذیرائی کیلئے خصوصی انتظامات کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا جائے کہ یہاں کے عوام صحیح سمت میں ایک مہذب معاشرے کی جانب رواں دواں ہیں اسکے علاوہ صوبے کے دیگرعلاقوں کیچ ،تربت ،تمبو ،چھلگری ،سبی ،کوئٹہ ،بارکھان ،ژوب ،موسیٰ خیل ،لورالائی ،لسبیلہ ،قلعہ سیف اللہ میں بھی تاریخی ورثے موجود ہیں جونہ کہ صوبہ بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے بھی اہم ہیں انکی حفاظت کیلئے محکمہ آثار قدیمہ کو فعال کردار ادا کرنا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ قدیم قیمتی ورثہ مہرگڑھ کی حفاظت ،تحقیق اور پذیرائی کے سلسلے میں خصوصی اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ صوبے کے دیگر علاقوں میں تاریخی ورثے کی حفاظت کیلئے بھی اقدامات کرے۔

انہوں نے اپنی قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں مہذب قومیں اپنی تہذیب ،ثقافت اورآثار قدیمہ کی حفاظت کرتی ہیں اور میوزیم بنائے جاتے ہیں مہرگڑھ ہمارا اثاثہ ہے اسکا تحفظ ضروری ہے اس سلسلے میں اقدامات کئے جائیں۔ 

پشتونخوامیپ کے رکن اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہا کہ ہم جس خطے میں آباد ہیں اسکی ایک طویل تاریخ ہے مگر گزشتہ 70سال میں ہمارے صوبے میں آثار قدیمہ کا تحفظ نہیں کیاگیا جبکہ پوری دنیا میں نہ صرف انکا تحفظ کیا جاتا ہے بلکہ ان سے ٹورازم کے حوالے سے آمدنی بھی ہوتی ہے ۔

انہوں نے زوردیا کہ پورے صوبے میں آثار قدیمہ کا تحفظ کیا جائے۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی مجید خان اچکزئی نے کہا کہ ماضی میں مہرگڑھ پر کام ہوا مگر ایک قبائلی تنازعے کے دوران اسکو بری طرح سے نقصان پہنچا ۔انہوں نے کہا کہ مہذب قومیں اپنے آثارقدیمہ کا تحفظ کرتی ہیں مگر ہمارے یہاں انکو برباد کیا گیا بامیان میں بدھا کے نایاب مجسموں کو تباہ کیا گیا جبکہ دوسری جانب برما میں بدھا کے مجسمے کو دیکھنے کیلئے 50ڈالر کا ٹکٹ لینا پڑتا ہے ہم نے بھی اپنے آثارقدیمہ کا تحفظ کرنا ہوگا۔

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاکہ مہرگڑھ کی تہذیب 9ہزار سال قبل مسیح کی ہے جو سائنس سے ثابت ہوچکی ہے مہرگڑھ پتھر کے زمانے کے اوائل کا ہے جہاں سے ایسی چیزیں برآمد ہوئی ہے جس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے جبکہ بلوچستان اس سے زیادہ قدیم ہے ۔

یہاں پر کروڑو ں سال قدیم ڈینوسارکے فاسلز ڈیرہ بگٹی اور بارکھان سے برآمد ہوئے ہیں مگر بدقسمتی سے ہم اپنے آثار قدیمہ کا تحفظ اور مہرگڑھ سے برآمد ہونے والے نواردات کا تحفظ نہیں کرسکے جو اسوقت اٹلی میں موجود ہیں میں نے اپنے دور میں کوئٹہ میں میوزیم بنانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ 

صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ہم نے اپنے آثارقدیمہ کا تحفظ کرنا ہوگا صوبائی وزیر ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے ورثے ،تہذیب اور تاریخ کو ماضی کے ساتھ زندہ رکھنے کیلئے سب کچھ کرتی ہیں مگر ماضی میں کچھ عناصر نے پشتون قوم کی تاریخ اور تہذیب کو ختم کرنے کی کوشش کی ہم نے اپنے صوبے میں آثارقدیمہ کا تحفظ ہرحال میں کرنا ہوگا۔ 

مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی پرنس احمد علی نے کہا کہ مہرگڑھ سے جونواردات نکلے وہ اسوقت اٹلی میں ہیں اگر بغیر منصوبہ بندی کے انہیں یہاں لایا گیا تو غیر محفوظ ہوجائیں گے محکمہ آثارقدیمہ کو فعال کرنے کی ضرورت ہے اور کوئٹہ میں میوزیم کا قیام ضروری ہے ۔

جمعیت کے رکن اسمبلی سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ قرار داد اہمیت کی حامل ہے پورے صوبے میں آثارقدیمہ اور قدیم تہذیب کے آثارموجود ہیں سبی میں چاکر اعظم کا تاریخی قلعہ موجود ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آثار قدیمہ کے تحفظ کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کرنے اور آثار قدیمہ کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبائی مشیر عبیداللہ بابت نے بھی قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں جہاں بھی آثارقدیمہ موجود ہے انکے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی میرخالد لانگو نے کہا کہ مہذب اورترقی یافتہ قومیں اپنی تہذیب اور تمدن اور آثار قدیمہ کا تحفظ کرتی ہیں دنیا کے مختلف ممالک میں ہزاروں سال قدیم عمارتیں محفوظ کرلی گئیں ہیں جبکہ ہم نے بدقسمتی سے مہرگڑھ کو تباہ کردیا سبی میں چاکراعظم کا قلعہ اور قلات میں خان آف قلات کی میری کھنڈرات میں تبدیل ہوچکی ہے اسکے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ 

صوبائی وزیر نواب محمدخان شاہوانی نے کہاکہ زندہ قومیں اپنی تاریخ ،ثقافت اور آثارقدیمہ کو زندہ رکھتی ہیں ہم نے بھی اس سلسلے میں اپنے عوام میں شعور کو اجاگر کرنا ہوگا اجلاس میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔

اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی ثمینہ خان نے اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ائیر پورٹ تا کوئٹہ شہر گاڑیوں کی اسپیڈ مانیٹر نگ کا کوئی نظام نہیں جس کی وجہ سے آئے روز مذکورہ روڈ پر حادثات رونما ہورہے ہیں ۔

یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ موٹروے پولیس کو ائیرپورٹ تا کوئٹہ شہر سڑک پر اسپیڈ مانیٹرنگ کیلئے سسٹم واضح کرنے کی ہدایت کرے تاکہ ٹریفک حادثات کا سدباب ہوسکے۔

قرارداد پراظہارخیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذکورہ سڑک پراگرچہ حد رفتا رمقرر ہے مگراس پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے حادثات ہورہے ہیں اسکی روک تھام کی جائے پشتونخوامیپ کے رکن اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہا کہ قرارداد اہم ہے تاہم اسمیں ائیر پورٹ روڈ سمیت صوبے کی تمام قومی شاہراہوں کو بھی شامل کیا جائے کیونکہ صرف گزشتہ چھ ماہ کے د وران مختلف قومی شاہراہوں پر صوبے میں سینکڑوں افراد تیز رفتاری کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔

صوبائی وزیرڈاکٹر حامد اچکزئی نے کہا کہ بہتر قرارداد ہے اس میں قومی شاہراہوں کو بھی شامل کیا جائے ۔صوبائی مشیرسردار رضا بڑیچ نے کہا کہ ہماری این ایچ اے حکام سے بات ہوئی ہے انہوں نے یقین دلایا کہ اس سلسلے میں اقدامات کئے جارہے ہیں ۔

صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ قراردادمیں قومی شاہراہوں کو شامل کرنے کی بجائے اسے اسکی اصل شکل میں منظور کیا جائے بعد ازاں ایوان نے قرار داد اصل شکل میں منظور کرلی۔

اجلاس میں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی مجید خان اچکزئی نے اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ لیڈا کا قیام 1982ء میں عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصد صوبے میں صنعتوں کا قیام ان سے آمدن میں اضافہ ،افرادی قوت اور صوبے میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا تھا تاہم مقتدر حلقوں نے صنعت کاروں کے مفاد میں صنعتوں کا قیام تو صوبہ بلوچستان میں کیا تاہم انکے ہیڈکوارٹرز کراچی میں قائم کئے گئے ۔

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے ان صنعتوں سے حاصل کردہ آمدن پر انکم و سیلز ٹیکس کراچی میں جمع کرنے کا قانون بنایا ہے جس سے صوبہ بلوچستان کو مذکورہ صنعتوں کے قیام سے کوئی مالی فائدہ نہیں ہورہا جبکہ سالانہ 140ارب روپے سیلز و انکم ٹیکس کی مد میں سندھ کے اکاؤنٹ میں جمع ہورہے ہیں۔

ہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی مذکورہ شق کو فوری طور پر ختم کرتے ہوئے لیڈا کے تحت حب میں قائم صنعتوں کے زونل دفاتر کو حب منتقل کرنے کا حکم دے تاکہ ان صنعتوں سے حاصل ہونے والی آمدن سے بلوچستان کو فائدہ ہو۔ 

اپنی قرارداد پراظہارخیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کو جب سے صوبے کا درجہ دیا گیاتب سے وفاق نے ہم سے مذاق کیا ہے ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے 18ویں ترمیم کے بعد بھی سیندک معاہدے پر وفاقی حکومت نے دستخط کئے پی پی ایل پر ہماری صوبائی حکومت نے معاہدہ کیامگراس میں مانیٹرنگ اور بقایاجات کا کوئی ذکر نہیں۔ 

نیشنل پارٹی کی رکن اسمبلی یاسمین لہڑی نے کہا کہ اگرچہ صوبے میں روز اول سے نا انصافیاں ہورہی ہیں مرکز سے گلہ کرتے ہیں مگر ہم نے خود صوبے کیلئے کیا کیاہم نے اپنی خامیوں کو بھی دور کرنا ہوگا۔ 

انہوں نے کہا کہ حب میں 300میں سے بمشکل 50صنعتیں ہماری ہونگی باقی باہرسے آنے والوں کی ہیں جو وہاں صرف منافع کمانے آتے ہیں ہم نے اپنے لیبر ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی بہتر بناکر اپنے لوگوں کو ہنرمند بنانا ہوگا۔

مسلم لیگ(ن) کے پرنس احمد علی نے کہا کہ لیڈا کا قیام بلوچستان میں صنعتوں کے فروغ اوراپنے لوگوں کو ملازمت دینے کیلئے قیام عمل میں لایا گیا تھابحیثیت چیئرمین ٹاؤن کمیٹی حب چار سال تک مسلسل لیڈا حکام سے رابطے میں رہا ۔

انہوں نے کہا کہ حب میں صنعتوں کے قیام کیلئے صنعت کاروں کو ٹیکس کی مد میں دس سال کی جب چھوٹ دی گئی تو کراچی کے صنعت کاروں نے وہاں کا رخ کیا اب صورتحال یہ ہے کہ کارخانوں کی زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیمیں بن رہی ہیں معاہدہ ہوا تھا کہ حب کی صنعتوں میں 70فیصد بلو چستان کے لوگوں کو ملازمتیں دی جائیں گی مگرا یسا نہیں ہواچونگی کا نظام ختم ہونے سے ہمیں اب کوئی فائدہ نہیں ۔انہوں نے زوردیا کہ اس سلسلے میں موثر قانون سازی کی جائے۔