|

وقتِ اشاعت :   October 27 – 2017

اسلام آباد :  پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ اتھارٹی لمٹیڈ ( او جی ڈی سی ایل ) حکام کی طرف سے گیس فیلڈز کے لئے ایک ارب 50 کروڑ روپے کی خریداری میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کی انکوائری کرنے کی ذمہ داری سیکرٹری پٹرولیم کو سونپ دی ہے اور رپورٹ ایک ماہ کے اندر طلب کی گئی ہے ۔ 

پی اے سی نے او جی ڈی سی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مجوزہ قواعد کے اندر رہ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور مالی قواعد کی پاسداری کو ہر حال میں یقینی بنائیں کیونکہ اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز بھی مادر پدر آزاد نہیں ہیں ۔ 

وزارت پٹرولیم کے ذیلی ادارہ او جی ڈی سی ایل میں مجوزہ کروڑوں روپے کی مالی بے قاعدگیوں پر آڈٹ اعتراضات ختم کرنے پر پیپلزپارٹی کے نوید قمر کے خلاف محمود اچکزئی اور سردار عاشق گوپانگ سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو گئے ۔ نوید قمر خورشید شاہ کی عدم موجودگی کے باعث اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ نوید قمر نے اراکین کے اعتراضات پر اجلاس کورم کم ہونے کا بہانہ بنا کر موخر کر دیا۔ 

سردار عاشق گوپانگ کا مطالبہ تھا کہ او جی ڈی سی ایل میں گاڑیاں کرایہ پر حاصل کر کے قومی خزانے سے 27 کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کی اعلی تحقیقات ہونی چاہئے جبکہ نوید قمر نے یہ معمالہ او جی ڈی سی ایل کے ڈائریکٹرز کو ریگولرائزڈ کرنے کے لئے بجھوا دیا جس عاشق گوپانگ اجلاس چھوڑ کر کمرہ سے باہر چلے گئے ۔

نوید قمر جب اوچ گیس فیلڈ میں کروڑوں روپے کی کرپشن کے آڈٹ اعتراضات ختم کرنا چاہے تو محمود اچکزئی نے شدید مخالفت کی جس پر اجلاس کم کورم کی نشاندہی پر ختم کر دیا گیا ۔ پی اے سی کا اجلاس سید خورشید شاہ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس مین ہوا ۔ 

اجلاس میں وزارت پٹرولیم کے مالی سال 2016-17 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں محمود اچکزئی ‘ راجہ جاوید اخلاص ‘ عاشق گوپانگ ‘ مصطفے شاہ ‘ اعظم سواتی ‘ نوید قمر ‘ ڈاکٹر عذرا پلیجو نے شرکت کی ۔

اجلاس میں پی اے سی اراکین نے ایک حکم نامہ کے ذریعے وزارت پٹرولیم نے گیس اینڈ آئل فیلڈز کی کارکردگی اور تفصیلات او جی ڈی سی ایل سے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ ایم ڈی او جی ڈی سی ایل نے کہا کہ ختم کئے گئے آئل کنوؤں کے بعد زمین لوگوں کو واپس کر دی ہے ۔

سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ گیس فیلڈز کے 5 کلومیٹر ارد گرد مقیم لوگوں کو گیس فراہمی پر تاحال عمل نہیں ہو سکا اس معاملہ پر کام جاری ہے ۔ گیس کمپنیاں اس ایشو پر اٹھنے والے اخراجات برداشت کرنے پر اب راضی ہوئی ہیں ۔