اسلام آباد: وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی میں طلبہ کو نکالنے کا پرامن اور بہتر حل چاہتے ہیں۔
اداروں کاتقدس مقدم ہے یونیورسٹی انتظامیہ سے ملاقات کی ہے یہاں دس کے لیے نہیں بلکہ چارہزار طلبہ کی بہتری کے لیے آیاہوں اور کہاہے کہ بلوچستان کے موجودہ حالات اور پسماندگی کے پیش نظر مسئلہ حل کرانا چاہتے ہیں ایسا نہ ہواس مسئلے کو کوئی غلط رنگ دے کر ملکی مفاد کے خلا ف استعمال کرنے کی کوشش کرے۔
جمعرات کے روز قائداعظم یونیورسٹی کے دورہ اور وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ، سرفراز بگٹی کا کہنا تھاکہ طلبہ کا معاملہ بلوچستان کے حالات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے یہ بہت حساس مسئلہ ہے ۔
بلوچستان میں اس وقت جو حالات ہیں اس مسئلے کو ملک دشمن قوتیں اپنے مذموم مقاصداور پروپیگنڈ ے کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہاں سے بہت سارے بلوچ طلبا پڑھ کر گئے ہیں ہم قائد اعظم یونیورسٹی کے شکرگزار اور ممنون ہیں۔
فارغ کیے گئے طلبہ کی آئینی بحالی چاہتے ہیں۔ہم ان کا مستقبل محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔امید ہے انتظامیہ اس پر غور کرے گی۔ ان کاکہنا تھاکہ وہ سیاسی مقصد لے کر نہیں آئے۔قبل ازیں رات گئے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری سے اسلام آباد میں بلوچ طلباء رہنماؤں نے ملاقات کی اور قائداعظم یونیورسٹی میں ہونے والے ایشو کے متعلق معلومات فراہم کی۔
ملاقات میں وزیراعلی بلوچستان نے سرفراز بگٹی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی ہے جس میں چیف سیکریٹری بلوچستان ، وزیر تعلیم ،عثمان کاکڑ اور میر کبیر محمد شامل ہیں یہ لوگ وی سی سے ملاقات اور طلبائکے مسائل حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
وزیراعلٰی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے پرامن احتجاج کرنے والے طلباء پر پولیس کی لاٹھی چارج اور انتظامیہ کی بلوچ ، پشتون طلباء کے ساتھ ناانصافی پر سخت ردعمل اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج طلباء کا آئینی حق ہے اور وہ اپنے جمہوری حقوق کے لیے پرامن احتجاج کر رہے ہیں تو ان پربلاوجہ لاٹھی چارج قابل مذمت ہے۔
دوسری جانب لسانی جماعتوں کی آپس میں لڑائی اور دنگا فساد میں ملوث فارغ کیے گئے طلباء کی بحالی کے لیے جمعرات کو بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیااور طلباء نے کراچی ہٹس سے ایڈمن بلاک تک ریلی نکالی ، انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور وزیرداخلہ بلوچستان سے ملاقاتیں کیں اور بحالی کے لیے کردارادا کرنے کی درخواست کی ۔
اس موقع پر طلباء نے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹرجاویداشرف کا کہنا تھا کہ ان کے بس میں ہوتا یہ مسئلہ حل ہوچکاہوتا ،تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں اور طلباء پرامن ہیں اس پر وہ ان طلبا کے شکرگزارہیں۔انہو ں نے کہاکہ طلباء کے مستقبل کا فیصلہ سینڈیکیٹ اجلاس میں ہوگا اور اسی فیصلے پر عمل کیا جائے گا۔