کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کشمیر کمیٹی کے چےئرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جس طرح اسٹیبلشمنٹ اور دیگر ادارے ناگزیر اور قابل احترام ہیں اسی طرح پارلیمنٹ بھی اہم اور قابل احترام ہے جو قوتیں کرپشن میں ملوث نہیں۔
انہیں پیچھے دکھیلا جارہا ہے فکر ہے کہ کیا ہم 2018 کے الیکشن کا منظر دیکھ پاؤں گے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا خون سوال کررہا ہے کہ انسانی حقوق تنظیمیں کہاں ہیں اقوام متحدہ کے ادارے کشمیریوں کے خون کے ذمہ دار ہیں ہمیں مسئلہ کشمیر کو عالمی مسئلہ بنانے کیلئے نریندر مودی کو عالمی دہشت گرد قرار دیکر کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور رہے گا ۔
بھارت اس سلسلے میں ظلم بند کریں مسئلہ کشمیر کا پرا من حل وقت کی اہم ضرورت ہے پاکستان کشمیریوں کی خود ارادت کیلئے ماضی کی طرح آج بھی ان کی ہر قسم حمایت کر رہی ہیں وکلاء عوام کو انصاف فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں ۔
ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے مدر ٹرسیا میموریل سول سوسائٹی کے زیر اہتمام یوم سیاہ کشمیر منانے کے موقع پر بوائز سکاؤٹ اور بلوچستان بار روم میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی تقریب سے ڈپٹی چےئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری ،رکن قومی اسمبلی خلیل جارج بھٹو اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔
انہوں نے کہا کہ 1947 کو 27اکتوبر بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا جو آج دن تک ہم ایسے یوم سیا ہ کے دن کی حیثیت سے مناتے ہیں کشمیریوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز نبے گناہ کشمیریوں پر ظلم کی داستان اب ختم ہو نی چاہئے بہت قربانیاں کشمیر نے دی ہے
70برس کا ظلم کا اختتام چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا پر امن حل وقت کی اہم ضرورت ہے جس طرح کشمیر ی بہن ،بھائیوں پر بے دریغ پائلٹ گنز کا استعمال نہ صرف انسانیت کے منافع ہے بلکہ یہ عمل شرم ناک اور افسوس ناک ہے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردوں کی روشنی کے عین مطابق ہو نا چاہئے ۔
ہمارے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی کشمیر کے بارے میں فرمایا تھا کہ کشمیر ہمارے شہہ رگ ہے آج بھی کشمیر پاکستان کا آڈواج ہے کشمیریوں کی اخلاقی ،انسانی اور سفارتی جماعت ہمیشہ جاری رہے گی ۔
انہوں نے کہاکہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ اقوام متحدہ میں سب سے پرانے تنازعات کشمیر اور فلسطین کے ہیں اور دونوں ہی حل طلب ہیں پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر بات کرنا چاہی لیکن بھارت پاکستان کی تجاویز کو مسترد کرتا رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو کشمیر میں جاری مظالم کے خلاف کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ اکستان، بھارت کی جانب سے انسانی حقوق اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا خون سوال کررہا ہے کہ انسانی حقوق تنظیمیں کہاں ہیں عورتوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کشمیری نوجوانوں کو اندھا کیا جا رہا ہے اقوام متحدہ نے مسلم ممالک کے حقوق کو مغرب کے مقابلے میں اہمیت نہیں دی ، دنیا میں بچوں کے چہروں کی مسکراہٹ کو چھین لیا گیا۔
معصوم بچے مہاجر کیمپوں میں بھیجے گئے اقلیتی رہنماء ایم این اے خلیل جارج نے کہا کہ اقلیتوں نے ہمیشہ کشمیریوں کی حمایت کی ہے اور آج بھی ہم بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہم آج اس کانفرنس کے قرارداد کے مطابق پاکستان میں لینے والی تمام اقلیتوں کی طرف سے یوم سیاہ کشمیر کو مناتے رہیں گے دریں اثناء مولانا فضل الرحمن نے بلوچستان ہائی کورٹ میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اداروں میں تصادم کے متحمل نہیں ہوسکتے، ملک میں اداروں کے درمیان یکجہتی کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں بحران پیدا کم ہوتے ہیں درآمد زیادہ کیاجاتا ہے جبکہ جو قوتیں کرپشن میں ملوث نہیں، انہیں پیچھے دکھیلا جارہا ہے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جس طرح اسٹیبلشمنٹ اور دیگر ادارے ناگزیر اور قابل احترام ہیں اسی طرح پارلیمنٹ بھی اہم اور قابل احترام ہے ۔
ان کا کہان تھا کہ فکر ہے کہ کیا ہم 2018 کے الیکشن کا منظر دیکھ پاؤں گے انہوں نے کہا کہ عدلیہ سمیت تمام ادارے حدود میں رہ کر کردار آدا کریں بلکہ اس سلسلے میں وکلا اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو انصاف فراہم کرنے کے ساتھ اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی صورت میں اپنا کردار ادا کریں اور ایسے ماحول کا روکھتام کریں جس سے جمہورے اور ملک کو خطرہ ہو ۔
اس مو قع پرسینیٹ کے ڈپٹی چےئرمین مولانا عبدالغفور حیدری ،صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندر خان ایڈوکیٹ ،مرکزی جوائنٹ سیکرٹری سید فضل آغا، بلوچستان بار ہائی کورٹ کے صدر شاہ محمد جتوئی ،جنرل سیکرٹری نادر چھلگری ،کوئٹہ با ر ایسوسی ایشن کے صدر کمال خان کاکڑ ،سپریم کورٹ کے سابق صد ر کامران مرتضیٰ ایڈوکیٹ ،قاری رحمت اللہ ایڈوکیٹ سمیت دیگر سنےئر وکلاء بھی موجو دتھے۔