کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے تربت،حب اور نوشکی میں اخباری دفاتر ، نیوز ایجنسی اورکیبل نیٹ ورک کے دفاتر پر ہونے والے دہشت گردانہ کارورائیوں کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ان دہشت گردحملوں میں عام لوگوں کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔
بیان میں کہا گیا کہ انتہاء پسند عناصر کی حالیہ حکمت عملی انتہائی قابل مذمت اقدام ہے جس میں میڈیا سے متعلق افراد کو نشانے پررکھا گیا ہے حالانکہ یہ لوگ دن رات عوام اورسماج میں ہونے والی نا انصافی کے خلاف بہت بڑی آواز ہیں ۔
بیان میں کہا گیا کہ معلومات کی عام لوگوں تک رسائی پر پابندی کسی طور پر بھی انقلابی اقدام نہیں ہوسکتا ہے انتہاء پسند عناصر نے بلوچستان میں جو مہم اخبارات اور میڈیا کے خلاف شروع کی ہے و ہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے میڈیا کے خلاف ہونے والے اقدامات میں عام شہری متاثر ہورہے ہیں ۔
بیان میں کہا گیا کہ تربت اور نوشکی میں ہونے والے دھماکوں میں عام لوگ متاثر ہوئے ہیں اوراخبارات تقسیم کرنے والوں کو جس طرح خوف میں مبتلا کیا گیا ہے اور جس طرح ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے وہ کسی طور پر بھی نہ انقلابی اقدام کہلایا جاسکتا ہے اور نہ یہ جمہوری عمل ہے۔
بیان میں بلوچستان حکومت کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہاگیا کہ حکومتی اداروں کے علم میں یہ بات ہے کہ نیوز ایجنسی اور میڈیا ہاؤسز انڈر تھرٹ ہیں لیکن اسکے باوجود تربت اورنوشکی کے مین چوراہوں پر نیوز ایجنسی اور لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور آزادی کے ساتھ دہشت گرد فرارہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔
بیا ن میں کہا گیا کہ میڈیا ہاؤسز ،اخباری دفاتر اور نیوزایجنسی اورہاکرز کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔