کوئٹہ : اقوام کی قومی سوال کے حل کیلئے نیا عمرانی معاہدہ کیا جائے صوبوں کی از سر نو تشکیل تاریخی ، جغرافیائی، ثقافتی اور لسانی بنیادوں پر کی جائے حکمران جماعتوں کا مردم شماری پر واویلا مضحکہ خیز ہے ڈیرہ غازی خان ، راجن پور ، خان گڑھ بلوچستان کے اٹوٹ انگ ہیں انہیں بلوچستان میں شامل کیا جائے ۔بلوچستان کے پشتون اگر مرضی و منشاء سے خیبرپختونخواء میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں کارکن انتخابات کی تیاریاں شروع کردیں۔
ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء وڈیرہ گلزار کھیتران کے برسی کے مناسبت سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، مرکزی رہنماء ضلعی صدر اختر حسین لانگو ، مرکزی کمیٹی کے ممبر و جنرل سیکرٹری غلام نبی مری ، سردار عمران بنگلزئی ، سردار حق نواز بزدار ، یونس بلوچ ، جمال مینگل ، احمد نواز بلوچ ، میر قاسم پرکانی ، حاجی منور حسین چنگیزی ،ندیم دہوار، سمیع اللہ کاکڑ ، گنیش کمار نے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
اسٹیج سیکرٹری کے فرائض لقمان کاکڑ نے سر انجام دیئے تلاوت کلام پاک سعادت حاجی ریاض مینگل نے حاصل کی مقررین نے خطاب کرتے ہوئے وڈیرہ گلزار کھیتران کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ثابت قدم ہو کر بی این پی کے منشور اور پارٹی کو فعال بنانے میں سیاسی کردار ادا کیا ان کی قربانیاں اور جدوجہد کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا پارٹی کے سامنے رہنماء و کارکنان کی قدر و منزلت بہت زیادہ ہے جو پارٹی کا سرمایہ ہے ۔
ان کی جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جنہوں نے بارکھان اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پارٹی کو مضبوط بنایا مقررین نے کہا کہ نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے قوموں کے قومی سوال کا حل ضروری ہے صوبوں کی از سر نو تشکیل کی جائے تاریخی ، جغرافیائی ، ثقافتی اور لسانی بنیادوں پر ڈیرہ غازی خان ، راجن پور ، خان گڑھ کو بلوچستان میں شامل کیا جائے کیونکہ بلوچ سرزمین کی تاریخی ہزاروں سالوں پر محیط ہے یہ علاقے ہمارے اٹوٹ انگ اور سرزمین بلوچستان کے حصے ہیں ۔
اگر بلوچستان کے پشتون اپنی مرضی و منشاء کے مطابق متحدہ صوبہ خیبرپختونخواء یا کہیں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں بی این پی سی پیک سمیت کسی بھی منصوبے کی مخالف نہیں لیکن یہ امر بھی روز روشن کی طرح عیاں ہونی چاہئے کہ گوادر کے بلوچوں بلوچستانیوں کو نظر انداز کر کے ہمارے وسائل کو لوٹتے ہوئے ایسی ترقی بے معنی ہو گی جس سے گوادر کے بلوچ و بلوچستان کے عوام اس سے محروم ہوں گوادر پورٹ کا اختیار بلوچستان کو دیا جائے ۔
ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ ملیامیٹ نہ ہو اس کیلئے قانونی سازی کی ضرورت ہے گوادر سے شناختی کارڈز ، انتخابی فہرستوں میں ناموں کا اندراج کی ممانعت ہونی چاہئے اس کیلئے قانون سازی کی جائے گوادر کے بلوچ ماہی گیروں کیلئے الگ جی ٹی کا قیام یقینی بنایا جائے ۔
تمام چھوٹی بڑی ملازمتوں پر گوادر ، مکران اور بلوچستان کے عوام کو تعینات کیاجائے گوادر کے عوام پانی کو ترس رہے ہیں عوام کے خدشات و تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ سی پیک کے تمام پیسے اورینج ٹرین اور پنجاب کے منصوبوں پر خرچ ہو رہے ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اولیت گوادر و بلوچستان کے عوام کو دیئے جاتے ۔
یہاں تعلیمی اداروں کے قیام ، انفراسٹرکچر کو ترقی دی جاتی لیکن طویل عرصہ گزرنے کے باوجود گوادر کے عوام آج بھی کسمپرسی ، بے روزگاری ، غربت کا شکار ہیں بحر بلوچ کے بقاء کیلئے بلوچوں نے پرتگالی سامراج کے مقابلہ کیا اور اپنے سرزمین کی حفاظت کی بلوچستان شہیدوں اور غازیوں کا وطن ہے ۔
ہمارے آباؤاجداد نے بلوچ اور بلوچستان کیلئے بے شمار قربانیاں دیں یہ ان کی امانت ہے یہ سرزمین کسی نے ہمیں تحفے میں نہیں دیا ہم سیاست میں تنگ نظری کے مخالف ہیں ترقی پسند اور روشن خیال سیاست کی ہے قائد سردار عطاء اللہ خان مینگل کا وژن ہمیشہ یہ رہا ہے کہ شاؤنسٹ سوچ کی بیخ کنی کی جائے ۔
اسی طرح مذہب کے حوالے سے بلوچ ہمیشہ روادار رہے ہیں بلوچوں کا اقدار رہا ہے کہ ہم رواداری ، برداشت اور باہمی احترام کو اہمیت دیں اسی لئے ہزاروں سالوں سے ہندو بلوچ بلوچستان میں آباد ہیں اور ان کے عبادت گاہوں کی حفاظت اور رسم و رواج کو قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔
اسی طرح مسیحی برادری بھی بلوچ علاقوں میں آباد ہیں ان کو ہمیشہ حیثیت دی جائے تاکہ وہ پرامن طریقے سے بلوچستان میں رہ سکیں آج جو مذہبی جنونیت ، تنگ نظر فرقہ واریت جس میں ہزارہ اقوام کے فرزندوں کی قتل وغارت گری کی جارہی ہے یہ بلوچستان کی روایات نہیں اس سلسلے کو بند ہونا چاہئے ۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت جس کی مرکزی و صوبوں میں حکمرانی ہے اسلام آباد کے قریبی اتحادیوں میں شمار کئے جاتے ہیں اب مردم شماری کے بعد واویلا مضحکہ خیز ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ واویلا افغان مہاجرین کو تحفظ فراہم کیلئے کیا جا رہا ہے۔
اس بات کی کیسے اجازت دی جا سکتی ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں آباد افغان مہاجرین کو ملکی باشندہ تصور کیا جائے عدالت عالیہ کا فیصلہ واضح ہے کہ افغان مہاجرین کو غیر ملکیوں کے کالم میں شامل کیا جائے اب یہ ذمہ داری ہے محکمہ شماریات کی بنتی ہے کہ وہ فوری طور عوام کو افغان مہاجرین کی تعداد سے آگاہ کریں ۔
مقررین نے کہا کہ 57فیصد بلوچ ب فارم سے محروم ہیں نادرا حکام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر موبائل وین کے ذریعے بلوچ علاقوں کے افراد کو ب فارم او رشناختی کارڈز کے اجراء کو یقینی بنانے کیلئے کردار ادا کریں ۔
مقررین نے کہا کہ بی این پی سیاسی قومی جمہوری سوچ پر مبنی جماعت ہے جو سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بلوچ قومی جہد اور اپنے حق حاکمیت و حق ملکیت کی جدوجہد کو عوام کی طاقت سے آگے بڑھا رہی ہے ۔
اس حوالے سے پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے ساتھ قریبی روابط رکھیں اور انتخابات کیلئے تیاریاں کریں نام نہاد قوم پرستوں او رمذہبی جماعتوں نے صرف لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا اور عوام کو کچھ نہیں دیا آج اکیسویں صدی میں عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں ۔