اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سینٹ کوبتایا ہے کہ افغانستان کیساتھ سرحدی انتظام کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔
آمدورفت اور تجارت کو قانونی بنایا جائے گا ٗ باڑ لگانے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، دوسرا اور تیسرا مرحلہ بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا ۔
ٗوفاقی دارالحکومت میں بھٹوں پر بچوں سے جبری مشقت روکیں گے اس حوالے سے چار نئے قوانین بنائے جائیں گے۔ پیر کو سینیٹر طاہر حسین مشہدی اور چوہدری تنویر خان کی تحاریک پر بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کی 50 فیصد جی ڈی پی منشیات کی پیداوار کے گرد گھومتی ہے اور 25 لاکھ افغان شہری پوست کی کاشت سے وابستہ ہیں۔
پاکستان میں پوست کی کاشت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور دنیا بھی اس کو تسلیم کر رہی ہے۔
افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام کے لئے باڑ لگانے اور خندق کھودنے کا عمل جاری ہے ٗاس سلسلے میں بلوچستان میں 473 کلو میٹر طویل بارڈر پر خندق کی کھدائی کر دی گئی ہے۔
سرحد پر آمدورفت کے لئے گیٹس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
دشوار گذار پہاڑی علاقوں کی وجہ سے مشکلات ضرور ہیں لیکن اس سلسلے میں سرحدی انتظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ فاٹا کی موجودہ حیثیت کی وجہ سے بھی ان علاقوں میں ایف آئی اے اور امیگریشن
کے قوانین کا اطلاق نہیں ہو سکتا، 100 فیصد قانونی آمدورفت کو ابھی تک یقینی نہیں بنایا جا سکا۔
باڑ لگانے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، دوسرا اور تیسرا مرحلہ بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا۔
پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے آر پار بسنے والے قبائل کو بھی سہولت فراہم کریں گے تاہم غیر قانونی تجارت اور سمگلنگ سے پاکستان کو نقصان ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں واقع عمارتوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں آئی سی ٹی اور وزارت داخلہ اس طرح کے اقدامات کی ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں اس وقت 34 بھٹے چل رہے ہیں۔ 2013ء میں پہلی مرتبہ سروے کیا گیا اور ان کی رجسٹریشن کا آغاز کیا گیا تاہم اکتوبر 2015ء تک بھٹہ مالکان نے حکم امتناعی لئے رکھا۔ اس وقت 16 بھٹے رجسٹرڈ ہیں اور 10 کی رجسٹریشن کا عمل ہو رہا ہے۔
متعلقہ ادارے بھٹوں کے حوالے سے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پچھلے تین ماہ کے دوران متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی پر پانچ بھٹہ مالکان کو 5 لاکھ 10 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ بھٹوں کے معاملات کو باضابطہ بنانے کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔
پنجاب میں اس سلسلے میں قانون سازی کی گئی ہے۔ مزدوروں کے بچوں کو ہر ماہ دو ہزار روپے الاؤنس اور مفت تعلیم کو یقینی بنایا گیا ہے جبکہ اسلام آباد میں چار نئے قوانین کا مسودہ انتظامیہ تیار کر رہی ہے۔
سینیٹر شیری رحمان کی تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ 2013ء میں وزیراعظم نے پی آئی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور نئے جہازوں کی خریداری کے لئے 16 ارب روپے کا پیکیج دیا لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
جہاز پرانے ہونے کی وجہ سے ویٹ لیز اور ڈرائی لیز پر نئے جہاز لئے گئے۔ 34 جہازوں میں سے اس وقت 13 پی آئی اے کے اپنے جہاز ہیں جبکہ باقی ڈرائی لیز اور ویٹ لیز پر لئے گئے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں پی آئی اے کی کارکردگی کا معاملہ زیر غور آیا تھا۔