|

وقتِ اشاعت :   October 31 – 2017

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل و سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی اور انتظامیہ کی ناروا سلوک اور بلوچ پستون طلباء پر لاٹی چارج اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنانے اور انہیں اذیتیں دینے کی منفی پالیسیوں کی شدید الفاط میں مذمت کی ۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے بلوچستان کے عوام میں احساس محرومی میں اضافہ ہو گا جو کسی بھی صورت درست اقدام گردانہ نہیں جا سکتا ایسے نا انصافیوں سے بلوچستان کے نوجوان اور عوام پہلے ہی پسماندگی، بد حالی اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔

بلوچستان کے نوجوان جو اب علم وآگاہی اور تعلیم کے حوالے سے ان کی یہ کوشش ہے کہ وہ اکیسویں صدی کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے قائداعظم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا مقصد بھی یہی ہے تھا لیکن بلوچستان کے نوجوانوں کے ساتھ ملک دانش گاؤں میں ایسے سلوک روا رکھنے سے مزید قومی نا برابری اور نا انصافیوں جیسے منفی رجحانات میں اضافہ ایک فکری عمل ہو گا ۔

ہماری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو ایک جانب راغب کریں اور ہم اپنے سیاسی پروگرامز میں بھی نوجوانوں سے اکثر یہ کہتے ہیں تعلیم کو حاصل کرنے کی مثبت نتائج برآمد ہونگے اب جبکہ چھوٹے انڈسٹریز میں طلباء کی آپس میں رنجشیں ہو تی ہے لیکن اس کے حل کے لئے کوششیں کی جاتی ہے ۔

جو یونیورسٹی انتظامیہ کے ذمہ داروں میں شامل ہے لیکن کے طلباء جو درپیش مسائل تھے ان کو حل کرنے کی بجائے انتظامیہ اور پولیس کو اختیار دینا کہ انہیں تشدد کا بنایا جنہوں نے بے دردی کیساتھ نوجوانوں کو وحشیانہ میں تشدد کر کے نوجوانوں کے زخموں پر مزید نمک پاشی کی ۔

انہوں نے کہا ہے کہ بی این پی ایک قومی جمہوری جماعت کی حیثیت سے عوام کے جملہ مسائل کی حل کیلئے ہمیشہ مثبت جمہوری اور سوچ وفکر کو اپنا جدوجہد کر تی رہے گی ہم بلوچستان کے نوجوانوں جو اسلام آباد میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے کئے گئے ہیں ۔

ان کے ساتھ ہونیوالی ناانصافیوں پر کبھی خاموش نہیں رہیں گے بلکہ ہر فورم پر آواز بلند کرنے کو ترجیح دینگے تاکہ بلوچ پشتون نوجوان تنہامحسوس نہ کریں اور پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے جب تک ان کے جومطالبات ہے وہ انہیں فور ی طور پر حل کیا جائے تاکہ جو نوجوان علم و آگاہی اور تعلیم حاصل کر نا چا ہتے ہیں ۔

انہیں بہتر مواقع فراہم کئے جائے کیونکہ بلوچستان میں پہلے ہی عوام جن مشکلات اور مصائب کا سامنا کر رہے ہیں اگر کچھ نوجوان معاشی تنگدستی کے باوجود ملک کے دیگر دانش گاہوں ۔

میں علم حاصل کرنے کو ترجیح دے کر ملک کے دیگر تعلیمی اداروں میں درس وتدریس حاصل کرنے کے لئے گئے ہیں تو یونیورسٹی انتظامیہ اور حکمرانوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ ان پر دست شفقت رکھے کر ان کے مطالبات کریں ایسے روش نا قابل برداشت ہے کہ ہمارے مستقبل کے معماروں پر لاٹھی چارج اور ظلم ڈھائے جائیں۔