کوئٹہ : پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ فاٹا کا مسئلہ وہاں کے عوام کے مطابق حل کیا جائے فاٹا کے فیصلے وہاں کے عوام کی مرضی ومنشا کے بغیر نہ کئے جائیں بلکہ انگریز اور فاٹا کے عوام کے درمیان جو معاہدات تھے۔
ان کی روشنی میں کئے جائیں جو کہ بڑے حد تک وہ آزاد اور خود مختار ہیں فاٹا کے ہر فرد کے ساتھ افغانستان اور اس وقت کے بر طانوی ہند دونوں شناخت تھے ۔
پاکستان کو افغانستان کی آزاد اور خود مختار حیثیت ماننی چا ہئے سی پیک اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک افغانستان میں امن بحال نہ ہو ان خیالات کا اظہار پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے ایک غیر ملکی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے صرف چار آرٹیکل فاٹا پر لاگو ہو تے ہیں جبکہ باقی پاکستانیوں پر180 آرٹیکلز لاگو ہیں فاٹا کا پولٹیکل ایجنٹ جرگہ،گورنر اور صدر پاکستان جبکہ پاکستان بننے سے پہلے وائسرائے ہند جو کہ بعد میں یہ عہدہ صدر کا بنا یہ چار آرٹیکلز فاٹا کے ساتھ باند ھتی ہے ۔
اب نئے زمانے کے مطابق فاٹا میں اگر کوئی تبدیلی چا ہتا ہے تو فاٹا کے لوگ اصلاحات اور تبدیلی کے ہر گز خلاف نہیں نہ کوئی پشتون اس کا مخالف ہے لیکن ان چارآرٹیکلز کے اندر اگر آپ چا ہتے ہیں کہ فاٹا کے ہر آدمی کو ووٹ کا حق دیا جائے تو فاٹا کے تمام مرد عورت اسے ماننے کو تیار ہیں جرگہ منتخب کریں ۔
یہی جرگہ ان کے ایجنسی کا جرگہ ہو گا پولٹیکل ایجنٹ اور پولٹیکل سیکرٹری جر گے کے فیصلوں سے گورنر کو آگاہ کرے گا فاٹا کر ہر شخص دو ہری شہریت رکھتا تھا افغانستان بھی فاٹا کے لوگ بغیر پاسپورٹ کے جا سکتے تھے اور یہاں آسکتے تھے وہاں تعلیم اور تجارت کر سکتے تھے ۔
ایک خاص تعلق تھا پاکستان کے ساتھ اب اس آپریشن ضرب عضب اور ان حالات کے بعد فاٹا کے لو گوں کا شناختی کارڈ ختم کیا گیا ہے اور ایک نیا کارڈ( وطن کارڈ) کے نام سے دیا گیا ہے وہاں جو بھی رہنے والا ہے پروفیسر، ریٹائرڈ جرنیل، میجر جنرل ، ڈاکٹر، یا جو بھی ہو ان کے شناختی کارڈ بند کر کے انہیں وطن کارڈ جاری کیا گیا ہے وہاں کی مارکیٹیں گرائی گئیں ۔
گھر مسمار کئے گئے ایک شخص دہشت گرد ہو سکتا تھا سارا قوم تو دہشت گرد نہیں اس جنگ وجدل وبمباری کی حالات میں انضمام کی بات کو فاٹا کے لوگ یوں لیں گے کہ لوگ ہمارے قدرتی وسائل پر قبضہ جمانے کیلئے ایسا کر رہے ہیں ۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کسی صورت انضمام کی حق میں نہیں البتہ فاٹا میں ایک فکر الگ سے موجود ہے کہ اگر مجبوری ہو تو ہم اپنے لئے الگ صوبہ چاہتے تھے وہ فاٹا کے عوام کی بات ہے یہ لوگ جب فاٹا کی کمیٹی بنا رہے تھے ۔
پہلا پیرا ف اس کا یہ تھا کہ فاٹا دنیا جہاں کے دہشت گردوں کے اڈہ میں تبدیل ہو چکا ہے اب خطرہ ہے یہ بذات کود فاٹا کے عوام کو ایک گالی ہے کہ وہ سارے دہشت گرد ہیں اگر ایسا ہے تو پھر آپ نے اسلام آباد میں غیر ملکی سفارتخانوں کے تحفظ کیلئے ملیشیاء کی شکل میں فاٹا کے لوگوں کو کیوں کھڑا کیا ہے فاٹا کو اپنی ایک الگ حیثیت ہے ۔
پاکستان کے ساتھ معاہدے ہیں ان کے ساتھ اپنا ایک نظام ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایف سی آر کو فی الفور ختم کیا جائے ہر آدمی کو ووٹ کا حق دیا جائے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیا ن سرحد متنازعہ ہے کنٹرول لائن، چین اور ہندوستان کے درمیان کنٹرول لائن متنازعہ ہے جس پر دو دفعہ چین اور ہندوستان کی بڑی جنگیں ہوئی اس طرح ڈیورنڈ لائن ہمیں میراث میں ملی ہے اب ہم تینوں ملکوں کو چا ہئے کہ جو بارڈرز ہماری میراث میں ایسے متنازعہ ملی ہیں انہیں پرامن طریقے اور بھائی بندی کے ساتھ مل بیٹھ کر حل کر لیں کہ اختلافات ہو تے ہوئے بھی اچھا تعلق ہو ا۔
شرف غنی آج بھی جب ڈیورنڈ لائن کراس کر تا ہو تو پاسپورٹ پر یہاں آتا ہے ہم یہاں کے لوگ جب افغانستان جا تے ہیں تو پاسپورٹ پر جا تے ہیں اور اسی لکیر سے گزر تے ہیں یہ بھائی چارے اور اچھے تعلقات کی بنیاد پر اس کا حل نکالنا چا ہئے انسانی زندگی کا آپس میں گزارنے کا بنیادی چیز انصاف ہے ۔
انصاف دو بھائیوں کے درمیان نہیں ہوگا تو وہ گھر نہیں چل سکتا کسی گھر میں انصاف تھا تو وہ اچھا گھر ہو گا کسی گاؤں میں انصاف تھا ت وہ گاؤں اچھا ثابت ہو گا اور اگر کسی ملک میں انصاف ہو گا تو وہ ملک اچھا ملک ہوگا اگر انصاف نہیں ہو گا تو زور گیری ، جنگ وجدل ہو گی تو جرمنی اور جاپان جنگ عظیم میں تقسیم ہوئے پابندیاں لگائی گئی جرمنی تقسیم ہو گئی ۔
دنیا دیکھ رہی تھی وہ دیواریں گر گئیں لو گوں کے ساتھ وقت زیادہ ہے تو اپنا ٹائم پاس کریں اپنی مرضی سے ہزاروں کلو میٹر پر باڑ لگانا چا ہئے تو لگا دیں ۔
انہوں نے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم مرکزی حکومت کے حمایتی ہیں لیکن حصہ دار نہیں ہمارا موقف یہ ہے کہ پاکستان میں باقی تمام پاکستانیوں کیلئے شناختی کارڈ کے حصول میں جو شرائط ہ یں وہی پشتونوں کیلئے ہونگے۔