کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی میں صوبا ئی فنا نس کمیشن کے قیام اور صوبے کی شاہراہوں پر بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کے سدباب کے لئے موٹر وے پولیس اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو پابند کرنے سے متعلق قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کرلی گئیں ،ایوان میں مستونگ میں پشتو نخواء ملی عوامی پارٹی کے رکن کے قتل،جیلوں میں اصلا حات اور کوئٹہ شہر میں صفائی کی حالت زار سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش ،وقفہ سوالا ت میں تمام سوالات اگلے سیشن تک موخر کر دئیے گئے ۔
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل کو پچاس منٹ کی تاخیر سے سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی کی زیر صدارت شروع ہوا ۔اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن نصراللہ زیرئے نے توجہ دلاؤ نوٹس دیتے ہوئے کہا کہ 15اکتوبر2017ء کو دن دیہاڑے ڈیڑھ بجے مستونگ بازار کے مین چوک پر پشتونخوا میپ کے رکن عطاء اللہ بڑیچ کو دہشت گردوں نے ٹارگٹ کرکے شہید کیا اگر یہ بات درست ہے تو بتایا جائے کہ حکومت نے قاتلوں کو گرفتار کیا ہے اگر اب تک قاتل گرفتار نہیں ہوئے تو حکومت نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں اس کی تفصیل دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ نواب محمدخان شاہوانی علاقے کے ایم پی اے ہیں اگر وہ چاہیں تو جواب دے سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اب تک کوئی بھی حکومتی نمائندہ عطاء اللہ بڑیچ کے گھر تعزیت یا فاتحہ خوانی کے لئے نہیں گیا حکومتی نمائندہ ہونے کے طور پر نواب محمدخان شاہوانی کو ان کے گھر فاتحہ خوانی کے لئے جانا چاہئے جس پر نواب محمدخان شاہوانی نے کہاکہ علاقے کے ایس پی اور ڈپٹی کمشنر سے اس معاملے پر بات ہوئی ہے وہ تحقیقات کررہے ہیں مستونگ میں پولیس اور لیویز کی نفری بہت کم ہے ۔
وہاں تین ہائی ویز گزرتی ہیں اور زائرین اور وی آئی پی موومنٹ کی وجہ سے شہر کی چیک پوسٹوں پر نفری نہیں ہوتی جس کے لئے لیویز کی نفری طلب کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ شہر میں آئے روز بدامنی کے واقعات رونما نہ ہوں انہوں نے کہا کہ میں آج مستونگ جارہا ہوں اور عطاء اللہ کے گھرجا کر فاتحہ خوانی بھی کرون گا جس کے بعد سپیکر نے وزیر داخلہ کی عدم موجودگی پر توجہ دلاؤ نوٹس کو اگلے سیشن کے لئے موخر کردیا ۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن عبدالمجیدخان اچکزئی نے توجہ دلاؤ نوٹس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ درست ہے کہ صوبہ بلوچستان کی جیلوں کی اصلاحات سے متعلق قائمہ کمیٹی برائے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے سربراہ آغا سید لیاقت کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی کمیٹی نے اپنی پہلی نشست میں جیلوں کی اصلاحات سے متعلق48تجاویز دیں اور ان تمام تجاویز کو تمام محکموں کے سیکرٹری صاحبان کو ان کی آراء کے لئے بھیجے گئے تھے لیکن اب تک اس بارے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا جیل کا قانون1894کا ہے جو کہ دور حاضر کی ضروریات پوری نہیں کرسکتا اور اب تو قیدیوں کو 14اگست ، مذہبی تہواروں کے مواقع پر دی جانے والی معافی بھی ختم کردی گئی ہے جو کہ سراسر ناانصافی کے مترادف ہے جبکہ صوبہ پنجاب خیبرپختونخوا اور سندھ کی حکومتوں نے اپنی جیلوں کی اصلاحات کے بارے میں کافی بہتری لائی ہے بلوچستان کے جیل کے قانون کو بھی صوبہ پنجاب خیبرپختونخ46ا اور سندھ کے قانون کے ساتھ موازنہ کرنا چاہئے تاکہ ہمارے جیلوں کے قانون میں بہتری لائی جائے جاسکی ۔
انہوں نے استفسار کیا کہ حکومت نے اب تک کمیٹی کی طرف سے تجویزہ کردہ48تجاویز پر کتنا کام کیا ہے اور ان تجاویز کو آخری اور عملی شکل دینے کے بارے میں کمیٹی کی دوسری میٹنگ کا انعقاد کب ہوگا یہ بھی بتایا جائے ۔
آغا سید لیاقت نے ایوان کو بتایا کہ قائمہ کمیٹی نے3اگست کو منعقدہ اجلاس میں48تجاویز مرتب کی تھیں اور انہیں محکمہ قانون داخلہ فنانس اور جیل خانہ جات کے پاس بھیجا تھا تاکہ اس پر غور کرکے بتایا جائے کہ ان تجاویز پر کتنا کام ہوسکتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ باربار یاد دہانی کرانے کے باوجود کوئی جواب موصول نہیں ہوا تاہم آج آئی جی جیل خانہ جات نے ایک خط لکھا ہے جس میں ان 48تجاویز کے ساتھ مزید3سفارشات بھی شامل کرکے بھیجی گئی ہیں اس معاملے میں محکمہ داخلہ فنانس اور دیگر محکموں کا بھی کردار ہے ۔
محرک مجیدخان اچکزئی نے کہا کہ ہر روز جیل میں آپریشن ہوتا ہے اورموبائل فون رکھنے پر چھاپے مارے جاتے ہیں پورے ملک کی جیلوں میں پی سی او کی سہولت موجود ہے کوئٹہ جیل میں بھی ایسی سہولت ہونی چاہئے کوئٹہ جیل کی ایک بیرک میں 140قیدی ہوتے ہیں اور ان کے لئے ایک باتھ روم موجود ہے جس میں بھی پانی نہیں آتا جیل میں بی کلاس لینے کا ریٹ 3لاکھ جبکہ تنہائی کے لئے پچاس ہزار روپے مقرر ہے منشیات عام ہوچکی ہیں ۔
اس وقت کوئٹہ جیل میں16سو قیدی ہیں مگر ان کے لئے پانی نہیں ہے پانچ خواتین قیدی پندرہ سال سے زائد عرصے سے قید ہیں قوانین کے مطابق چودہ اگست ، ختم قرآن اور امتحان پاس کرنے پر قیدیوں کو خصوصی رعایت دی جاتی تھی لیکن کوئٹہ جیل میں یہ بھی نہیں دی جاتی جیل میں چار مہینوں سے بارڈر پاس قیدی ہیں ان کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا خضدار گڈانی مچھ جیل میں بھی ایسی ہی صورتحال ہیں ۔
جیل کا ڈاکٹر مریضوں کو دیکھنے نہیں محض چکر لگانے کے لئے جیل آتا ہے کمیٹی کے اگلے اجلاس میں سیکرٹری کو پابند کیا جائے اور وہ اس حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کریں جمعیت العلماء اسلام کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ میں نے جیل اصلاحات پر کچھ کام کیا ہے جیلوں میں قیدیوں کو ملاقات نہیں کرنے دیا جاتا مچھ جیل میں اگر تیس کمرے بنا دیئے جائیں تو قیدی پر سکون رہیں گے ۔
جیلوں میں سہولیات کا بہت زیادہ فقدان ہے جس کے بعد سپیکر نے توجہ دلاؤ نوٹس نمٹانے کی رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ مجلس قائمہ کے اجلاس میں جیلوں کی حالت زار کو ٹھیک کرنے سے متعلق سفارشات پیش کی جائیں اگر اجلاس میں ممبران نہیں آتے تو سیکرٹری اسمبلی ان کی موجودگی کو یقینی بنائیں جبکہ سردار عبدا لرحمان کھیتران اور مجیدخان اچکزئی نے جیل اصلاحات پر کام کیا ہے لہٰذا انہیں کمیٹی میں شامل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر خواتین اور کم عمر قیدیوں کے حوالے سے بھی سفارشات دی جائیں جبکہ آئی جی جیل خانہ جات کو سپیکر چیمبر میں طلب کرکے تفصیل معلوم کی جائے گی ۔کشور احمد جتک کا توجہ دلاؤ نوٹس کوئٹہ شہر میں صفائی ستھرائی کے نظام سے متعلق تھا انہوں نے وزیر بلدیات سے استفسار کیا کہ شہر میں صفائی ستھرائی کا انتظام بالکل تسلی بخش نہیں ہے ۔
کچرہ دان اگر موجود ہوتے ہیں تو انہیں صفائی کا عملہ بروقت ٹھکانے نہیں لگاتا جس کے باعث کوئٹہ شہر جو پہلے منی لندن اور لٹل پیرس کہلاتا تھا اب گندگی کے ڈھیر کا منظر پیش کررہا ہے اگر یہ بات درست ہے تو محکمہ بلدیات کوئٹہ شہر کی صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے کے لئے کیا ارادہ رکھتا ہے اس کی تفصیل دی جائے۔
وزیر بلدیات سردار مصطفی خان ترین نے کہا کہ کوئٹہ میں صفائی کے لئے چین سے مشنری آرہی ہے جس کے پہنچتے ہی کام شروع ہوجائے گا وزیراعلیٰ خود کوئٹہ کی صفائی میں دلچسپی لے رہے ہیں ہم نے چار دن پہلے ہی سمری وزیراعلیٰ کو ارسال کردی ہے جیسے ہی وہ منظوری دیں گے مشینری لانے کا کام شروع ہوجائے گا جبکہ کچرہ ری سائیکل کرنے کے لئے بھی چائنہ کے ساتھ معاہدہ زیر غور ہے جس کے بعد سپیکر نے توجہ دلاؤ نوٹس نمٹانے کی رولنگ دی ۔
نیشنل پارٹی کی ڈاکٹر شمع اسحاق بلوچ کا توجہ دلاؤ نوٹس کوئٹہ میں گداگروں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے متعلق تھا انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت میں اندرون ملک سے آنے والے گداگروں نے کوئٹہ کو اپنا مسکن بنا رکھا ہے اور شہر بھر کے ہوٹلوں تفریحی مقامات شاپنگ پلازوں ریلوے سٹیشن،بس سٹاپس ،مساجد ، ہسپتالوں اور گلی محلوں میں ڈیرے جمالئے ہیں جن میں بڑی تعدا د خواتین و بچوں کی ہے جو ہر آنے جانے والے سے پیسے طلب کرتے ہیں اور جب تک وہ پیسہ نہ دے ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے جبکہ اکثر گلی محلوں میں پھرنے والی خواتین اور بچے موقع ملتے ہی گھروں میں گھس کر چوری بھی کرتے ہیں جس کی بناء پر لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔
اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو تفصیل دی جائے کہ محکمہ سوشل ویلفیئر نے شہر بھر میں ان گداگروں کے خلاف کیاا قدامات اٹھائے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں بیگرز ہوم نہ ہونے کی وجہ سے گداگر مختلف جرائم میں بھی ملوث ہورہے ہیں خصوصا اس سلسلے میں خواتین کا غلط استعمال ہورہا ہے ۔
سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی نے کہا کہ جو جواب متعلقہ محکمے کی طرف سے دیا گیا ہے یہ مجھے بھی سمجھ میں نہیں آرہا اس میں ایک کیس کا ذکر کیا گیا ہے جس پر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو طلب کرکے ان سے تفصیل معلوم کی جائے گی ۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمہ گداگروں کے حوالے سے کام میں تیزی لائے اور اس معاملے کو پہلے سے قائم کمیٹی کے حوالے کرنے کی رولنگ دی اور توجہ دلاؤ نوٹس نمٹادیا گیا ۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن نصراللہ زیرے نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی مختلف قومی شاہراہوں کوئٹہ تا چمن کوئٹہ لورالائی تاڈیرہ غازیخان کوئٹہ تا قلات خضدار تا کراچی کوئٹہ سبی تا جیکب آباد کوئٹہ تا تفتان اور کوئٹہ تا ژوب پر گاڑیوں کی اوور سپیڈمانیٹرنگ سسٹم کا کوئی قانون ہے اور نہ ہی کوئی نظام موجود ہے جس کی وجہ سے روزانہ مختلف جگہوں پر حادثات رونما ہوتے ہیں اور قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں ۔
صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ موٹر وے پولیس اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو پابند کرے کہ وہ ان نیشنل ہائی ویز پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں تاکہ ٹریفنگ مانیٹرنگ سسٹم اور ٹریف حادثات کا سدباب ہوسکے۔
انہوں نے قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی قومی شاہراہوں پر حادثات بڑھتے چلے جارہے ہیں ابھی دو دن قبل قلات کے مقام پر حادثہ ہوا جس میں9افراد جاں بحق ہوئے دنیا بھر میں جس بات پر زور دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہاں لائسنس کا حصول بہت مشکل ہے تربیت کے بعد انہیں لائسنس جاری ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ۔ ایک طرف شاہراہیں جن کی حالت ہمارے سامنے ہے ۔
اوور لوڈ گاڑیاں جب چلیں گی تو روڈ خراب ہوگا ایک مسئلہ اوور سپیڈ کا ہے موٹروے پولیس ، این ایچ اے ، پی ٹی اے ، محکمہ ٹریفک تمام محکموں کا اس میں کردار ہے پرانی گاڑیاں چلتی ہیں جنہیں باقاعدہ سرٹیفکیٹ دیئے جاتے ہیں موٹروے پولیس اپنی ذمہ داری پوری کرے ۔
نیشنل پارٹی کے میر خالد لانگو نے کہا کہ قلات خالق آباد منگچرمیں سورو موڑ کے مقام پر اکثر بڑی گاڑیوں کے بریک تیز رفتاری کے باعث فیل ہوجاتے ہیں ان حادثات میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں میں نے چیئر مین این ایچ اے کو باقاعدہ تحریری طو رپر بھجوایا اور سارا مسئلہ ان کے علم میں ہم بار بار لاتے رہے ہیں مگر آج تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوا ابھی پرسوں پھر ایک حادثہ پیش آیا دو گاڑیاں ٹکرائیں 8افراد جاں بحق ہوئے جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ مرکز میں ہماری بات نہیں سنی جاتی سپیکر چیمبر سے چیئر مین این ایچ اے کو سخت قسم کا مراسلہ لکھتے ہوئے اس مسئلے کوا ٹھایا جائے ۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی سید لیاقت آغا نے قرار داد کو پورے ایوان کی مشترکہ قرار دادمیں تبدیل کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں بڑی شاہراہوں پر ٹریفک کی آمدورفت کے مطابق انہیں چوڑا کیا جاتا ہے اسی طرح ہمارے ہاں صوبے میں بھی تمام شاہراہوں پر حد رفتار مقرر ہے مگر موٹر وے پولیس کا دائرہ کار انتہائی کم ہے جسے پورے صوبے میں بڑھانے کی ضرورت ہے موٹروے پولیس جس طرح باقی تین صوبوں میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کراتی ہے ۔
اسی طرح ہمارے صوبے میں بھی سختی سے عملدرآمد کرائے ضرورت کے مطابق قومی شاہراہوں کو دورویہ بنایا جائے بڑی لائٹس کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے انہوں نے سپیکر سے استدعا کی کہ چیئر مین این ایچ کو یہاں طلب کیا جائے تاکہ وہ یہاں آکر ارکان کے تحفظات سنیں نیشنل پارٹی کے حاجی اسلام بلوچ نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر زیادہ ترحادثات بڑی گاڑیوں کے بڑی ہیڈ لائٹس کی وجہ سے ہورہے ہیں ان کی روشنی اتنی تیز ہوتی ہے کہ سامنے سے آنے والی گاڑیوں کے ڈرائیورز کو کچھ نظر نہیںآ تا انہوں نے زور دیا کہ ایسی لائٹس پر پابندی کو یقینی بنایا جائے ۔
صوبائی وزیر نواب محمدخان شاہوانی نے کہا کہ جب سے ہمارے صوبے میں قومی شاہراہوں کی حالت اچھی ہوئی ہے تب سے مسلسل حادثات رونما ہورہے ہیں قلات اور خالق آباد کے مابین زیادہ واقعات ہورہے ہیں ایک جانب ہماری سڑکیں دو رویہ نہیں ہیں تو دوسری جانب بڑی بڑی ہیڈ لائٹس اناڑی ڈرائیورز کی وجہ سے زیادہ حادثات ہورہے ہیں جن پر قابو پانے کے لئے ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا ۔
مجلس وحدت المسلمین کے سید آغا رضا نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر حادثات کا مسئلہ سنگین ہے جبکہ دوسری جانب شہروں میں موٹر سائیکلوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے ڈبل کی بجائے اب موٹرسائیکل پر تین تین لوگ بیٹھتے ہیں جن سے حادثات ہورہے ہیں ۔
دوسری جانب موٹرسائیکلوں پر پریشر ہارن لگائے گئے ہیں اس حوالے سے بھی اقدامات کئے جائیں ۔صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ صورتحال واقعی تشویشناک ہوچکی ہے اس پر قابو پانے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ قومی شاہراہوں پر مسلسل حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہورہی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گاڑیوں کی فٹنس چیک کرکے سرٹیفکیٹ جاری کئے جاتے تھے مگر اب گاڑیوں کا معائنہ تک نہیں کیا جاتا صرف مقررہ فیس لے کر سرٹیفکیٹس دیئے جارہے ہیں اس حوالے سے بہتری کی ضرورت ہے دوسری جانب گاڑیوں پر بڑی بڑی لائٹس کا مسئلہ واقعی تشویشناک ہے ۔
انہوں نے زور دیا کہ اس حوالے سے محکمہ ٹرانسپورٹ ٹریفک پولیس موٹروے پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں کے بہتر رابطوں سے صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سے بھی بات کی جائے گی اور این ایچ اے حکام سے بات کریں گے کہ قومی شاہراہوں پر جہاں جہاں موڑ تکنیکی اعتبار سے درست نہیں انہیں ٹھیک کیا جائے ۔
سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ واقعی یہ ایک اہم قرارداد ہے آئے رو ز حادثات ہورہے ہیں انہوں نے سیکرٹری اسمبلی کو ہدایت کی کہ اسمبلی سیکرٹریٹ سے این ایچ اے کو خط لکھا جائے اور موٹر وے پولیس سے رابطہ کرکے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا جائے صوبائی حکومت کے تمام متعلقہ ادارے بہتر رابطوں کے ذریعے صورتحال پر قابو پانے کے لئے اقدامات کریں ۔
بعدازاں سپیکر نے قرار داد کو پورے ایوان کی مشترکہ قرار داد میں تبدیل کرنے کے لئے رائے شماری کرائی جس پر ایوان نے متفقہ طور پر قرار داد کو پورے ایوان کی مشترکہ قرار داد کی صورت میں منظور کرلیا ۔
گزشتہ اجلاس میں موخر شدہ قرار داد پیش کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کی رکن یاسمین لہڑی نے کہا کہ 2001ء میں ملک کے دیگر صوبوں میں صوبائی فنانس کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد وسائل کی تقسیم کو ضلعی سطح پر مخصوص فارمولے کے تحت اپنے اپنے صوبوں میں عملدرآمد کرانا اور صوبے کے تمام اضلاع میں لوکل گورنمنٹ کو موثر اور ترقیاتی ٹرانسفرز اور کرنٹ ٹرانسفرز کو یقینی بنانا تھا تاکہ مذکورہ گرانٹ کے ذریعے پورے ضلع کے اندر غربت اور آمدنی کی نابرابری کو کم کرنے اور اقتدار کو نچلی سطح پر منتقل کیا جاسکے۔
اس سلسلے میں ملک کے باقی تمام صوبوں نے صوبائی فنانس کمیشن پر مکمل طو رپر عملدرآمد شروع کردیا ہے جبکہ صوبہ بلوچستان میں صوبائی فنانس کمیشن پر تاحال کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ہے ۔ قرار داد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ صوبے میں فنانس کمیشن کو جلدا زجلد فعال کرکے اضلاع کے مابین وسائل کی مناسب تقسیم کو یقینی بنائے تاکہ غربت میں کمی اور اضلاع کی سطح پر ترقی ممکن ہوسکے۔
قرار داد پر بات کرتے ہوئے چیئر مین پی اے سی مجیدخان اچکزئی نے کہا کہ دوسرے صوبوں میں30سال پہلے کمیشنوں کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے اگر بلوچستان میں فنانس کمیشن بنے گاتو اس سے قانون سازی میں مدد اور مالی تقسیم کار بہتر ہوگی یہ صوبے کے لئے بہترین اقدام ثابت ہوسکتا ہے ۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرے نے کہا کہ خیبرپختونخوا پنجاب اور سندھ اپنا صوبائی فنانس کمیشن بنا چکے ہیں ایوان کو قانون سازی پر بھی توجہ دینی چاہئے اس کمیشن کے قیام سے مالی معاملات اور این ایف سی کے حوالے سے صوبے میں بہتری آئے گی صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ کمیشن ضرور بننا چاہئے ۔
ہمیں سسٹم کو مستحکم کرنے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے قرار داد کو منظور کیا جائے ہم کابینہ میں بھی اسے مکمل سپورٹ کریں گے جس کے بعد ایوان نے قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی اجلاس میں مجلس قائمہ برائے محکمہ سماجی بہبود ترقی نسواں زکوا عشر اوقاف و اقلیتی امور ڈاکٹر شمع اسحاق نے بلوچستان میں امتناع نابالغ بچوں کی شادی کا مسودہ قانون مصدرہ 2017ء مسودہ قانون نمبر 3مصدرہ 2017ء کی بابت مجلس کی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں مزید ایک ماہ کی توسیع کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا ۔
چیئر مین مجلس قائمہ برائے ایس اینڈ جی اے ڈی بین الصوبائی رابطہ قانون و پارلیمانی امور پراسیکیوشن اور انسانی حقوق ولیم جان برکت نے وفاقی حکومت کے افسران کی مراعات و سہولیات بی ایس ایس اور بی سی ایس افسران کے کوٹہ اور جعلی لوکل ڈومیسائل پر وفاقی محکموں میں تعینات اہلکاران و افسران کی بابت مجلس کی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں مزید ایک ماہ کی توسیع کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا ۔
اجلاس میں قائمہ کمیٹی برائے قواعد و انضباط کار استحقاقات انجینئر زمرک خان اچکزئی کی عدم موجودگی پر ان کی جگہ کمیٹی کی رکن سپوژمئی اچکزئی نے مجلس کی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظو رکرلیا ۔
اجلاس میں عوامی مفاد کے نکتے پر بات کرتے ہوئے مجلس وحدت المسلمین کے سید آغا رضا نے کہا کہ حضرت امام حسین اور ان کے رفقاء کے چہلم کے موقع پر ہزاروں لوگ براستہ کوئٹہ تفتان ایران جاتے ہیں مگر اس وقت بھی ہزاروں کی تعداد میں زائرین کوئٹہ میں موجود ہیں
انہیں این او سی جاری نہیں کیا جارہا جس کی وجہ سے زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ایف آئی اے کو بھی تفتان میں عملے کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے بھی معاملات تاخیر کا شکار ہوتے ہیں لہٰذا اس معاملے کو جلدا زجلد حل کیا جائے جس پر سپیکر نے رولنگ دی کہ سیکرٹری اسمبلی سیکرٹری داخلہ بلوچستان کو اس حوالے سے خط لکھ کر ان سے جواب طلب کریں ۔
نکتہ عوامی مفاد پر بات کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کی رکن ڈاکٹر شمع اسحاق نے ایوان کی توجہ بی ایم سی کی کینسر وارڈ کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بی ایم سی کی کینسر وارڈ کی حالت انتہائی خراب ہے آج پوری دنیا میں چھاتی کے سرطان کا عالمی دن منایا جارہا ہے میں بی ایم سی گئی تو وہاں خواتین وارڈ کے باہر بیٹھی تھیں ان کے لئے سہولیات، ڈاکٹرزاور وارڈ نہیں ہے ایک وارڈ جو کہ آرتھوپیڈک وارڈ کی جانب سے دی گئی ہے اس میں خواتین کا علاج ہوتا ہے ۔
لہٰذا اس معاملے پر خصوصی اقدامات کئے جائیں جس پر سپیکر نے رولنگ دی کہ سیکرٹری اسمبلی سیکرٹری صحت بلوچستان کوخط لکھیں گے اورسیکرٹری صحت کو سپیکر چیمبر میں بھی طلب کیاجائے گا سپیکر نے کہا کہ بلوچستان میں کینسربہت تیزی سے بڑھ رہا ہے خدشہ ہے کہ یہ بلوچستان کی سب سے بڑی بیماری نہ بن جائے عالمی دن منانا کینسر کے مریضوں کا درد بانٹنے اوراظہار یکجہتی کا طریقہ ہے لیکن بلوچستان میں اس معاملے پر عملی اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔
جے یوآئی کی شاہدہ رؤف نے عوامی مفاد کے نکتے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا مگر صورتحال یہ ہے کہ سب سے زیادہ مسائل اسی محکمے میں ہیں محکمہ تعلیم کے بعض اقدامات انتہائی حیران کن رہے ہیں جن میں سے ایک گزشتہ دنوں سامنے آیا ہے جس میں موسم سرما کی تعطیلات کم کردی گئی ہیں ہمیں انتہائی خوشی ہوتی اگر سکولوں میں گیس بجلی اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتیں تو شاید ہم یہ کہتے کہ تعطیلات ہی ختم کردی جائیں مگر صورتحال ایسی نہیں ہے ۔
گیس بجلی اور شیشوں سے محروم کھڑکیوں کے ساتھ ماہ دسمبر میں کمروں میں طلبہ و اساتذہ دونوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا دوسری جانب موجودہ حکومت نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے عجلت میں ایک ایکٹ بناچکی ہے جس پر احتجاج کے بعد ایک دوسرا ایکٹ لانے کی یقین دہانی کرائی گئی جس پر محکمہ تعلیم اور نجی تعلیمی ادارے دونوں متفق ہیں مگر اسے ایوان میں نہیں لایا جارہا یہ اہم مسئلہ ہے اسے دیکھا جائے۔
نیشنل پارٹی کی یاسمین لہڑی نے کہا کہ صوبائی وزیر تعلیم نے نجی تعلیمی اداروں کے لئے ایکٹ پر نظر ثانی کی یقین دہانی کرائی تھی مگر آٹھ ماہ سے نہ تو حکومت کی جانب سے اور نہ ہی میری پرائیویٹ بل کو ایوان میں لایا جارہا ہے جس کی وجہ سے نجی سکولوں کی ایسوسی ایشنز احتجاج پر ہیں ۔
سپیکر نے کہا کہ چونکہ وزیرتعلیم آج موجود نہیں ہیں وہ اس سلسلے میں چیمبر میں وزیر تعلیم سے بات کریں گی جہاں تک بل کا تعلق ہے اس پر ارکان کے تحفظات ہیں انہوں نے ارکان کے تحفظات کے معاملے کو متعلقہ مجلس قائمہ کے سپرد کرنے کی رولنگ دی اجلاس میں چیئر مین پی اے سی عبدالمجیدخان اچکزئی نے عوامی مفاد کے نکتے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات دیکھنے میںآ رہی ہے کہ عام نوعیت کے مقدمات میں بھی سیو ن اے ٹی اے سمیت ایسی دفعات شامل کی جارہی ہیں جن میں نہ تو راضی نامہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی ضمانت ملتی ہے ۔
اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھنے اور قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے لہٰذا اس پر وزیر قانون کی قیادت میں کوئی کمیٹی بنائی جائے ، جمعیت العلماء اسلام کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ سیون اے ٹی اے کی تفتیش کے مسئلے پر بھی قانون کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔
16ہزار قیدیوں پر اس کے تحت مقدمات ہیں جس کا مطلب 16ہزار خاندان متاثر ہورہے ہیں ہم نے کبھی کسی مجرم کی نہ تو حمایت کی اور نہ کرتے ہیں ہر مجرم کو سزا ملنی چاہئے مگر کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی بھی نہیں ہونی چاہئے ۔
انہوں نے سپیکر سے استدعا کی کہ اس مسئلے پر جہاں تک ممکن ہوسکے اقدامات کئے جائیں وکلاء سے مشاورت کی جائے اور بہتر لائحہ عمل اختیار کیا جائے سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ واقعی انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس پر غور کی ضرور ت ہے ۔
تاہم سیون اے ٹی اے وفاقی حکومت کا بنایا ہوا قانون ہے جس میں ہماری حکومت یا اسمبلی ترمیم نہیں کرسکتی تاہم اس مسئلے کو مجلس قائمہ برائے داخلہ کے سپرد کیاجارہا ہے ارکان اپنے تحفظات اور تجاویز سے کمیٹی کو آگاہ کریں جو اپنی سفارشات تیار کرے اور پھر انہیں ایوان میں لائیں جس کے بعد ایوان سے ان تجاویز اور تحفظات کو وفاقی حکومت کو بھیجا اوراس سے قانون سازی کے لئے کہا جائے گا بعدازاں اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا ۔